30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ وقت اغتراف بقائے جریان کیلئے شرط فرمائی ہے کہ اگر پانی لیتے وقت زمین کھُل گئی دو پانی ہوگئے اور اس وقت جریان جاتا رہا کہ اُتنی دیر اُوپر کا پانی رك گیا اور نیچے کا مدد بالا سے منقطع ہوگیا ، اور ہم رسالہ رحب الساحۃ میں بیان کر چکے کہ جریان کیلئے مدد کا اشتراط بھی ایك قول مصح ہے امام ابن الہمام نے اس کو ترجیح دی اور یہی امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ کی کتاب تجنیس اور امام حسام الدین کے
عــــــہ بلالکہ فتاوے امام قاضی خان میں ہے :
الجنب اذا قام فی المطر الشدید متجردا بعد ما تمضمض واستنشق حتی اغتسلت اعضاؤہ جاز لانہ جار یعنی(فــــ ۱)جنب اگر کُلی کرکے ناك میں پانی موضع فرض تك چڑھا کر زور کے مینہ میں ننگا کھڑا ہو کہ سارا بدن دُھل گیا غسل ہوگیا کہ مینہ جاری پانی ہے ظاہر ہے کہ مینہ کی دھاریں متفرق ہوتی ہیں اور اُن میں کوئی دھار آدھا انگل بھی دَل نہیں رکھتی بلالکہ اکثر جَو بھر سے زیادہ نہیں ہوتا مگر وہ بلاخلاف جاری پانی ہے ۱۲ منہ غفرلہ(م)
واقعات سے مستفاد یہ روایت امام ابو یوسف اسی قول پر مبنی تو یہ شرط اس لئے فرمائی کہ پانی لیتے وقت بھی جاری رہے نہ کہ ہر جاری میں یہ عمق درکار یوں ہی یہاں نفس کثرت اس سے مشروط نہیں بلالکہ وقت اغتراف کثیر رہنا ولله الحمد۔
رابعاً اسی کے مؤید ہے وہ کہ ہمارے رسالہ رحب الساحۃ میں کتب کثیرہ جلیلہ معتمدہ سے منقول ہوا کہ بڑے تالاب کے بطن میں نجاستیں پڑی ہیں بارش کا پانی آیا اگر ان نجاستوں تك پہنچنے سے پہلے یہ پانی تالاب کے اندر دہ در دہ ہوگیا اُس کے بعد نجاستوں کی طرف بڑھ کر اُن سے ملا ناپاك نہ ہوا یوں سارا تالاب پاك رہے گا۔ ظاہر ہے کہ بڑھتے وقت ساری مساحت میں پانچ انگل دل ہونا ضرور نہیں بلالکہ نادر ہے جس کا بیان اُسی رسالہ میں گزرا مگر اس کا لحاظ نہ فرمایا اور مطلقًا حکمِ طہارت دیا اس کا وہی مبنی ہے کہ فی نفسہٖ کثرت کے لئے دَل کی حاجت نہیں بالجملہ روشن ہوا کہ کثرت کیلئے صرف اس قدر درکار کہ مساحت بھر میں کوئی جگہ پانی سے کھلی نہ ہو یہی ظاہر الروایۃ وتصحیح اول ہے اسی بنا پر پانی لیتے وقت کثرت باقی رہنے کیلئے لازم کہ اُس سے زمین کھل نہ جائے ورنہ قلیل ہوجائے گایہی مطلب عامہ کتب وتصحیح دوم ہے۔
ثم اقول یہ توفیق انیق بعض فیصلے اور کرے گی۔
اوّل اغتراف ۱ مطلق رہے گا جس طرح متون وہدایہ وعامہ کتب میں ہے کہ پانی فی نفسہٖ ہر طرح کثیر ہے مقصود اُس وقت زمین کا بالفعل نہ کھُلنا ہے نہ کوئی صلاحیت عامہ تو چلّو ہو یا لپ جس طرح پانی لیا اُس سے نہ کھلنا چاہئے اگرچہ دوسری طرح انکشاف ہوسکے بلکہ ہاتھ کی بھی تخصیص نہیں برتن سے لیں خواہ کسی سے اُس وقت زمین کھُلے نہیں۔
دوم ساری۲ مساحت میں اس عمق کی حاجت نہیں صرف وہیں کافی ہے جہاں سے پانی لیا گیا۔
سوم یہ شرط دہ در دہ میں فرمائی ہے پانی اگر۳ اس درجہ کثیر ہے کہ جہاں سے لیا گیا اگر زمین کھُل بھی جائے تو ہر طرف کا ٹکڑہ دہ در دہ رہے تو کھُلنا مضر نہ ہوگا کہ اگرچہ دو پانی ہوگئے مگر دونوں کثیر ہی ہیں۔
چہارم مذہب معتمد یہ ہے کہ آب مستعمل طاہر ہے اور آبِ مطلق میں اُس کا اختلاط مانع طہارت نہیں جب تك مقدار میں اُس سے زائد نہ ہوجائے اور آب قلیل کتنا ہی کثیر ہو بدن محدث اُس میں پڑنے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے مگر بضرورتِ اغتراف ہاتھ ڈالنا معاف ہے یہ سب مسائل ہمارے رسائل الطرس المعدل والنمیقۃ الانقی میں مبرہن ہوچکے تو وہ پانی۴ جس میں سے وقتِ اغتراف زمین کھل کر اُس کے ٹکڑے دہ در دہ نہ رہیں اگر اس میں پہلے سے نجاست موجود تھی اس کھلنے سے ضرور ناپاك ہوجائیگا یوں عـــہ ہی اگر ضرورت چُلّو کی تھی اور لپ سے لیا سب پانی مستعمل ہوجائیگا کہ دُوسرا بے دُھلا ہاتھ بے ضرورت پڑا عام ازیں کہ چلّو سے بھی زمین کھلتی یا نہیں اگر کہئے استعمال بعد انفصال ید ہوگا اور اس وقت اتصال آب ہو کر کثیر ہوجائیگا۔
اقول : انفصال سے استعمال کی بعدیت ذاتیہ ہے کہ وہ علت استعمال کا جزء اخیر ہے تو تخلف محال اور اتصالِ آب کی بعدیت زمانیہ ہے کہ جتنی جگہ کھلی تھی بعد انفصال ید حرکتِ آب سے بھرے گی
عـــہ اقول : ظھر بھذا التحقیق ان مسألۃ الخانیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ ان خرج الماء من النقب وانبسط علی وجہ الجمد بقدر مالو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد جاز فیہ الوضوء والا فلا اھ۔ نقلھا فی الغنیۃ بالمعنی فاقام مقام جواز الوضوء فیہ وعدمہ فسادہ بوقوع المفسد وعدمہ ولیس کذلك عند التحقیق فانہ اذا کان کثیرا لمساحۃ لایفسد بوقوع شیئ مالم یتغیر اوینحسر بوقوعہ فیبقی ماء ین قلیلین بخلاف الوضوء فیہ بغمس الاعضاء فانہ یفسد بہ مطلقًا لان الفرض انہ ینحسر بالغرف فبالغمس اولی وبہ ظھر ان الاولی ترك النقل بالمعنی مطلقًا فلربما یحصل بہ تغیر دقیق فی غایۃ الخفاء وبالله التوفیق اھ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں کہ ہماری اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ فتاوٰی خانیہ وغیرہ کتب معتبرہ میں جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر پانی سوراخ سے نکلا اور منجمد پانی پر اتنا پھیل گیا کہ اگر کوئی شخص ہاتھ سے پانی اٹھائے تو نیچے کا جامد پانی منکشف نہیں ہوتا اس صورت میں اس پانی میں وضو کرنا جائز ہے ورنہ اس سے وضو جائز نہیں(اھ)اس مسئلے کو غنیہ میں معنیً نقل کرتے ہوئے وضو کے جواز اور عدمِ جواز کی جگہ پلیدی کے واقع ہونے سے اس پانی کے پلید ہونے اور نہ ہونے کو رکھ دیا ، حالانکہ تحقیق کی رُو سے اس طرح نہیں ہے ، کیونکہ جب پانی کی پیمائش زیادہ ہو تو کسی چیز کے واقع ہونے سے وہ فاسد نہیں ہوگا جب تك اس میں تغیر نہ آئے یا پلیدی کے گرنے سے نیچے کی سطح منکشف نہ ہوجائے ، اس صورت میں پانی دو تھوڑے حصّوں میں تقسیم ہوجائیگا برخلاف اس صورت کے کہ اس پانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا جائے تو اس سے پانی مطلقًا فاسد ہوجائیگا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ چُلّو میں پانی لینے سے نیچے کی سطح منکشف ہوجاتی ہے تو ڈبونے سے بطریقِ اولیٰ منکشف ہوجائیگی ، اس بیان سے واضح ہوگیا کہ بہتر یہ ہے کہ مسئلہ معنیً مطلقًا نقل نہ کیا جائے ، ورنہ اس سے بہت ہی پوشیدہ اور باریك فرق پیدا ہوجائیگا ، اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ (ت)
اور حرکت تدریجیہ ہے تو بفور انفصال قبل اتصال حکم استعمال نازل ہوجائیگا فافہم اور اگر پہلے سے کوئی نجاست نہیں اور چلّو یا لپ حسبِ ضرورت لیا اور زمین کھل گئی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ وسط حوض میں جاکر پانی لیا ہو کہ اگرچہ زمین کھُلنے سے پانی قلیل ہوگیا مگر ضرورت اغتراف تو مٹکے میں بھی معاف ہے جبکہ کوئی چھوٹا برتن پانی لینے کیلئے نہ ہو اور اس وقت اگرچہ اس کے پاؤں اُس قلیل پانی میں ہیں مگر اندر جاتے ہوئے دُھل چکے ہیں ہاں اُس زمین کے کھُلتے وقت اسے حدث واقع ہوتو ضرور پاؤں کی وجہ سے سارا پانی مستعمل ہوجائیگا ان وجوہ کی نظر سے وہ شرط کی گئی تو ظاہر الروایۃ اور یہ قول مفتی بہ دونوں متوافق اور باہم اصل وفرع ہیں ولله الحمد۔
ھذا کلہ ماظھر لکثیرا لسیاٰت وبہ تجتمع الکلمات ، وتندفع الشبھات ، والحمدلله واھب المرادات ، وصلی الله تعالٰی وسلم وبارك علی مصحح الحسنات ، مقیل العثرات ، والہ وصحبہ الاکارم السادات ، وابنہ وحزبہ الاجلۃ الاثبات ، وعلینا معھم ، وبھم ولھم ، الی یوم یقوم حبیبنا فیہ بالشفاعات ، علیہ وعلیھم الصلوات الزاکیات ، والتسلیمات النامیات ، والتحیات المبارکات ، اٰمین ، والحمدلله رب العٰلمین ، ومع ذلك لااقول ان الحکم ھذا انما اقول ھذا ماظھر لی فان کان صوابا فمن الوھاب الکریم ولہ الحمد وان کان خطأ فمنی ومن الشیطان وانا ابرؤ الی الله منہ والحمد لله رب العٰلمین والله تعالی اعلم۔
بشارۃ : ماتقدم من قول البحران العمل والفتوی ابدا بقول الامام الاعظم رضی الله تعالٰی عنہ ۔
یہ تمام وہ ہے جو اس کثیر المعاصی پر ظاہر ہوا اور اس سے ائمہ کے ارشادات جمع ہوجاتے ہیں اور شبہات دفع ہوجاتے ہیں ، تمام تعریفیں مرادیں دینے والے اللہ تعالٰی کیلئے ، اور اللہ تعالٰی رحمتیں نازل فرمائے نیکیوں کے صحیح کرنے والے اور غلطیوں کو معاف فرمانے والے پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ ساداتِ کرام پر ، اور آپ کے بیٹے اور جلیل القدر راسخ علم والی جماعت پر اور ان کے ساتھ ہم پر ، ان کی بدولت اور ان کے وسیلے سے اس دن تك جب ہمارے حبیب شفاعتوں کیلئے کھڑے ہوں گے ، ان پر اور ان کے تمام متبعین پر پاکیزہ رحمتیں ، نشوونما پانے والے سلام اور بابرکت تحفے ، آمین ، سب تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے ، اس کے باوجود میں یہ نہیں کہتا کہ حکم یہ ہے ، میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ حکم یہ ہے جو مجھے ظاہر ہوا ، اگر درست ہے تو اللہ تعالٰی وہابِ کریم کی طرف سے اور اس کے لیےحمد ہے ، اور اگر خطا ہے تو میری طرف سے اور شیطان سے ہے ، میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں شیطان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے ، اللہ بہتر جانتا ہے۔
بشارت : اس سے پہلے بحر کا جو قول بیان ہوا کہ عمل
وان افتی المشائخ بخلافہ اقرہ الشامی فی مواضع ونازعہ فی مواضع وکنت اردت ان اذکر ھذا البحث ثمہ ثم رأیت ان الکلام یطول ، ویقطع بالاجنبی الفصل الطویل ، فطویتہ ثمہ ، وافرزتہ بحمدالله تعالٰی رسالۃ مھمۃ ، رأیت الحاقھا ھھنا اتماما للکلام ، واسعافا با لمرام ، وھاھی ذہ والحمدلله ولی الانعام۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع