دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

شرکاء فی ثلاث لایفرق بین قصد وقصد [1] اھ۔  وکتبت علیہ۔ اقول :  الاحراز سبب الملك وقدتم لہ فملك ولا ینتقل لغیرہ بمجرد القصد کمن شری غیر مضاف الٰی زید ونیتہ انہ یشتریہ لزید لم یکن لزید۔

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان “ لوگ تین چیزوں میں شریك ہیں “ ایك قصد اور دوسرے قصد میں فرق نہیں کرتا ہے اھ اس پر میں نے لکھا ہے کہ میں کہتا ہوں حاصل کرلینا اسبابِ ملك میں سے ہے اور ملك اس کیلئے تام ہوچکی ہے اور وہ مالك ہوگیا اور یہ ملك دوسرے کی طرف محض قصد کی وجہ سے منتقل نہ ہوگی ، جیسے کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور اس کو زید کی طرف مضاف نہ کرے اور نیت یہ ہو کہ وہ زید کیلئے ہے ، تو وہ زید کیلئے نہ ہوگی۔ (ت)

اسی طرح صورتِ سوم میں بھی کہ تحصیل۱  مباح کیلئے دوسرے کو اپنا نائب ووکیل وخادم ومعین بنانا باطل ہے درمختار کتاب الشرکۃ فصل شرکت فاسدہ میں ہے :

التوکیل فی اخذ المباح لایصح [2]۔

مباح چیز کو لانے کیلئے کسی کو وکیل بنانا درست نہیں ہے۔ (ت)

جامع الصغار فصل کراہیت میں ہے :

الاستخدام فی الاعیان المباحۃ باطل [3]۔

اعیان مباحہ میں استخدام باطل ہے۔ (ت)

فتح القدیر میں ہے :

الشرع جعل سبب ملك المباح سبق الید الیہ فاذا وکلہ بہ فاستولی علیہ سبق ملکہ لہ ملك الموکل [4]۔

شریعت نے مباح اشیاء میں مِلك کا سبب سبقت ید کو بتایا ہے ، تو جب کسی نے اس پر کسی کو وکیل بنایا اور اس نے اس پر استیلاء حاصل کرلیا موکل کی مِلك اس پر ثابت ہوجائیگی تو وکیل مالك ہوجائیگا۔ (ت)

ہندیہ اجارات باب ۱۶ میں قنیہ سے ہے :

قال(۱)نصیر(ھو ابن یحیی)قلت(ای للامام ابی سلیمٰن الجوزجانی رحمھما الله تعالٰی)فان استعان بانسان یحتطب ویصطاد لہ(ای من دون اجر)قال الحطب والصید للعامل وکذا ضربۃ القانص قال استاذنا(وھو البدیع استاذ الزاھدی)وینبغی ان یحفظ ھذا فقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش وقطع الشوك والحاج عـــــہ واتخاذ المجمدۃ فیثبت الملك للاعوان فیھا ولا یعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ اوالاذن فیجب علیھم مثلھا اوقیمتھا وھم لایشعرون لجھلھم وغفلتھم اعاذناالله عن الجھل ووفقنا للعلم

نصیر(ابن یحیٰی نے)کہا ، میں نے کہا(یعنی امام ابو سلیمان الجوزجانی کو)اگر کسی شخص نے لکڑیاں جمع کرنے یا شکار کرنے کیلئے دوسرے شخص کی مدد حاصل کی(یعنی بلا اجر) فرمایا اس صورت میں لکڑیاں اور شکار اُسی کا ہے جس نے کیا ہو ، اور اسی طرح شکاری کا ایك مرتبہ جال ڈال کر شکار نکالنا ، ہمارے استاذ نے فرمایا(یعنی بدیع استاذ الزاہدی) اور اسے یاد کرلینا چاہئے کیونکہ اس میں ہر عام وخاص مبتلا ہے ، لوگ دوسروں سے لکڑیاں جمع کرانے ، کانٹے اکٹھے کرانے اور گھاس جمع کرانے میں مدد لیتے ہیں ، اسی طرح ایك قسم کا درخت منگواتے ہیں یا آسمانی برف جمع کراتے ہیں ، توجو لوگ عملًا یہ کام کرتے ہیں ان پر انہی لوگوں کی مِلك ثابت ہوجائے گی ، لوگ یہ مسئلہ نہیں جانتے ، وہ ان لوگوں سے نہ تو اجازت

 

عـــہ :  الحاج باھمال اولہ واعجام اٰخرہ جمع حاجۃ وھی الشوك وقبل نیت من الحمص وقال ابن سیدہ ضرب من الشوك وقیل شجر وقال ابو حنیفۃ الدینوری الحاج مماتدوم خضرتہ وتذھب عروقہ فی الارض بعیدا یتداوی بطبیخہ ولہ ورق دقاق طوال کانہ مساو للشوك فی الکثرۃ اھ۔ من تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)              

اِلحاج ، حاءِ مہملہ اورجیم کے ساتھ ، جمع حاجہ کی ہے ، کانٹوں کو کہتے ہیں ، ایك قول کے مطابق ترش گھاس ہے۔ ابن سیدہ کے مطابق کانٹوں کی ایك قسم ہے۔ ایك قول کے مطابق درخت ہے۔ اور ابو حنیفہ الدینوری نے فرمایا یہ ایسا درخت ہے جو سدا بہار رہتا ہے اور اُس کی جڑیں زمین میں دور تك چلی جاتی ہیں اس کو ابال کر دوا کے کام میں لایا جاتا ہے ، اس کے پتّے باریك اور لمبے ہوتے ہیں اور کانٹوں کی طرح زیادہ ہوتے ہیں اھ تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

والعمل [5] اھ

اقول :  وقولہ لایعلم الکل بھا اشارۃ الی الجواب عن سؤال وھم انھم اذا اتوا بہ الی المستعین واعطوہ واخذ کان ھبۃ بالتعاطی فاجاب بانہ ھذا یکون لوعلموا ان الملك قدثبت للاعوان فیکون الاعطاء والاخذ ایجاب الھبۃ وقبولھا لکنھم جمیعا عنہ غافلون وانما یحسبون المعونۃ فی کفایۃ المؤنۃ کمن ارسل احد الی دارہ لیحمل منھا کرسیا مثلا یاتیہ بہ۔

اقول :  ھو کما قال لکن(۱)الاذن ثابت لاشك وھم انما ینوون الاخذ لہ ولا یؤدونہ الیہ الا لیتصرف فیہ ولا غصب منہ حتی یجب الضمان۔

فانقلت لایحسبون انفسھم ملاکہ وھو یاخذہ بجعل نفسہ کانہ ھو المستولی علیہ بدء فیتصرف فیہ علی انہ ملکہ فلم یتحقق الاذن لانھم لایدرون انہ لھم وبجعلھم یصیرلہ حتی یاذنوا لہ فی التصرف وانما یظن ویظنون انہ                                           

لیتے ہیں ، اور نہ ہی بطور ہبہ لیتے ہیں اور اِن اشیاء کو خرچ کر بیٹھتے ہیں ، تو ان پر ان کا مثل واجب ہوگا یا قیمت لازم آئے گی ، ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں یا قیمت لازم آئے گی ، ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں اللہ ہمیں جہل سے محفوظ رکھے اور ہمیں علم وعمل کی توفیق دے(آمین)اھ(ت)

میں کہتا ہوں اس کا قول “ لایعلم الکل بھا “ ایك سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کارندے اِن اشیاء کو اُس شخص کے پاس لے آئیں جس نے ان کو جمع کرنیکا حکم دیا ہے تو وہ اسکو دے دیں اور یہ حاصل کرلے تو گویا انکی طرف سے دینا شمار ہوگا اور اس کی طرف سے لینا ہوگا ، اور یہ ہبہ کا ایجاب وقبول شمار ہوگا تو اس کا جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے کہ جب انہیں علم ہو کہ اعوان کیلئے ملك ثابت ہے تو یہ دینا لینا ہبہ کا ایجاب قبول ہوگا لیکن وہ سب کے سب اس سے غافل ہیں ، اور وہ مدد کفایت مؤنت میں سمجھتے ہیں مثلًا کسی شخص نے ایك آدمی کو گھر میں بھیجا کہ وہاں سے کُرسی اٹھا لائے۔ (ت)

 



[1]   فتح القدیر فصل فی شرکۃ فاسدہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۱۰

[2]   الدرالمختار شرکۃ فاسدہ مجتبائی دہلی  ۱ / ۳۷۴

[3]   جامع احکام الصغار مع جامع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۷

[4]   فتح القدیر فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ سکھر ۵ / ۴۱۰

[5]   فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن