30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور فتوٰی ہمیشہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول پر ہے اگرچہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوٰی دیں ، علامہ شامی نے متعدد مقامات میں اس قول کی تائید کی اور کئی جگہوں میں اس سے اختلاف کیا ، میرا ارادہ تھا کہ اس بحث کو اس جگہ ذکر کرتا ، پھر خیال ہوا کہ کلام طویل ہوجائیگا ، اور غیر متعلق گفتگو سے فاصلہ طویل ہوجائیگا ، لہٰذا اس جگہ میں نے گفتگو سمیٹ لی اور بحمداللہ تعالٰی اسے اہم رسالے کی صورت میں الگ کردیا ، گفتگو کی تکمیل اور مقصد کے پورا کرنے کیلئے اس جگہ اس کے لاحق کرنے کا فیصلہ کیا ، اور وہ رسالہ یہ ہے ، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی مالك انعام کیلئے۔ (ت)
(نوٹ : اصل کتاب میں یہاں رسالہ “ اجلی الاعلام “ تھا جسے رسم المفتی کے طور پر جلد اول میں شامل کردیا گیا ہے)
_______________________
النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ
(آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
مسئلہ ۵۵ : ۲۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
بسم الله الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آب مطلق کہ وضو وغسل کیلئے درکار ہے اُس کی کیا تعریف ہے آبِ مقید کسے کہتے ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمدلله الذی انزل من السماء ماء طھورا لیطھرنا بہ تطھیرا ، حمدا مطلقًا غیر مقید بعدد او امد دائما ابدا کثیرا کثیرا والصلاۃ و السلام علی الطیب الطاھر الطھور المطھر المفضل علی الخلق فضلا کبیرا ، وعلٰی اٰلہ و صحبہ وابنہ وحزبہ ما امطرت السحب ماء نمیرا امین اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جس نے آسمان سے پاك پانی اتارا کہ اس کے ذریعے ہمیں پاك صاف کرے مطلق تعریفیں بغیر کسی قید عددی اور غائی کے ہمیشہ ہمیشہ بہت زیادہ اسی کیلئے ہیں طیب ، طاہر ، پاك کرنے والے اور مخلوق پر فضیلت رکھنے والے پر اور آپ کے آل ، اصحاب ، بیٹے اور گروہ پر بے شمار صلوٰۃ وسلام ہوں جب تك بادل وافر پانی برساتے رہیں ، آمین۔ اے اللہ ہمیں سچّے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما۔ (ت)
یہ سوال بظاہر چھوٹا اور اس کا جواب بہت طول چاہتا ہے یہ مسئلہ نہایت معرکۃ الآرا ہے۔ فقیر بتوفیق القدیر اول۱ جزئیات منصوصہ ذکر کرے پھر۲ تعریفِ مطلق ومقید کہ اصالۃً ضابطہ جامعہ کلیہ ہے اور دیگر ضوابط کے لئے معیار پھر۳ ضوابط جزئیہ متون پھر۴ ضوابط کلیہ متأخرین پھر۵ جزئیات جدیدہ کے احکام وما توفیقی الا بالله
عـــــہ : اگرچہ تمام مطبوعہ نسخوں میں لفظ “ النورق “ ہے مگر کتب لُغت میں یہ لفظ نہیں ملا۔ میری رائے میں یہ “ الرونق “ ہونا چاہئے اس سے عدد اور معنیٰ دونوں درست رہتے ہیں۔ (دائم)
علیہ توکلت والیہ انیب۔
یوں یہ کلام پانچ فصل پر منقسم ہوا :
فصل اول : جزئیات منصوصہ ، اور وہ تین قسم ہیں :
قسم اول : وہ پانی جن سے وضو صحیح عـــہ۱ ہے :
(۱) مینہ ، دریا ، نہر ، چشمے ، جھرنے ، جھیل ، بڑے تالاب ، کنویں کے پانی تو ظاہر ہیں بالخصوص قابلِ ذکر مائے مبارك زمزم شریف عـــہ۲ہے کہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك اُس سے وضو وغسل بلاکراہت جائز ہے اور ڈھیلے کے بعد استنجا مکروہ اور نجاست دھونا ممنوع۔ تنویر ودرمختار میں ہے :
یرفع الحدث مطلقًا بماء مطلق کماء سماء واودیۃ وعیون وابار وبحار وماء زمزم بلا کراھۃ وعن احمد یکرہ[1] ۔
حدث مطلق پانی سے رفع ہوتا ہے جیسے آسمان کا پانی ، وادیوں ، چشموں ، کنووں ، نہروں ، سمندروں اور زمزم کا پانی ، زمزم کے پانی سے رفع حدث بلا کراہت ہوتا ہے جبکہ امام احمد کے نزدیك کراہت کے ساتھ ہوتا ہے۔ (ت)
نیز حج در میں ہے :
یکرہ الاستنجاء بما زمزم لا الاغتسال [2]۔
زمزم کے پانی سے استنجا مکروہ ہے غسل کرنا مکروہ نہیں۔ (ت)
شامی میں ہے :
وکذا ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ من ثوبہ اوبدنہ حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلك اھ [3]۔
اور اسی طرح بدن یا کپڑے سے نجاست حقیقیہ کا دور کرنا ، یہاں تك بعض علماء نے تو اس کو حرام تك لکھ دیا ہے۔ (ت)
عـــہ۱ یعنی اُن سے طہارت کی جائے تو ہو جائے گی اور اس سے نماز صحیح ہوگی اگرچہ اُس پانی کا استعمال مکروہ بلالکہ حرام ہو جیسا کہ مفصلًا بیان ہوگا ۱۲ (م)۔ عـــہ۲ سب سے اعلٰی سب سے افضل دونوں جہان کے سب پانیوں سے افضل ، زمزم سے افضل ، کوثر سے افضل وہ مبارك پانی ہے کہ بارہا براہِ اعجاز حضورانور سید اطہر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی انگشتانِ مبارك سے دریا کی طرح بہا اور ہزاروں نے پیا اور وضو کیا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وہ پانی زمزم وکوثر سب سے افضل مگر اب وہ کہاں نصیب اور آگے ہر قسم کے پانی مذکور ہوں گے اُن کے سلسلے میں بلا ضرورت اس کا نام لینا مناسب نہ جانا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : (۱)مطلق الکراھۃ للتحریم (۲) واطلاق الحرام علی المکروہ تحریما غیر بعید (۳) فلاخلف نعم (۴) اذا استنجی بالمدر فالصحیح انہ مطھر فلا یبقی الا اساءۃ ادب فیکرہ تنزیھا بخلاف الاغتسال ففرق بیّن بین القصدی والضمنی ھذا ماظھرلی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع