دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول : (۱)ولیس کذا بل ھو منصوص علیہ من صاحب المذھب رضی الله تعالٰی  عنہ ففی الفتح عن کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی  عنہ ان غمس جنب اوغیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین اواحدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوءمنہ لانہ سقط فرضہ عنہ [1] اھ وقدمنا عن الھدایۃ فی تعلیل قول ابی یوسف ای والامام رضی الله تعالٰی  عنہما ان اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین [2] اھ نعم المزید من المحقق ھو تثلیث السبب ولیس بذاک فان سقوط الفرض اعم مطلقًا  من رفع الحدث ففیہ غنیۃ عنہ اما ما فی منحۃ الخالق انہ قدیرفع الحدث ولا یسقط الفرض کوضوء الصبی العاقل لما مر من صیر ورۃ ماءہ                               

اس میں یہی ثابت ہے کہ سقوطِ فرض ہو ، کیونکہ اس میں شرعا میل کچیل ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور ان کے محقق شاگرد نے ان کی پیروی کی حلیہ میں ، پھر صاحب بحر نے بحر میں۔ پھر ان کے شاگرد علّامہ غزّی نے ، یہاں تک کہ اس کو متن قرار دیا ، اور دُر میں اس کو مدقق نے برقرار رکھا ، اور عبدالغنی نابلسی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں اس پر اعتماد کیا ، اور علّامہ ش نے فرمایا کہ اس تیسرے سبب کو فتح میں زیادہ کیا گیا۔ ت

میں کہتا ہوں یہ بات درست نہیں بلابلکہ یہ صاحب مذہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ہی منصوص ہے ، فتح میں حسن کی کتب سے ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ اگر ناپاک شخص یا بے وضو شخص نے اپنے دونوں ہاتھ دونوں کہنیوں تک پانی میں ڈبوئے یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈبویا تو اُس سے وضو جائز نہ ہوگا ، کیونکہ اس کا فرض اُس سے ساقط ہوچکا ہے اھ اور ہم نے ہدایہ سے ابو یوسف کے قول یعنی امام کے قول کی بھی علّت بیان کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا ہے کہ اسقاط فرض بھی موثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ثابت ہوگا اھ ہاں محقق نے جو اضافہ کیا ہے وہ سبب کی تثلیث ہے ، اور وہ درست نہیں کیونکہ سقوطِ فرض اعم مطلق ہے رفعِ حدث سے ، لہٰذا یہ اس سے بے نیاز کرنے والا ہے ، اور منحۃ الخالق میں ہے کہ کبھی حدث

مستعملامع انہ لافرض علیہ [3] ا ھ

فاقول : (۱)لیس بشیئ فان(۲)حکم الحدث انما یلحق المکلف وقد نصوا ان مراھقا جامع اومراھقۃ جومعت انما یؤمر ان بالغسل تخلقا واعتیاد ا  [4] کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما

وفی الدر یؤمر بہ ابن عشرتادیبا [5] فحیث لم یسقط الفرض لانعدام الافتراض لم یرتفع الحدث ایضا لانعدام الحکم بہ اما صیرورتہ مستعملا فلیس لرفعہ حدثا والاصار مستعملا من کل صبی ولولم یعقل وھو خلاف المنصوص بل لکونہ قربۃ معتبرۃ اذا نواھا ولذا قیدوہ بالعاقل لان غیرہ لانیۃ لہ(۳)والذی مران ارادبہ امر فی البحر فھو قولہ فی الخلاصۃ اذا توضأ الصبی فی طست ھل یصیر الماء مستعملا المختار انہ یصیر اذا کان عاقلا [6] اھ فھذا التقیید یفید ماقلنا وقد قال(۴)فی الغنیۃ ان ادخل الصبی یدہ فی الماء وعلم ان لیس بہا نجس یجوز التوضؤ بہ وان شك  فی طہارتھا یستحب ان لایتوضأ بہ وان توضأ جاز ھذا اذا لم یتوضأ الصبی بہ فان                                               

ختم ہوجاتا ہے اور فرض ساقط نہیں ہوتا جیسے عاقل بچّے کا وضو کیونکہ ابھی گزرا ہے کہ اُس کا پانی مستعمل ہوجاتا ہے حالانکہ وضو اُس پر فرض نہیں۔

میں کہتا ہوں یہ ٹھیک نہیں کیونکہ حدث کا حکم مکلّف کو لاحق ہوتا ہے ، علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی مراھق نے جماع کیا یا کسی مراہقہ سے جماع کیا گیا تو ان کو اخلاق وآداب سکھانے کی غرض سے غسل کا حکم دیا جائے گا ، خانیہ اور غنیہ وغیرہ میں یہی ہے۔ اور دُر میں یہ ہے کہ دس سالہ لڑکے کو تادیباً غسل کا حکم دیا جائیگا جب فرض ساقط نہ ہوگا کیونکہ فرضیت منعدم ہے تو حدث بھی مرتفع نہ ہوگا کیونکہ اس کا حکم منعدم ہے ، اور رہا اس کا مستعمل ہونا تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے حدث کو رفع کیا ہے ورنہ تو ہر بچّہ کا مستعمل پانی مستعمل ہوجاتا اگرچہ وہ عاقل نہ ہو ، اور یہ خلاف منصوص ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ یہ قربت اُسی وقت معتبر ہوگی جبکہ وہ اُس کی نیت کرے ، اور اسی لئے انہوں نے بچّہ کو عاقل سے مقید کیا ہے کیونکہ غیر عاقل کی نیت نہیں ہوتی ہے ، اور جو گزرا اگر اُس سے ان کا ارادہ وہ ہے جو گزرا بحر میں تو ان کا وہ قول خلاصہ میں ہے کہ جب بچّہ طشت میں وضو کرے تو آیا پانی مستعمل ہوگا؟ تو  مختار یہ ہے کہ اس وقت مستعمل ہوگا جب بچّہ عاقل ہو اھ تو یہ تقیید اُسی چیز کا فائدہ دے رہی ہے

توضأ بہ ناویااختلف فیہ المتأخرون والمختار انہ یصیر مستعملا اذا کان عاقلا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ [7]اھ وان اراد بہ مامر فی نفس المنحۃ قبیل ھذا بسطور فھو اصرح وابین حیث قال نقلا عن الخانیۃ الصبی العاقل اذا توضأ یرید بہ التطھیر ینبغی ان یصیر الماء مستعملا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ [8] ثم(۱)افاد بنفسہ ان قولہ یرید بہ التطہیر یشیر الی انہ ان لم یرد بہ التطھیر لایصیر مستعملا [9] اھ ولکن سبحن من لاینسی ثم(۲)قال فی المنحۃ بقی ھل بین سقوط الفرض والقربۃ تلازم ام لا[10] الخ

اقول : (۳)مرادہ ھل القربۃ تلزم سقوط الفرض ام لافان التلازم یکون من الجانبین ولا یتوھم عاقل ان سقوط الفرض یلزم القربۃ فان الاستنشاق فی الوضوء والمضمضۃ فیہ وللطعام ومنہ والوضوء علی الوضوء وامثالھا

جو ہم نے کہی ہے ، اور غنیہ میں فرمایا کہ اگر بچہ نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور یہ علم تھا کہ اس کے ہاتھ پر کوئی نجاست موجود نہیں ہے تو اس پانی سے وضو جائز ہے ، جو ہم نے کہی ہے ، اور اس کی طہارت میں شک ہے تو مستحب یہ ہے کہ اُس پانی سے وضو نہ کرے اور اگر وضو کیا تو جائز ہے ، یہ اُس صورت میں ہے جب کہ بچہ نے اُس سے وضو نہ کیا ہو اور اگر نیت کے ساتھ وضو کیا ہو تو متاخرین کا اس میں اختلاف ہے ، اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ اگر وہ عاقل ہو تو مستعمل قرار پائے گا کیونکہ اُس نے معتبر قربت کی نیت کی ہے اھاور اگر وہ ارادہ کیا جو نفسِ منحہ میں گزرا ہے اس سے چند سطور قبل تو وہ اور زیادہ واضح اور روشن ہے وہ خانیہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاقل بچّہ جب وضو کرے اور اس سے پاکی حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو چاہئے کہ پانی مستعمل ہوجائے ، کیونکہ اُس نے معتبر قربۃ کی نیت کی اھ پھر خود ہی فرمایا کہ اس کا قول “ یرید بہ التطھیر “ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اس نے نیت تطہیر نہ کی تو پانی مستعمل نہ ہو گا اھ لیکن بے عیب ہے وہ خدا جو بھولتا نہیں۔ پھر منحہ میں فرمایا اب یہ امر باقی رہ گیا ہے کہ آیا سقوطِ فرض اور قربۃ میں تلازم ہے یا نہیں الخ۔ تاقول : انکی مراد یہ ہے کیا قربت سقوطِ فرض کو مستلزم ہے یا نہیں؟ کہ تلازم جانبین سے ہی ہوتا ہے اور کوئی عقلمند آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ سقوط فرض مستلزم قربت ہے ، کیونکہ وضو میں ناک میں پانی ڈالنا اور کُلّی کرنا اور کھانے کیلئے کُلی کرنا اور اس کے

کل ذلك قرب ولا سقوط لفرض ولکن تسامح فی العبارۃ وظن انہ تبع فیہ الفتح والبحر حیث قال تلازم بین سقوط الفرض وارتفاع الحدث قال فی المنحۃ المراد نفی التلازم من احد الجانبین وھو جانب سقوط الفرض [11] الخ اقول : (۱) لیس کذلك بل التلازم ھو اللزوم من الجانبین فسلبہ یصدق بانتقاء اللزوم من احد الجانبین وھو المراد لفاضلین العلامتین وتفسیرہ باللزوم من احدالجانبین مفسد للمعنی اذ بورود السلب علیہ یکون الحاصل نفی اللزوم من کلا الجانبین ولیس صحیحا ولا مراد وعلی کل فھذا السؤال مما یھمنا النظر فیہ اذلو ظھر لزوم القربۃ لسقوط الفرض سقط سقوط الفرض ایضا کما ارتفع رفع الحدث ودارحکم الاستعمال علی القربۃ وحدھا کما نسبوہ الے الامام محمد وان کان التحقیق انہ لم یخالف شیخیہ فی ذلك کما بینہ فی الفتح والبحر فرأینا العلامۃ صاحب المنحۃ فاذا ھو اجاب عما سأل فقال ان قلنا ان اسقاط الفرض لاثواب فیہ فلا وان قلنا فیہ ثواب فنعم قال العلامۃالمحقق نوح افندی والذی یقتضیہ النظر الصحیح                                                                                                                                                                                                                                                    

 



[1]   فتح القدیر بحث الماء المستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶

[2]               ہدایۃ الماء الذی یجوز بہ الوضوء العربیہ کراچی ۱ / ۲۲

[3]   منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲

[4]   قاضی خان فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱

[5]   درمختار موجبات الغسل مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱

[6]              خلاصۃ الفتاوٰی الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ /

[7]   غنیۃ المستملی الماء المستعمل سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۱۵۳

[8]   منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱

[9]   منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲

[10]   منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن