30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کرتا یا سقایہ قدیم ہے اور ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے یا پانی اس درجہ کثیر ہے جس سے ظاہر ہے کہ صرف پینے کو نہیں مگر جبکہ ثابت ہوا کہ اگرچہ کثیر ہے صرف پینے ہی کی اجازت دی ہے فان الصریح یفوق الدلالۃ (کیونکہ صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ ت) اور شخص خاص کے لئے یوں کہ اس میں اور مالك آب میں کمال انبساط واتحاد ہے یہ اُس کے ایسے مال میں جیسا چاہے تصرف کرے اُسے ناگوار نہیں ہوتا۔
لان المعروف کالمشروط کما ھو معروف فی مسائل لاتحصی وفی الھندیۃ عن السراج الوھاج ان کان بینھما انبساط یباح والافلا [1]۔
کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے ، اور یہ چیز بے شمار مسائل میں ہے ، اور ہندیہ میں سراج الوہاج سے ہے کہ اگر ان دونوں کے درمیان بے تکلفّی کا رشتہ ہو تو یہ مباح ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
محیط وتجنیس ووالوالجیہ وخانیہ وبحر ودرمختار میں ہے :
واللفظ لہ الماء المسبل فی الفلاۃ لایمنع التیمّم مالم یکن کثیرا فیعلم انہ للوضوء ایضا قال ویشرب ماللوضوء [2]۔
لفظ درمختار کے ہیں وہ پانی جو جنگل میں سبیل کے طور پر ہو مانع تیمم نہیں تاوقتیکہ کثیر نہ ہو ، اگر کثیر ہو تو معلوم ہوگا کہ یہ وضوء کے لئے بھی ہے۔ نیز فرمایا : جو پانی وضوء کیلئے ہے وہ پیا جائیگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ المسبل ای الموضوع فی الحباب لابناء السبیل قولہ لایمنع التیمّم لانہ لم یوضع للوضوء بل للشرب فلا یجوز الوضوء بہ وان صح قولہ مالم یکن کثیرا قال فی شرح المنیۃ الاولی الاعتبار بالعرف لابالکثرۃ الا اذا اشتبہ [3] اھ کلام ش ۔ اقول : وانت(۱) تعلم ان ماذکر الفقیر
ان کا قول مسبل یعنی وہ پانی جو مٹکوں میں ہو مسافروں کیلئے ، ان کا قول “ لایمنع التیمم “ کیونکہ وہ وضوء کیلئے نہیں رکھا گیا ہے بلالکہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں اگرچہ صحیح ہے ان کا قول مالم یکن کثیرا ، شرح منیہ میں ہے بہتر یہ ہے کہ اعتبار عرف کا ہے نہ کہ کثرۃ کا ، مگر جب مشتبہ ہو اھ کلام ش۔ (ت) میں کہتا ہوں جو کچھ فقیر نے ذکر کیا ہے
اجمع واشمل وانفع واکمل۔
وہ جامع ، مانع ، زیادہ مفید اور مکمل ہے۔ (ت)
تنبیہ : یہ جو شخص خاص کی اجازت صراحۃً خواہ دلالۃً ہم نے ذکر کی اُس حالت میں ہے کہ پانی وقتِ اجازت بھی اجازت دہندہ کی مِلك ہو اور اگر وقف۱ کا پانی ہے تو اس میں نہ کسی کو تغیر کا اختیار نہ کسی کی اجازت کا اعتبار ،
فی البحر ثم الدر من الوضوء مکروھہ الاسراف فیہ لوبماء النھر والمملوك لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ (۲) ماء المدارس فحرام [4] اھ وفی ش عن الحلیۃ لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضوء الوضوء الشرعی ولم یقصد اباحتھا لغیر ذلك [5] اھ وفی ط تحت عبارۃ الدر السابقۃ قولہ المسبل ای الموقوف الذی یوضع علی السبل قولہ مالم یکن کثیرا محل ذلك عنہ عدم التیقن بانہ للمشرب اما اذا تیقن انہ للشرب فیحرم الوضوء لان شرط الواقف کنص الشارع قولہ (۳) وشرب ماللوضوء ظاھرہ وان لم یکن للضرورۃ وفیہ انہ لایلزم مخالفۃ شرط الواقف [6] اھ واشار'ش' الی الجواب عن ھذا بقولہ کأن الفرق ان الشرب اھم لانہ لاحیاء النفوس بخلاف الوضوء لان لہ بدلا فیاذن صاحبہ بالشرب منہ عادۃ [7]اھ
بحر اور دُر کے باب الوضوء میں ہے وضوء میں پانی کا اسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوك پانی ہو ، اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے ، جس میں مدارس کا پانی بھی شامل ہے ، اس کا اسراف عام ہے اھ اور 'ش' میں حلیہ سے منقول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضوء کرنا چاہتے ہیں ، اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے اھ اور 'ط' میں در کی سابقہ عبارت کے تحت فرمایا 'مسبل' وہ پانی جو راستوں میں وقف رکھا جاتا ہے اور اس کے قول مالکم یکن کثیرا اس کے مفہوم یہ ہے کہ جب یہ یقین نہ ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے ، اگر یہ یقین ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو حرام ہے کیونکہ شرط واقف نص شارع کی طرح ہوتی ہے۔ اور ان کا قول “ شرب ماللوضوء “ کا بظاہر یہ مفہوم ہے کہ اگرچہ وہ پانی ضرورت کیلئے نہ ہو ، اور اس میں یہ قباحت ہے کہ اس میں شرط واقف کی مخالفت ہے اھ اور 'ش' نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا ، غالبًااس میں فرق یہ ہے کہ پانی کا پینا اہم ہے کیونکہ اس میں زندگی بچانا ہے جبکہ وضوء میں یہ چیز نہیں ، کیونکہ وضو کا متبادل ہوتا ہے اس لئے مالك عام طور پر پینے کی اجازت دے دیتا ہے اھ (ت)
اقول : ای یکون ذلك منویا عند الوقف بحکم العادۃ فلا یلزم خلاف الشرط ولیس المراد حدوث الاذن الاٰن کما یوھمہ تعبیر یاذن فان الوقف اذا تم خرج عن ملکہ فلا یعمل فیہ اذنہ کما ھو ظاھر (۱) لکن ھھنا تحقیق شریف للعبد الضعیف فی بحث صحۃ وقف الماء لابد من التنبہ لہ قال فی التنویر والدر (و) (۲) صح وقف کل (منقول) قصدا (فیہ تعامل) للناس (کفأس وقدوم) بل (ودراھم(۳) ودنانیر) ومکیل وموزون فیباع ویدفع ثمنہ مضاربۃ اوبضاعۃ فعلی ھذ (۴) لووقف کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذر لہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرك اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ وھکذا جاز خلاصۃ (۵) وفیھا وقف بقرۃ علی ان ماخرج من لبنھا اوسمنھا للفقراء ان اعتادوا ذلك رجوت ان یجوز (۶) (وقدر وجنازۃ) وثیابھا ومصحف وکتب لان التعامل یترك بہ القیاس [8] اھ
قال ش قال الرملی لکن فی الحاقھا بمنقول فیہ تعامل نظر
میں کہتا ہوں ، یعنی یہ چیز عادۃً وقف کے وقت واقف کی نیت میں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں شرط واقف کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی ، یہ مراد نہیں کہ اب اجازت دی ہے ، جیسا کہ “ یاذن “ کے لفظوں سے ظاہر ہے ، کیونکہ وقف جب مکمل ہوجاتا ہے تو ملك واقف سے نکل جاتا ہے تو اس کی اجازت کا کوئی اثر نہ ہوگا ، جیسا کہ ظاہر ہے میں نے پانی کے وقف کے سلسلہ میں ایك تحقیق کی ہے ، اس کا جاننا ضروری ہے ، تنویر اور دُر میں فرمایا (اور) صحیح ہے وقف ہر (منقول کا) قصدا جس میں لوگوں کا تعامل ہو (جیسے پھاؤڑا اور کلھاڑی) بلالکہ (دراہم ودنانیر کا) اور ناپ تول والی چیز کا ، تو اس کو بیچا جائے گا اور اس کی قیمت بطور مضاربت دی جائے گی یا بطور سامان۔ اس بنا پر اگر کسی شخص نے ایك بوری غلّہ اس شرط پر وقف کیا کہ یہ ایك شخص کو قرض دیا جائے جو اپنے لئے کاشت کرتا ہو ، اور جب اس کی کھیتی پك جائے تو اُس سے یہ مقدار واپس لے لی جائے اور کسی دوسرے کو قرض دے دیا جائے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو یہ جائز ہے ، خلاصہ اسی کتاب میں ہے کہ اگر کسی شخص نے ایك گائے
[1] سراج الوہاج
[2] الدرالمختار باب التمیم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
[3] ردالمحتار باب التمیم مصر ۱ / ۱۸۵
[4] الدرالمختار مکروہات الوضوء مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
[5] ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی ا لبابی مصر ۱ / ۹۸
[6] طحطاوی علی الدر باب التمیم بیروت ۱ / ۱۲۳
[7] ردالمحتار باب التمیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۵
[8] الدرالمختار باب الوقف مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع