دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اذھی مما لانتفع بھا مع بقاء عینھا وما استدل بہ فی المنح فی مسألۃ البقرۃ ممنوع بما قلنا اذینتفع بلبنھا وسمنھا مع بقاء عینھا اھ قلت ان الدراھم لاتتعین بالتعیین فھی وانکانت لاینتفع بھا مع بقاء عینھا لکن بدلھا قائم مقامھا لعدم تعینھا فکأنھا باقیۃ ثم قال عن الفتح عن الخلاصۃ عن الانصاری وکان من اصحاب زفر فیمن وقف الدراھم اوما یکال اویوزن ایجوز قال نعم قیل وکیف قال یدفع

الدراھم مضاربۃ ثم یتصدق بھا فی الوجہ الذی وقف [1] اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ ۔

اقول :  ھذا التعلیل من العلامۃ الرملی لمنع وقف الدراھم وجواب المحشی بانھا لاتتعین فکانھا باقیۃ ببقاء بدلھا وما ذکر الامام الانصاری وتبعہ فی الخلاصۃ والفتح والدر وکثیر من الاسفار الغر من طریق الابقاء فی الدراھم والمکیل والموزون ومامر (ای فی ردالمحتار) من ان التأبید معنی شرط صحۃ الوقف بالاتفاق علی الصحیح وقد نص علیہ محققو المشایخ کل ذلك یقضی بان الماء المسبل لایکون وقفا لعدم امکان                   

اس شرط پر وقف کی کہ اس کا دُودھ اور گھی فقراء کے استعمال میں لایا جائے ، تو اگر یہ چیز ان کی عرف میں ہے تو امید ہے کہ جائز ہے (اور دیگ اور جنازہ کی چارپائی) اور جنازہ کی چادریں اور مصحف اور کتابیں ، کیونکہ تعامل کے مقابلالہ میں قیاس کو ترك کر دیا جاتا ہے اھ

 “ ش “ نے کہا کہ رملی نے فرمایا اس کو منقول سے ملانے میں جس میں تعامل ہو اعتراض ہے کہ اس کے عین کے باقی رہتے ہوئے اس سے انتفاع نہیں ہوتا ہے اور گائے کا مسئلہ جس سے منح میں استدلال کیا ہے ناقابلِ تسلیم ہے ، کیونکہ اس کے دودھ اور گھی سے گائے کو باقی رکھتے ہوئے نفع حاصل کیا جاتا ہے اھ میں کہتا ہوں دراہم متعین کردینے سے متعین نہیں ہوتے ہیں ، تو ان کو باقی رکھتے ہوئے اگرچہ ان سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں ، لیکن ان کا بدل ان کے قائم مقام ہے کیونکہ یہ خود متعین نہیں ، تو گویا کہ یہ باقی ہیں۔ پھر فتح سے خلاصہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انصاری جو اصحاب زفر سے تھے ان سے پُوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے دراہم یا کیلی یا وزنی چیز وقف کی تو کیا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اُن سے دریافت کیا گیا کہ اس کی شکل کیا ہوگی؟ تو انہوں نے فرمایا دراہم مضاربت پر کسی کو دے دے پھر اُن کو اُس مقصد پر خرچ کرتا رہے جس کیلئے ان کو صدقہ کیا گیا تھا اھ میں نے ان کی بیان کردہ نص

الانتفاع بہ الا باستھلاکہ فیکون من باب الاباحۃ دون الوقف نعم (۱) السقایۃ بناء تعورف وقفہ کالقنطرۃ فیصح ولا یقال ان فے السقایۃ الموقوفۃ یصیر الماء وقفا (۲) تبعا للسقایۃ وھو جائز وفاقا کما تقدم فے الشرح وذلك لان الماء ھو (۳) المقصود بالسقایۃ وھی تبع فلا یعکس الامر ولای شی تجعل السقایۃ وقفا مقصودا فیتبعہ الماء علا انہ ان تبع تبع مافیھا دون الابدال المتعاورۃ ولیس الماء مما لایتعین حتی یجعل بقاء الابدال بقاء ہ مع (۴) ان لی نظرا فے ھذا العذر فقد افاد ش فی فصل فی التصرف فی المبیع والثمن ان عدم تعین النقد لیس علی اطلاقہ بل ذلك فی المعا [2] وضات الخ وذکر تفصیلا وقع فیہ خلط وخبط من الناسخین نبھت علیہ فیما علقت علیہ وقال (۵)قبلہ  فی البیع الفاسد الدراھم والدنانیر تتعین فی الامانات والھبۃ والصدقۃ والشرکۃ والمضاربۃ والغضب [3] اھ فالوقف اشبہ شیئ بالصدقۃ بل ھو منھا عند الامام ویظھرلے والله تعالٰی اعلم ان النقدین والتجارات نامیات                                               

پر لکھا ہے

اقول : عدم تسلیم کی یہ علت جو رملی نے بیان کی ہے دراہم کے وقف کے ممنوع ہونے کی بابت ہے اور محشی کا یہ جواب دینا کہ دراہم متعین نہیں ہوتے ، تو اپنے بدل کے باقی رہنے کی وجہ سے باقی رہیں گے ، اور جو امام انصاری نے ذکر کیا اور خلاصہ اور فتح اور در اور بہت سی کتب میں اس کی متابعت کی گئی ہے کہ کس طرح دراہم اور مکیل وموزون باقی رہتے ہیں اور جو گزرا (یعنی درمختار میں) یعنی صحت وقف کے شرائط میں سے اس کا ہمیشہ کیلئے ہونا ہے ، یہی صحیح ہے اور اس پر اتفاق ہے اور محققین مشائخ نے اس پر نص کیا ہے ، اور اس تمام بحث کا تقاضا یہی ہے کہ سبیل کا پانی وقف نہیں کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ اس کو ختم کئے بغیر اس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں ، تو یہ اباحت قرار پائے گا نہ کہ وقف ، ہاں سقایہ جو عمارت ہوتی ہے اس کا وقف کرنا متعارف ہوگیا ہے جیسا کہ پُل ہوتا ہے تو یہ صحیح ہے ، اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب سقایہ وقف ہوا تو پانی بھی اس کی متابعت میں وقف ہوگیا ، اور اس پر اتفاق ہے جیسا کہ شرح میں گزرا ، کیونکہ سقایہ میں مقصود تو پانی ہی ہے اور سقایہ تو تابع ہے تو معاملہ برعکس نہیں کیا جائے گا ، اور پھر سقایہ کیونکر وقف مقصود ہوسکتا ہے تاکہ پانی اس کا تابع ہو

شرعا وحسا فبقاؤھا بنماء ھا اذھی الاصل المتولد منہ فتشبہ مالیتھا شجرۃ تبقی فتؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا وکیفما کان لایقاس علیھا الماء وقد عللوا مااذا ملأ صبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لایحل لاحد شربہ بان الصبی ملك مااخذہ من ماء الحوض المباح فاذاصبہ فیہ اختلط ملکہ بہ فامتنع استعمالہ[4]  کما فی الحدیقۃ الندیۃ اخر نوع العشرین من اٰفات اللسان وغمز العیون من احکام الصبیان والطحطاوی من فصل فی الشرب وفی ھذا الکتاب اعنی ش من الفصل المذکور عن ط عن الحموی عن الدرایۃ عن الذخیرۃ والمنیۃ وقد جعلوا ماء الحوض مباحا ولو کان وقفا لم یملکہ الصبی باخذہ فی کوزہ فان (۱) الوقف لایملك وقد عرفہ شمس الائمۃ السرخسی بانہ حبس المملوك عن التملیك عن الغیر [5] اھ کما فی ش بخلاف غلۃ ضیعۃ موقوفۃ علی الذراری فانھم یملکونھا عند ظھورھا فمن مات منھم بعدہ یورث عنہ قسطہ کما یاتی فی الکتاب فان الوقف ھی الضعیفۃ وھذہ نماؤھا۔                                   

علاوہ ازیں یہ کہ اگر پانی تابع ہو بھی تو اسی قدر تابع ہوگا جو سقایہ میں موجود ہے نہ کہ اس کے بدل جو بار بار لوٹ کر آرہے ہیں اس کے تابع ہوں ، اور پانی ایسی چیز نہیں جو متعین نہ ہوتا کہ بدل کے باقی رہنے کو اس کی بقاء قرار دیا جائے۔ مجھے اس عذر پر اعتراض ہے “ ش “ نے “ تصرف فی المبیع والثمن “ کی بحث میں فرمایا کہ نقود کا غیر متعین ہونا مطلق نہیں ، یہ صرف معاوضات میں ہے الخ پھر انہوں نے اس میں ایك تفصیل ذکر کی جس میں ناقلین سے کچھ خلطِ مبحث ہوگیا ، میں نے اس پر جو تعلیقات کی ہیں ان میں اس پر تنبیہ کی ہے ، اور اس سے قبل باب 'بیع فاسد' میں فرمایا : اوردراہم ودنانیر ، امانات ، ہبہ ، صدقہ ، شرکۃ ، مضاربۃ اور غصب میں متعین ہوجاتے ہیں اھ۔ وقف صدقہ سے بہت مشا بہ چیز ہے بلکہ امام کے نزدیك صدقہ ہی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں (والله  تعالٰی اعلم)

کہ سونا چاندی اور تجارتی معاملات شرعًا اور حسانًا نامی چیزیں ہیں تو ان کی بقاء ان کی نماز کے باعث ہوگی ، کیوں کہ ان سے جو چیز متولد ہوتی ہے وہ یہی ہے ، تو ان کی مالیت اُس درخت کی طرح ہوگی جو باقی رہتا ہےاور موسم پر اس کا پھل آتا رہتا ہے اور جو بھی صورت ہو بہرحال اس پر پانی کو قیاس نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر کسی بچّے نے ایك حوض سے پانی کا ایك کوزہ بھرا پھر اس کو اس میں انڈیل دیا ، تو اب اس حوض کا پانی کسی کو پینا جائز نہیں اور اس کی علّت فقہاء نے یہ بیان کی ہے کہ بچّے نے مباح حوض سے جو پانی لیا ، وہ پانی اس کی ملکیت میں آگیا ، اور پھر اُس پانی کو جب اسی حوض میں ڈال دیا تو اس کی ملك اس کے ساتھ مخلوط ہوگئی تو اب اس کا استعمال ممنوع ہوگیا ، حدیقہ ندیہ آفات اللسان ، بیسویں نوع کا آخر۔ غمز العیون ، بچّوں کے احکام۔ طحطاوی ، فصل شرب۔ اور 'ش' میں ، مذکور فصل میں 'ط' سے 'حموی' سے 'درایہ' سے 'ذخیرہ سے' اور منیہ سے ہے کہ فقہاء نے حوض کے پانی کو مباح قرار دیا ہے ، اگر یہ پانی وقف ہوتا تو بچہ اس کو کوزہ میں لینے سے اس کا مالك نہ ہوجاتا ، کیونکہ وقف پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ شمس الائمہ سرخسی نے وقف کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ مملوك کو تملیك سے روکنا ہے ، یعنی غیر اس



[1]               ردالمحتار باب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۱۰

[2]   ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴ / ۱۸۵

[3]   ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴ / ۱۸۵

[4]   الحدیقۃ الندیۃ النوع العشرین من آفات اللسان رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۹

[5]   ردالمحتار کتاب الوقف البابی مصر ۳ / ۳۹۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن