30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کون التصافح بکفی الیدین۔
اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے دونوں موزے پہنے ، کذا فی شرح الحماسۃ اھ ، میں نے اس پر مکمل تفصیلی گفتگو اپنے رسالہ “ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین “ (چاندی کی تختیاں ، اس مسئلے میں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ ت)میں کی ہے۔ (ت)
تو راجح یہی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے ،
اوّلاً یہی متون کا مفاد
ثانیا یہی عامہ کتب سے مستفاد
ثالثاً کتب متعددہ میں اُس پر تنصیص اور کف واحد پر کوئی نص نہیں۔
رابعاً کف سے کفین مراد لے سکتے ہیں نہ بالعکس تو اس میں توفیق ہے اور وہ نصب خلاف سے اولیٰ۔
خامساً زمین نہ کھلنے سے مقصود یہ ہے کہ مساحت برقرار رہے ورنہ دو۲ پانی جُدا ہوجائیں گے۔
تبیین میں ہے :
المعتبر فی العمق ان یکون بحال لاینحسر بالاغتراف لانہ اذا انحسر ینقطع الماء بعضہ عن بعض ویصیر الماء فی مکانین وھو اختیار الھندوانی [1] اھ ثم ذکر التصحیح المار۔
گہرائی میں معتبر یہ ہے کہ وہ حوض ایسا ہو کہ چلّو بھرنے سے کھُل نہ جاتا ہو کیونکہ اگر کھلا تو پانی کا ایك حصہ دوسرے حصے سے جُدا ہوجائیگا ، اور پانی دو جگہوں میں ہوجائیگا ، ہندوانی نے اسی کو اختیار کیا ہے اھ پھر اس نے گزشتہ تصحیح کو ذکر کیا ہے۔ (ت)
مثلاً حوض پورا دہ در دہ ہے اُس کے وسط میں سے پانی اٹھایا اور زمین کھُل گئی تو اُس وقت وہ کسی طرف دس ۱۰ ہاتھ نہیں بلالکہ طول وعرض ہر ایك کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہر ٹکڑا پانچ ہاتھ سے بھی قدرے کم تو آب قلیل ہوگیا لہٰذا لازم ہوا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلنے پائے اور اس کی ضرورت وضو وغسل دونوں کیلئے ہے بلالکہ غسل کیلئے زائد۔
ہدایہ میں فرمایا :
الحاجۃ الی الاغتسال فی الحیاض اشد منھا الی التوضی[2] ۔
حوضوں میں نہانے کی ضرورت بہ نسبت وضو کے زیادہ ہوتی ہے۔ (ت)
عنایہ میں فرمایا :
لان الوضوء یکون فی البیوت عادۃ[3] ۔
کیونکہ وضو عام طور پر گھر میں ہوتا ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ حوض یا تالاب میں نہاتے ہوئے پانی لپوں سے لیتے ہیں نہ چلّوؤں سے تو ضرور ہوا کہ دونوں ہی ہاتھ سے لینا مراد والله تعالٰی اعلم بالحق والسداد۔
توفیق انیق وتحقیق دقیق بحسن التوفیق ، والحمدلله علے تیسرالطریق۔
اقول : وبالله استعین ، وھو نعم المعین ، یہ سب تنقید وتنقیح وتصحیح وترجیح اُس ظاہر خلاف پر تھی جو عبارات کتب سے مفہوم اور بعونہ عز جلالہ وعم نوالہ قلب فقیر پر القا ہوتا ہے کہ ان اقوال میں اصلا خلاف نہیں قول اول کی نسبت ہم بیان کر آئے کہ وہی ظاہر الروایۃ اور وہی اقوی من حیث الدرایۃ ہے اور مذیل بطراز تصحیح بھی اور ظاہر الروایۃ اوجہ ومصحح سے عدول کی کوئی وجہ نہیں قول دیگر کہ عامہ کتب میں مختار ومرجح ومفتی بہ ہے اسی ظاہر الروایۃ پر متفرع اور اُسی کے حکم کے تحفظ کو ہے ظاہر ہے کہ مساحت معینہ ہو مثلاً دہ در دہ یا عدمِ خلوص پر مفوضہ بہرحال اُتنی مقدار میں پانی کا اتصال ضرور ورنہ وہ مساحت نہ رہے گی ولہٰذا ظاہر الروایۃ نے فرمایا کہ کہیں سے زمین کھلی نہ ہو تو اُس قدر کا شرط کثرت ہونا بداہۃً ثابت ، مگر کثرت۲ وقت استعمال چاہئے پہلے کثیر تھا اور استعمال کرتے وقت قلیل ہوگیا تو کثرت سابقہ کیا مفید ہوگی اب اس میں پانی لیتے ہوئے زمین اگر کھُل گئی تو ظاہر الروایۃ نے جو امر کثرت کیلئے شرط کیا تھا کب باقی رہا اتنی دیر کو پانی قلیل ہوگیا پہلے سے اگر نجاست پڑی تھی اور بوجہ کثرت مؤثر نہ ہوئی تھی اب قلیل ہوتے ہی مؤثر ہوگئی اور پھر پانی مل جانا طاہر نہ کردیگا کہ آب نجس کثیر ہو کر پاك نہیں ہوجاتا اور جن کے نزدیك مائے مستعمل نجس ہے پہلے سے کسی نجاست پڑی ہونے کی حاجت نہیں پہلے لپ کا پانی بدن پر ڈالا یہ مستعمل ونجس ہو کر پانی میں گرا دوبارہ لپ لیا پانی قلیل ہو کر اسی مائے مستعمل سے نجس ہوگیا۔ یوں ہی جن کے نزدیك آب مستعمل اگرچہ پاك ہے مگر مائے مطلق سے اُس کا اختلاط مطلقًا اُسے ناقابلِ طہارت کردیتا ہے اگرچہ مغلوب ہو لہٰذا وقت اغتراف حفظ کثرت کیلئے یہ شرط لگائی کہ اغتراف آب کثیر سے ہو اُس وقت بھی ظاہر الروایۃ کا ارشاد یأخذ الماء وجہ الارض صادق ہو کہ زمین کہیں سے کھلی نہ ہو تو یہ عمق شرط کثرت نہیں بلالکہ وقت اغتراف شرط بقائے کثرت۔
اس توفیق رفیق کے مؤیدات اقول اولا خود یہی تبیین مبین تعلیل تبیین کہ اتنا عمق اس لئے رکھا گیا کہ پانی لیتے وقت زمین کھُل کر دو پانی نہ ہو جائیں کہ مساحت نہ رہے گی قلیل ہوجائیگا معلوم ہوا کہ تابقائے مساحت کثیر ہے تفریق مساحت تقلیل کرے گی۔
ثانیاً اگر کثرت فی نفسہٖ اس پر موقوف ہو تو یہ شرط بھی کام نہ دے گی اور وقت اغتراف وہی دقّت پیش آئے گی۔ شرط ہے تو ساری مساحت میں نہ کہ بعض میں۔ غیاثیہ میں ہے :
المختار ان لاینحسر بالاغتراف مطلقًا غیر مقید بکونہ من اعمق المواضع [4]۔
مختار یہ ہے کہ چُلّو لینے سے زمین نیچے سے نہ کھُلے مطلقًا ا س میں زیادہ گہرا ہونے کی کوئی قید نہیں ہے۔ (ت)
اب کہ پانی لیا اور زمین کھلی تو نہیں مگر اُتنی جگہ صرف جو بھی عرض کا پانی رہ گیا تو اب کیا آبِ قلیل نہ ہوگیا کہ اتنی دیر ساری مساحت میں اُتنا عمق نہیں۔ ظاہر ہوا کہ یہ عمق مطلوب نہ تھا بلالکہ وہی زمین کا کہیں سے کھُلا نہ ہونا کہ وقت اغتراف یہی باقی رہے گا نہ وہ عمق۔
ثالثاً : اسی پر شاہد ہے سیدنا امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالٰی سے وہ روایت کہ بدائع وتبیین سے گزری کہ خود جاری پانی میں بھی اتنا عمق شرط فرماتے ہیں یہ ہرگز نفس جریان کی شرط نہیں ہوسکتا کون عاقل کہے گا کہ مینہ کا پانی جو چھت یا زمین پر بہ رہا ہے جاری نہ ہوگا جب تك چار پانچ انگل دَل نہ ہوجائے امام ابو یوسف کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے وہ قطعاً عرفاً وشرعاً ہر طرح جاری ہے اگرچہ صرف جو بھر عـــہ دَل ہو لاجرم کوئی شبہ نہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع