دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول :  علی (۱) الاول یعم النھی عکسہ اعنی توضوء المرأۃ من فضل طھورہ وفیہ کلام یاتی اما الثانی۔

فاوّلًا : یقتضی (۲) تعمیمہ رجال البد و والعبید والجھلۃ واشد من الکل (۳) العمیان فلا تبقی خصوصیۃللمرأۃ۔

وثانیًا :  لا یتقید بطھورھا فضلا عن اختلائھا بہ لك اذن یکفی مسھا۔

وثالثًا : (۵)فی  قلۃ توقیھن النجاسات نظر ونقص دینھن ان احدٰھن تقعد شطر دھرھا لاتصوم ولا تصلی کما فی الحدیث وھذا لیس من صنعھا الا ان یعلل بغلبۃ                                                

باور یہ مکروہ تحریمی میں نص ہے ، اور طحطاوی نے اس پر دُر کے قول “ عورت کے باقیماندہ پانی سے وضوء نہ کیا جائے “ سے استدلال کیا ہے ، فرمایا اس میں نظر ہے ، اور 'ش' نے جواب دیا کہ یہ مکروہ تنزیہی کو شامل ہے کہ یہ منہی عنہ ہے اصطلاحی طور پر حقیقۃً جیسا کہ ہم نے تحریر سے نقل کیا اھ اور طحطاوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں ایك تو تلذذ کا خطرہ ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے دینی نقصان کی وجہ سے نجاستوں سے نہیں بچتی ہیں ، فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد کراہت تنزیہی ہے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں پہلے قول کے مطابق نہی اُس کے عکس کو شامل ہے یعنی عورت کا مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضؤ کرنا ، اس میں کچھ بحث ہے جو آئے گی۔ رہا دوسرا قول تو اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ یہ دیہاتی ، غلام اور جاہل سب کو عام ہے ، اور سب سے زیادہ نابینا لوگوں کو۔ تو اس میں عورت کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اور ثانیا ، یہ قید نہیں کہ اس کا طہور ہو چہ جائیکہ عورت کا خلوت میں اس کو استعمال کرنا ، بلالکہ اس کا محض پانی کو چھُولینا بھی کافی ہوگا۔ اور تیسرا یہ کہ اُن کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ نجاستوں سے کم بچتی ہیں اس میں اعتراض ہے ،

الجھل علیھن فیشار کھن العبید والاعراب۔

ورابعا :  (۱) العلۃ توجد فی حق المرأۃ الاخری والکراھۃ خاصۃ بالرجل وجعل ش النھی تعبدیا۔

اقول :  وھو الاولی لما عرفت عدم انتھاض العلل وبہ صرحت الحنابلۃ ولا بدلھم عن ذلك اذعدم الجواز لایعقل لہ وجہ اصلا وکونہ تعبدیا لما رواہ الخمسۃ عـــہ انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یتوضأ الرجل بفضل طھور المرأۃ [1]ثم ذکر عن غرر الافکار نسخہ بحدیث مسلم ان         

اور ان کے دین کا نقص محض یہ ہے کہ وہ ایك زمانہ تك گھر بیٹھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے ، اور اس میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ، ہاں اس کی تعلیل یہ ہوسکتی ہے کہ ان میں جہل کا غلبہ ہوتا ہے تو یہ بات غلاموں اور دیہاتی لوگوں میں بھی ہوتی ہے۔

چوتھے ، یہ علّت دوسری عورت کے حق میں بھی پائی جاتی ہے حالانکہ کراہت مرد کے ساتھ خاص ہے اور “ ش “ نے اس مخالفت کو محض تعبّدی امر قرار دیا ہے۔ (ت)

عـــہ :  اقول المعروف فی اطلاق الخمسۃ ارادۃ الستۃ الا البخاری وھذا انما رواہ احمد والاربعۃ نعم ھو اصطلاح عبدالسلام ابن تیمیۃ فی المنتقی لانہ ادخل الامام احمد فی الجماعۃ فاذ ارادہ غیر الشیخین قال رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ۔  (م)                                           

میں کہتا ہوں عام طور پر خمسہ کا اطلاق بخاری کے علاوہ باقی اصحابِ ستّہ پر ہوتا ہے جبکہ اس کو امام احمد اور اربعہ نے روایت کیا ہے۔ ہاں منتقی میں عبدالسلام ابن تیمیہ کی یہ اصطلاح ہے کہ کیونکہ وہ امام احمد کو بھی اصحابِ صحاح کی جماعت میں داخل کرتے ہیں جس حدیث کو شیخین کے علاوہ باقی اصحابِ صحاح نے روایت کیا ہو تو کہتے ہیں رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ (ت)

میمونہ قالت اغتسلت من جفنۃ ففضلت فیھا فضلۃ فجاء النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یغتسل فقٰلت انی اغتسلت منہ فقال الماء لیس علیہ جنابۃ قال ش مقتضی النسخ انہ لایکرہ عندنا ولا تنزیھا وفیہ ان دعوی النسخ تتوقف علی العلم یتأخرا لناسخ ولعلہ ماخوذ من قول میمونۃ رضی الله تعالی عنھا انی قد اغتسلت فانہ یشعر بعلمھا بالنھی قبلہ  قال وقد صرح الشافعیۃ بالکراھۃ فینبغی کراھتہ وان قلنا بالنسخ مراعاۃ للخلاف فقد صرحوا بانہ یطلب مراعاۃ الخلاف وقد علمت انہ لایجوز التطھیر بہ عند احمد [2] اھ۔  

اقول : ولاقرب الی الصواب ان لانسخ ولا تحریم بل النھی للتنزیہ والفعل لبیان الجواز وھو الذی مشی علیہ القاری فی المرقاۃ نقلا عن السید جمال الدین الحنفی وبہ اجاب الشخ عبدالحق الدھلوی فی لمعات التنقیح ان النھی تنزیہ لاتحریم فلا منافاۃ [3]  وقال فی الباب قبلہ اجیب  

میں کہتا ہوں یہی بات بہتر ہے ، کیونکہ دوسری علتیں درست نہیں ہے ، اور حنبلی حضرات نے بھی یہ علت بیان کی ہے ، اور ایسا کرنا ان کیلئے ضروری تھا ، کیونکہ عدم جواز کی کوئی وجہ موجود نہیں ، اور اس کے تعبدی ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو پانچوں محدثین نے نقل کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت فرمائی ، پھر غرر الافکار کے حوالہ سے اس کا منسوخ ہونا نقل کیا۔ اس میں مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ انہوں نے ایك ٹب میں غسل کیا اس میں کچھ پانی بچ گیا ، تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اُس سے غسل کا ارادہ فرمایا “ تو انہوں نے عرض کی کہ “ ہم نے اس سے غسل کیا ہے “ ۔ آپ نے فرمایا “ پانی پر جنابت کا اثر نہیں ہوتا “ ۔ ش نے فرمایا نسخ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے نزدیك نہ وہ مکروہ تحریمی ہے نہ مکروہِ تنزیہی ، اس میں اعتراض ہے کہ نسخ کا دعوٰی اس پر موقوف ہے کہ ناسخ کے متأخر ہونے کا علم ہو ، اور شاید یہ حضرت میمونہ کے اس قول سے ماخوذ ہے کہ میں نے غسل کیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس سے قبل ہی نہی کا علم تھا ، اور شافعیہ نے کراہت کی تصریح کی ہے تو چاہئے کہ یہ مکروہ ہو ، اگرچہ ہم اختلاف کی رعایت کرتے ہوئے نسخ کا قول کریں ، کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خلاف کی رعایت کی جائے اور یہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ احمد کے نزدیك اس پا نی سے طہارت جائز نہیں اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی تحریم ہے بلالکہ نہی محض تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ملّا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں سید جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبدالحق دہلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں

ان تلك عزیمۃ وھذا رخصۃ [4] اھ وبھذا جزم فی الاشعۃ من باب مخالطۃ الجنب وقال الامام العینی فی عمدۃ القاری اما فضل المرأۃ فیجوز عند الشافعی الوضوء بہ للرجل سواء خلت بہ اولاقال البغوی وغیرہ فلا کراھۃ فیہ للاحادیث الصحیحۃ فیہ وبھذا قال مالك وابو حنیفۃ وجمہور العلماء وقال احمد وداود لایجوز اذا خلت بہ و روی ھذا عن عبدالله بن سرجس والحسن البصری و روی عن احمد کمذھبنا وعن ابن المسیب



[1]            ردالمحتار مکروہات الوضوء البابی مصر ۱ / ۹۸

[2]   ردالمحتار مکروہات الوضوءالبابی مصر ۱ / ۹۸

[3]   لمعات التنقیح باب مخالطۃ الجنب المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۲۲          

[4]   لمعات التنقیح باب الغسل المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن