30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والحسن کراھۃ فضلھا مطلقًا [1] اھ۔ واذ احملنا المنفیۃ علی کراھۃ التحریم لم یناف ثبوت کراھۃ التنزیہ وکیفما(۱) کان فما فی السراج غریب جدا ولم یستند لمعتمد وخالف المعتمدات ونقول الثقات ولا یظھر لہ وجہ وقد قال(۲) فی کشف الظنون السراج الوھاج عدہ المولی المعروف ببرکلی جملۃ الکتب المتداولۃ الضعیفۃ غیر المعتبرۃ اھ۔ قال چلپی ثم اختصر ھذا الشرح وسماہ الجوھر النیر [2] اھ۔
اقول : بل الجوھرۃ النیرۃ وھی من
تو کوئی منافاۃ نہیں ، اس پہلے باب میں فرمایا کہ ایك جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ عزیمۃ تھی اور یہ رخصۃ ہے اھ اور اشعۃ اللمعات میں اسی پر جزم کیا ہے عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے عورت کا بچے ہوئے پانی سے امام شافعی کے نزدیك مرد کیلئے وضو جائز ہے خواہ اُس عورت نے اس سے خلوت کی ہو یا نہ کی ہو بغوی وغیرہ نے فرمایا تو اس میں کراہت نہیں ہے کہ صحیح احادیث اس بارے میں موجود ہیں یہی قول مالک ، ابو حنیفہ اور جمہور علماء کا ہے ، اور احمد اور ابو داوٗد نے فرمایا کہ جب عورت اس پانی کے ساتھ خلوت کرے تو جائز نہیں ، یہ قول عبداللہ بن سرجس اور حسن بصری سے منقول ہے ، اور احمد کی ایك روایت مذہب ابی حنیفہ کے مطابق ہے ، اور ابن المسبّب اور حسن سے اس بچے ہوئے کی کہ کراہت مطلقًا منقول ہے اھ اور اگر ہم منفی کو کراہتِ تحریم پر محمول کریں تو اس سے کراہت تنزیہی کے ثبوت کی نفی لازم نہ آئے گی ، بہرصورت جو سراج میں ہے وہ بہت ہی غریب ہے اور کسی معتمد کتاب کی سند اس پر موجود نہیں ، بلالکہ کتب معتمدہ اور نقول مستندہ کے صریح خلاف ہے ، اور اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہوتی ہے ، کشف الظنون میں ہے کہ سراج الوہاج کو مولی المعروف برکلی نے کتبِ متداولہ ، ضعیفہ غیر معتبرہ میں شمار کیا ہے اھ اور چلپی نے فرمایا پھر اس کتاب کو مختصر کیا گیا اور اس کا نام جوہر نیر ہوا اھ (ت)میں کہتا ہوں بلالکہ جوہرہ نیرہ ہے اور وہ کتب معتبرہ سے
الکتب المعتبرۃ کما نص علیہ فی ردالمحتار ونظیرہ(۱) ان مجتبی النسائی المختصر من سننہ الکبرٰی من الصحاح دون الکبری۔
ثم اقول : ھھنا اشیاء یطول الکلام علیھا ولنشر الی بعضھا اجمالا منھا(۲) لاتبتنی کراھتہ مطلقًا علی قول الامام احمد بعدم الجواز لانہ مخصوص عندہ بالاختلاء ومنھا(۳) ان مراعاۃ الخلاف انما ھی(۴) مندوب الیھا فیما لایلزم منھا مکروہ فی المذھب کما نص علیہ العلماء منھم العلامہ ش نفسہ وترک(۵) المندوب لایکرہ کما نصوا علیہ ایضا منھم نفسہ فی ھذا الکتاب فکیف تبتنی الکراھۃ علیھا لاسیما بعد تسلیم(۶) ان نسخ التحریم ینفی کراھۃ التنزیہ ایضا ومنھا(۷) ھل الحکم مثلہ فی عکسہ ای یکرہ لما ایضا فضل طھورہ ردی احمد وابو داو ، د والنسائی عن رجل صحب النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اربع سنین وابن ماجۃ عن عبدالله بن سرجس رضی الله تعالٰی عنھما نھی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان تغتسل المرأۃ بفضل الرجل اویغتسل بفضل المرأۃ [3] لکن قال الشیخ ابن حجر
ہے جیسا کہ اس کی صراحۃ ردالمحتار میں موجود ہے اور اس کی نظیریہ ہے کہ نسائی کی مجتبٰی جو ان کی سنن کبرٰی سے مختصر ہے صحاح میں شمار ہوتی ہے جبکہ کبری صحاح میں شمار نہیں ہوتی۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں یہاں بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے کلام میں طوالت ہوگی تاہم کچھ کا ذکر اجمالی طور پر کیا جاتا ہے ، کراہت کی بنیاد مطلقًا امام احمد کے عدمِ جواز کا قول نہیں ، کیوں کہ اُن کے نزدیك یہ قول خلوت کے ساتھ مختص ہے ، خلاف کی رعایت ایسے امور میں مندوب ہے جن میں اپنے مذہب کا کوئی مکروہ لازم نہ آئے جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت کی ہے ، خود علامہ 'ش' نے ایسا ہی کیا ہے اور مندوب کا ترك مکروہ نہیں جیسا کہ فقہا ء نے اس کی صراحت کی ہے خود 'ش' نے اس کتاب میں صراحت کی ہے ، تو پھر کراہت اس پر کیسے مبنی ہوگی؟ خاص طور پر جبکہ اس امر کو تسلیم کرلیا گیا کہ تحریم کا منسوخ ہوجانا تنزیہی کراہت کی بھی نفی کرتا ہے ، کیا اس کے عکس میں بھی ایسا ہی حکم ہوگا؟ یعنی عورت کیلئے بھی مرد کا چھوڑا ہوا پانی استعمال کرنا مکروہ ہوگا؟ تو احمد ، ابو داو ، د اور نسائی نے حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ایك صحابی جو چار سال تك آپ کے ساتھ رہے ، سے روایت کی اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن سرجس سے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس چیز سے منع کیا کہ عورت
المکی فی شرح المشکوٰۃ لاخلاف فی ان لھا الوضوءبفضلہ [4] اھ وقال ایضا ان احدالم یقل بظاھرہ ومحال ان یصح وتعمل الامۃ کلھا بخلافہ [5] اھ وتعقبہ الشیخ المحقق الدھلوی فی اللمعات بقولہ قد قال الامام احمد بن حنبل مع مافیہ من التفصیل والخلاف فی مشایخ [6]مذھبہ الی اخر ماذکر من خلافیاتھم۔
اقو ل : (۱) رحم الله الشیخ ورحمنا بہ کلام ابن حجر فی وضوئھا بفضلہ وقول الامام احمد وخلافیات مشایخ مذھبہ فی عکسہ نعم قال الامام العینی فی العمدۃ حکی ابو عمر خمسۃ مذاہب الثانی یکرہ ان یتوضأ بفضلھا وعکسہ والثالث کراھتہ فضلھا لہ والرخصۃ فی عکسہ والخامس لاباس بفضل کل منھما وعلیہ فقہاء الامصار [7] اھ ملتقطا فھذا یثبت الخلاف والله تعالٰی اعلم۔
مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے۔ مگر شیخ ابن حجر مکّی نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرسکتی ہے اھ۔ نیز فرمایا کہ کسی ایك نے بھی اس کے ظاہر کے خلاف نہیں فرمایا اور یہ محال ہے کہ ایك چیز صحیح بھی ہو اور تمام اُمّت اس کے خلاف عمل پیرا ہو اھ۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس پر رد کیا اور فرمایا احمد بن حنبل نے جو فرمایا ہے اس میں تفصیل ہے اور ان کے مذہب کے مشایخ میں بھی اختلاف رہا ہے ، پھر وہ اختلاف ذکر کیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ رحم کرے شیخ پر اور ہم پر ، ابن حجر نے مرد کے بچے ہوئے پانی سے عورت کے وضو کرنے کی بابت جو کلام کیا ہے اور امام احمد کا قول اور ان کے مشایخ مذہب کے اختلافات اس کے برعکس صورت میں ہیں ، ہاں عینی نے عمدہ میں فرمایا کہ ابو عمر نے پانچ مذاہب گنائے ہیں ، ان میں دوسرا یہ ہے کہ مرد کا عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے اور اس کا عکس بھی مکروہ ہے اور تیسرا یہ ہے کہ عورت کا بچا ہوا مرد کیلئے مکروہ ہے اور اس کے عکس میں رخصت ہے اور پانچواں یہ ہے کہ دونوں کے بچے ہوئے پانی میں کچھ حرج نہیں ، اور اسی پر شہروں کے فقہاء ہیں اھ۔ ملتقطا ، اس سے خلاف ثابت ہوتا ہے والله تعالٰی اعلم (ت)
(۱۲) اُس کنویں یا۲ حوض کا پانی جس سے بچّے عورتیں گنوار جہّال فسّاق ہر طرح کے لوگ اپنے میلے کچیلی گھڑے ڈال کر پانی بھریں جب تك نجاست معلوم نہ ہو فتح القدیر میں ہے :
یتوضوء من البئر التی یدلی فیہ الدلاء والجرار الدنسۃ یحملھا الصفار والعبید الذین لایعلمون الاحکام ویمسھا الرستاقیون بالایدی الدنسۃ مالم یتعلم نجاسۃ [8]۔
جس کو کنویں میں بچّے اور غلام میلے ڈولوں اور ٹھیلوں سے پانی بھرتے ہوں اور جن کو سقّے مَیلے ہاتھ لگاتے ہوں ایسے کنوؤں سے وضو کرنے میں حرج نہیں ، ہاں اگر نجاست کا یقین ہو تو جائز نہیں (ت)
اشباہ والنظائر میں ہے :
قال الامام محمد حوض تملؤ منہ الصغار والعبید بالایدی الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوءمنہ مالم تعلم نجاسۃ [9]۔
[1] عمدۃ القاری وضوء الرجل مع امرأتہ مصر ۳ / ۸۳
[2] ٫کشف الظنون ذکر مختصر القدوری بغداد ۲ / ۱۶۳
[3] مشکوٰۃ المصابیح باب مخالطۃ الجنب مجتبائی دہلی ص۵۰
[4] شرح المشکوٰۃ لابن حجر
[5] شرح المشکوٰۃ لابن حجر
[6] لمعات التنقیح باب مخالطۃ الجنب المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۳۰
[7] عمدۃ القاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہ مصر ۳ / ۸۵
[8] فتح القدیر غدیر عظیم سکھر ۱ / ۷۲
[9] الاشباہ والنظائر الیقین لایزول بالشک ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع