دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

میرے پاس بدائع کا جو نسخہ ہے اس میں اسی طرح ہے شاید کاتب نے غلط لکھ دیا مناسب الطھور ہے۔ (ت)

(۳ ، ۴) پالا اولے جب پگھل کر پانی ہوجائیں کہ یہ بھی وہی آسمانی پانی ہیں کہ کُرہ زمہریر کی سردی سے یخ بستہ ہوگیا ،

فی الدر یرفع الحدث بماء مطلق کالثلج مذاب وبرد و جمد وندی [1] اھ  وفی البحر والنھر وعن ابی یوسف یجوز وان لم یکن متقاطرا والصحیح ولفظ النھر الاصح قولھما [2] اھ ونسبہ فی جامع الرموز للصاحبین حیث قال لایتوضوء بالثلج الا اذا تقاطر وعن الصاحبین انہ یتوضوء بہ والاول ھو الصحیح کما فی الظھیریۃ [3] اھ۔  ورأیتنی کتبت علی ھامشہ  اقول :  (۱) لیس ھذا محل خلاف وتصحیح اذ لاوضوء الابالغسل ولا غسل الا بالاسالۃ ولا اسالۃ الا بالتقاطر فھو المراد اھ۔  ماکتبت علیہ اقول نعم یروی عن الثانی ان الغسل بل المحل وان لم  یسل[4]  کما فی البحر وھذا لا یختص بالثلج والبرد وقدمنا فی تبیان الوضوء ان مرادہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارك فلا خلاف [5]  قال ش الظاھر ان معنی لم یتدارك لم یقطر علی الفوربان قطر بعد مھلۃ [6] اھ            

دُر میں ہے حدث کو دُور کیا جاسکتا ہے مطلق پانی سے جیسے برف یا اَولوں کا پگھلا ہوا پانی ، منجمد پانی یا تری اھ اور بحر ونہر میں ابو یوسف سے منقول ہے کہ وضو جائز ہے اگرچہ ٹپکنے والا نہ ہو یہ صحیح ہے اور لفظ نہر اصح ہے ان دونوں کا قول اھ اور جامع الرموز میں اس کو صاحبین کی طرف منسوب کیا ہے ، فرمایا کہ برف سے اس وقت تك وضو نہ کرے جب تك وہ ٹپکنے نہ لگے اور صاحبین سے مروی ہے کہ اس سے وضو کرے ، اور پہلا ہی صحیح ہے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اھ میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ یہ محل خلاف اور تصحیح نہیں ہے کیونکہ دھوئے بغیر تو وضو ہو نہیں سکتا ہے اور دھونا بہائے بغیر نہ ہوگا اور بہانا بغیر تقاطر کے نہ ہوگا ، اور یہی مراد ہے اھ۔ میں کہتا ہوں ہاں دوسرے امام سے یہ مروی ہے کہ دھونا جگہ کے تر کرنے کو کہتے ہیں خواہ نہ بہے ، جیسا کہ بحر میں ہے اور یہ چیز برف اور اَولوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور ہم نے تبیان الوضوء میں بیان کیا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ عضو سے ایك یا دو قطرے بہہ جائیں

اور تدارك نہ ہو اس میں اختلاف نہیں “ ش “ نے فرمایا کہ لم یتدارك کے معنی یہ ہیں کہ فورًا قطرات نہ بہیں ، بلالکہ مہلت کے بعد قطرات بہیں اھ (ت)

اقول :  (۱) بل الظاھر ان المعنی لم تتتابع القطر کثرۃ یقال تدارك القوم ای تلاحقوا ومنہ قولہ تعالٰی حتی اذا دارکوا فیھا کما فی الصحاح [7] ومعلوم انہ لم یثبت الفور فی دخول طائفۃ منھم بعد اخری والله تعالٰی اعلم۔                                                  

میں کہتا ہوں بلکہ معنی یہ ہیں کہ قطرات کثرت سے نہ بہیں  کہتے ہیں “ تدارك القوم “ یعنی ایك دوسرے سے ملے اور اسی سے فرمان الٰہی ہے “ حتی اذا دارکوا فیھا “ صحاح میں بھی ایسا ہی ہے اور یہ معلوم ہے کہ ان میں سے ایك جماعت کا دوسری جماعت کے فورًا بعد داخل ہونا مراد نہیں ، والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۵) یوں ہی کل کا برف جب پگھل جائے کہ وہ بھی پانی ہی تھا کہ گیس کی ہوا سے جم گیا ومر عن الدر وجمد وھو محرکا الماء الجامد ط عن ح عن القاموس (اور گزرا ہے کہ الْجَمَد حرکت کے ساتھ جما ہوا پانی (برف) ہے یہ ط سے ح سے قاموس سے ہے۔ ت)

(۶) شبنم

اقول : یعنی جبکہ پتّوں پھُولوں پر سے یا پھیلے ہوئے کپڑے نچوڑ کر اتنی جمع کرلی جائے کہ کسی عضو یا بقیہ عضو کو دھو دے مثلًا روپے بھر جگہ پاؤں میں باقی ہے اور پانی ختم ہوگیا اور شبنم جمع کئے سے اتنی مل سکتی ہے کہ اُس جگہ پر بَہ جائے تو تیمم جائز نہ ہوگا یا اوس(۲) میں سر برہنہ بیٹھا اور اس سے سر بھیگ گیا مسح ہوگیا اگر ہاتھ نہ پھیرے گا وضو ہوجائیگا اگرچہ سنّت ترك ہوئی یوں ہی شبنم(۳) سے تر گھاس میں موزے پہنے چلنے سے موزوں کا مسح ادا ہوجائے گا جبکہ شبنم سے ہر موزہ ہاتھ کی چھنگلیا کے طول وعرض کے سہ چند بھیگ جائے ،

ومر عن الدر وندا قال ش قال فی الامداد وھو الطل وھو ماء علی الصحیح وقیل نفس دابۃ [8] اھ

اور دُر سے گزرا  وندَّا “ ش “ نے امداد میں کہا یہ شبنم ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ پانی ہے اور ایك قول یہ ہے کہ چو پائے کا سانس ہے۔ (ت)

اقول :  لااعلم لہ اصلا ولو کان کذا لم یجز الوضوء بہ لانہ لیس بماء ولو جاز بہ لکان ریق الانسان وعرقہ احق بالجواز ثم رأیت فی مسح الخفین من الفتح ولا فرق بین حصول ذلك بیدہ اوباصابۃ مطر اومن حشیش مشی فیہ مبتل ولو بالطل علی الاصح وقیل لایجوز بالطل لانہ نفس دابۃ لاماء ولیس بصحیح[9] اھ۔    

میں کہتا ہوں مجھے اس کی اصل معلوم نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو اس کے ساتھ وضو جائز نہ ہوتا کیونکہ وہ پانی نہیں اور اگر اس سے وضو جائز ہوتا تو انسان کے تھوك اور پسینہ سے بطریق اولٰی جائز ہوتا ، پھر فتح کے مسح علی الخفین میں ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں کہ یہ ہاتھ سے ہو یا بارش کی وجہ سے ہو یا ترگھاس میں چلنے کی وجہ سے ہو یا شبنم سے ہو اصح قول کے مطابق ، اور ایك قول یہ ہے کہ شبنم سے جائز نہیں کیونکہ وہ چوپائے کا سانس ہے پانی نہیں ، اور یہ صحیح نہیں اھ (ت)

(۷)  زلال

اقول : لغۃً وعرفًا مشہور یہی ہے کہ زلال میٹھے ٹھنڈے ہلکے خوشگوار صاف خالص پانی کو کہتے ہیں ،

فی القاموس ماء زلال کغراب وامیر وصبور وعلابط سریع المرفی الحلق باردعذب صاف سھل [10] سلس اھ۔  ولم یعرج علی معنی غیرہ وفی صحاح الجوھری ماء زلال ای عذب [11] اھ وفی حیاۃ الحیوان الکبری المشہور علی الالسنۃ ان الزلال ھو الماء البارد [12]۔                                          

 



[1]   الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴

[2]   بحرالرائق آخر الماء البحر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷

[3]             جامع الرموز بحث الماء السماء مطبعۃ کریمیہ قزان ایران ۱ / ۴۶

[4]   بحرالرائق فرض الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱

[5]   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن