دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

کا مالك نہیں ہوسکتا اھ جیسا کہ “ ش “ میں ہے ، یہ اس کے خلاف ہے کہ کوئی شخص ذرّیت پر کسی زمین کی آمدنی وقف کردے ، کیونکہ جب یہ آمدنی ظاہر ہوگی تو ذرّیت اس کی مالك ہوجائے گی ، ذریت میں سے جو اس کے بعد وفات پائے گا اس کی میراث جاری ہوگی ، جیسا کہ کتاب میں آئے گا ، کیونکہ وقف تو زمین ہے اور یہ اس کا “ نماء “ ہے۔ (ت)

فان قلت :  الیس قد تقدم فی وضؤ الکتاب مانصہ مکروھہ الاسراف فیہ الٰی آخر مامر نقلہ اقول : وبالله التوفیق (۱) المراد بہ الماء المسبل بمال الوقف کماء المدارس والمساجد والسقایات التی تملؤ من اوقافھا فان ھذا الماء لایملکہ احد ولا یجوز صرفہ الا الی جھۃ عینھا الواقف وھذا ھو حکم الوقف اما(۲) الماء الذی یسلبہ المرء من ملکہ فلا یصیر وقفا سواء کان فی الحباب اوالجرار اوالحیاض اوالکسقایات انما غایتہ الاباحۃ یتصرف فیھا الناس وھو علی ملکہ فلا تتأتی فیہ مسألۃ کوزا لصبی المذکورۃ ھذاماظھرلی وارجوان یکون ھو الصواب٭ باذن الملك الوھاب٭ ولہ الحمد وعلی حبیبہ الکریم والاٰل والاصحاب ،  صلاۃ             

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کتاب کے وضو کی بحث میں گزرا ہے ، اس وضوء کے مکروہات میں اسراف ہے الٰی آخر مانقلہ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد سبیل کا پانی ہے جو وقف ہو ، جیسا کہ مدارس ، مساجد ، سقایات کا پانی جو ان کے اوقاف کی آمدنی سے بھرا جاتا ہے ، کیونکہ اس پانی کا کوئی مالك نہیں ، اور اس کو فقط اُسی جہت میں صَرف کیا جاسکتا ہے جو اُس کے واقف نے اس کیلئے متعین کی ہے ، اور یہی وقف کا حکم ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنی مِلك سے پانی کی سبیل لگائے تو وہ وقف نہ ہوگی ، خواہ وہ مٹکوں میں ہویا چھوٹے گھڑوں میں یا حوضوں اور سقایوں میں ، کیونکہ اُس سے تو صرف اتنا مقصود ہے کہ پانی مالك کی مِلك میں رہتے ہوئے لوگوں کیلئے مباح کردیا جائے تو اس میں بچّے کے کوزہ کا مذکورہ مسئلہ نہیں چلے گا ، مجھ پر یہی ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہی

وسلام یدومان بلاعدد ولاحساب اٰمین۔

صحیح ہوگا.... (ت)

(۳۰) اقول : یوں ہی مسجد کے سقائے۱  یا حوض جواہلِ جماعتِ مسجد کی طہارت کو بھرے جاتے ہیں اگر مالِ وقف سے بھرے گئے ہوں تو مطلقًا  جب تك ابتدا سے واقف کی اجازت ثابت نہ ہو اور کسی نے اپنی مِلك سے بھروائے ہوں تو بے اس کی اجازت قدیم خواہ جدید کے گھروں میں اُن کا پانی اگرچہ طہارت ہی کیلئے لیجانا روا نہیں طہارت ہوجائیگی مگر گناہ ہوگا اجازت واقف ومالك کی وہی تفصیل ہے جو آبِ سبیل میں گزری والدلیل الدلیل (اور دلیل بھی وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے) جاڑوں۲ میں کہ سقائے گرم کئے جاتے ہیں بعض لوگ گھروں میں پانی لے جاتے ہیں اس میں بہت احتیاط چاہئے کہ غالبًا بے صورتِ جواز واقع ہوتا ہے۔

اماما فی الخانیۃ ثم الھندیۃ من کتاب الشرب یجوز ان یحمل ماء السقایۃ الی بیتہ لیشرب اھلہ اھ۔  فھو فی المعد للشرب بدلیل اٰخرہ وصدرہ اختلفوا فی التوضی بماء السقایۃ جوز بعضھم وقال بعضھم ان کان الماء کثیرا یجوز والا فلا وکذا کل ماء اعد للشرب حتی قالوا فی الحیاض التی اعد للشرب لایجوز فیہ التوضی ویمنع منہ وھو الصحیح ویجوز ان یحمل [1] الخ بناء علی ان الذی (۳) یعد للشرب لایمنع منہ مخدرات الحجال وبالجملۃ لاشك ان المبنی العرف فان (۴) علمنا ان المسبل للشرب خص بہ الواردین ولا یرضی بحملہ الی البیوت لم یجز ذلك قطعا بل لوعلم خصوص فی المارۃ لم یجز لغیرھم من الواردین کما یفعلہ بعض الجھلۃ فی عشرۃ المحرم بسبل                                                                                                                                                                                                                                                                               

پھر خانیہ اور ہندیہ کے کتاب الشرب میں ہے کہ اگر کوئی شخص سقایہ کا پانی اپنے گھر بیوی بچّوں کو پلانے کیلئے لے جائے تو جائز ہے اھ تو اس سے مراد وہ پانی ہے جو خاص پینے ہی کیلئے رکھا گیا ہو ، عبارت کا اوّل وآخر یہی بتاتا ہے۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ “ سقایہ “ کے پانی سے وضوء جائز ہے یا نہیں ، بعض نے جواز کا قول کیا ، اور بعض نے کہا کہ اگر پانی زائد ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم ہر اُس پانی کیلئے ہے جو پینے کیلئے رکھا گیا ہو ، یہاں تك فقہاء نے اُس حوض کی بابت بھی یہی فرمایا ہے جو پینے کیلئے بنایا گیا ہو کر اُس میں وضوء جائز نہیں ، اور اگر کوئی کرے تو اس کو منع کیا جائیگا ، اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ جائز ہے کہ وہ پانی گھر لے جائے الخ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جو پانی پینے کیلئے رکھا جائے اس سے پردہ نشینوں کو محروم نہ رکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اصل دارومدار عُرف پر ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ سبیل کا پانی پینے کیلئے ہے اور وہی لوگ اس سے

الماء والشربۃ لمن مع الضریح المختلق بدعۃ محدثۃ یسموھا تعزیۃ فلا یجوز شربہ لغیرھم وان جعلوہ لمن مع الضریح الفلانی لم یجز لاھل ضریح وغیرہ والله تعالٰی اعلم لاجرم ان قال فی متفرقات کراھیۃ البزازیۃ حمل ماء السقایۃ الی اھلہ ان مادونا للحمل یجوز والالا [2] اھ۔  وھذا عین ماقررت ولله  الحمد۔

استفادہ کرسکیں گے جو اس پر وارد ہوں تو ایسے پانی کو گھر نہیں لے جایا جاسکتا ہے بلالکہ اگر بطور خاص گزرنے والوں کیلئے ہے تو دوسرے وارد ہونے والوں کو اُس کا استعمال جائز نہ ہوگا ، چنانچہ بعض جاہل محرّم کے عشرہ میں پانی یا دُودھ کی سبیل تعزیہ کے ساتھ گزرنے والوں کے لئے بطور خاص لگاتے ہیں ، یہ بدعث محدثہ ہے ، اس کا استعمال دوسروں کو جائز نہیں بلالکہ اگر ایك تعزیہ کے لئے جائز ہے تودوسرے تعزیہ کے شرکاء کو اس کا استعمال جائز نہیں واللہ  تعالٰی اعلم۔ بزازیہ میں ہے (متفرقات کراہیۃ میں) (ت) سِقایہ کا پانی گھر والوں کیلئے لے جانا اگر اُس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں اھ اور یہ بعینہٖ وہی ہے جو میں نے کہا ہے وللہ الحمد (ت)

(۳۱) سفر میں۱ طہارت کو پانی پاس ہے مگر اس سے طہارت کرتا ہے تو اب یا بعد کو یہ یا اور کوئی مسلمان یا اُس جانور اگرچہ وہ کُتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا یا آٹا گوندھنے یا اتنی نجاست پاك کرنے کو جس سے مانع نماز نہ رہے پانی نہ ملے گا تو ان صورتوں میں اُس پانی سے طہارت اگرچہ ہوجائے گی منع ہے بلکہ اپنے یا دُوسرے مسلمان کے ہلاك کا خوف غالب ہو تو سخت حرام ہے ان سب صور میں تیمم کرے اور پانی محفوظ رکھے ہاں۲  جانوروں کی پیاس کیلئے اگر وضو یا غسل کا پانی کس برتن میں رکھ سکتا ہے تو طہارت فرض ہے اور تیمم باطل۔

اقول : یوں۳  ہی اگر طہارت اس طرح ممکن ہو کہ پانی مستعمل نہ ہونے پائے جس کا طریقہ پرنالے وغیرہ میں وضو کرنے کا ہم نے رحب الساحہ میں بیان کیا تو اعذار مذکورہ سے کوئی عذر مبیح تیمم نہ ہوگا اور طہارت فرض ہوگی کمالا یخفی۔ بحرالرائق ودُرمختار میں ہے :

والنظم للدر (من عجز عن استعمال الماء لخوف عدو اوعطش) ولو لکلبہ اورفیق القافلۃ حالا اوماٰلا وکذا لعجین اوازالۃ نجس وقید ابن الکمال عطش

عبارت دُرکی ہے (جو شخص بوجہ خوفِ دشمن یا پیاس پانی کے استعمال سے عاجز ہو) خواہ اپنے کُتّے یا رفیق قافلہ کیلئے ، اب یا آیندہ ، اور اسی طرح آتا گوندھنے کیلئے یا نجاست دور کرنے کیلئے ، اور

دوابہ بتعذر حفظ الغسالۃ لعدم الاناء (تیمم[3]

ابن الکمال نے یہ قید لگائی کہ اس کے جانور پیاسے رہ جائیں گے کہ برتن نہ ہونے کی وجہ سے وہ دھوون کو محفوظ نہیں رکھ سکتا ہے (تو ایسی صورتوں میں وہ تیمم کرے)۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ ولو لکلبہ قیدہ فی البحر والنھر بکلب الماشیۃ والصید ومفادہ انہ لولم کذلك لایعطی ھذا الحکم والظاھر ان کلب الحراسۃ للمنزل مثلھما ط قولہ اورفیق القافلۃ سواء کان رفیقہ المخالط لہ اواٰخر من اھل القافلۃ بحرو عطش دابۃ رفیقہ کعطش دابتہ نوح قولہ حالا اوماٰلا ظرف لعطش اولہ ولرفیق علی التنازع کما قال ح ای الرفیق فی الحال اومن سیحدث لہ قال سیدی عبدالغنی فمن عندہ ماء کثیر فی طریق الحاج



[1]      ہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵ / ۳۹۱

[2]         بزازیۃ الہندیۃ التاسع فی المتفرقات من الکراہیۃ پشاور ۶ / ۳۷۲

[3]               الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن