دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

صحیح نہیں ، اور اسی لئے ہمارے اصحاب نے اندازہ میں دلائل حسّیہ کی طرف رجوع کیا نہ کہ سمعیۃ کی طرف اب خلوص کی تفسیر میں اختلاف ہے تو ہمارے اصحاب کی متفقہ روایت میں ہلانے کا اعتبار ہے اور ابو حفص کبیر نے خلوص رنگنے کو کہا اور ابو نصر نے گدلا ہونے کو کہا اور جوزجانی نے پیمائش کو کہا ، فرمایا کہ اگر وہ دہ در دہ ہو تو اس میں خلوص نہیں اور اگر اس سے کم ہے تو اس میں خلوص ہے اھ انہوں نے یہ مذہب کی تفسیر بنائی ہے غنیہ میں مصنف کے قول الحوض اذا کان عشر فی عشر کے تحت ہے کہ اس تقدیر سے مقصود نجاست کے عدم خلوص کی بابت ظن غالب کا حصول ہے اھ اور جب یہ ظاہر روایت کی تفسیر ہے تو اس کی رعایت اس میں لازم ہے ، اور امام کی اصل کے مطابق عمق باقی رہا کیونکہ یہ اسکی تقدیر ہے جس میں خلوص نہ ہو اور جس میں خلوص نہ ہو ظاھر الروایۃ کے مطابق اس میں عمق معتبر نہیں ، تو یہاں اس کے اعتبار کی کوئی وجہ نہیں ، ہاں اگر عُمق کا دخل خلوص حرکت اور عدمِ خلوص میں ثابت کردیا جائے ، تو اُس وقت کہا جائیگا کہ ظاہر روایت نے جہاں معاملہ کا دارومدار اس پر رکھا ہے تو امتدادات کو مطلق رکھا ہے اور اس وقت یہی لازم تھااور تم نے دونوں امتدادوں کی تقدیر کی ہے اور ان دونوں کے بعد ہر عمق برابر نہیں تو تم پر لازم ہے کہ ایك ایسے عمق کی تقدیر کرو

بعدھما سواء فیجب علیکم تقدیر عمق لایقبل معہ الامتدادان الخلوص فافہم۔

فافہم ، وح لایضاد القول الحادی عشر للقول الاول اذ ترك التقدیر فی ظاھر الروایۃ لایکون اذن لنفیہ بل لعدم تعینہ واختلافہ باختلاف الامتدادات فیصح التفویض الی رأی الناظر لکنہ شیئ یحتاج الی ثبت ودونہ خرط القتاد بل یدفعہ ان لوکان کذلك لم یصح تعیین عشر فی عشر فانہ یختلف الامتدادان المانعان للخلوص علی ھذا باختلاف الاعماق فکیف یجوز التحدید علی شیئ منھا وھو عود علی المقصود بالنقض فترجح ان الاوجہ ھو ظاھر الروایۃ بل ھی الوجہ ھذا ماعندی والله تعالٰی اعلم۔                                                                                                                                                                                                                                                                                

کہ  اس کے ہوتے ہوئے دونوں امتداد خلوص کو قبول نہ کریں۔ اس صورت میں گیارھواں قول پہلے قول کی ضد نہ ہوگا کہ ظاہر روایت میں تقدیر کا ترك کرنا اس کی نفی کیلئے نہ ہوگا بلالکہ اس کی عدمِ تعیین کیلئے ہوگا اور اس کا اختلاف امتدادات کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا تو دیکھنے والے کی رائے کی طرف اس کو سپرد کرنا صحیح ہوگا ، مگر یہ ایك ایسی چیز ہے جس کو دلیل کی ضرورت ہے حالانکہ اس کی دلیل مشکل ہے بلالکہ اس کا رَد یہ ہے کہ اگر بات یہی ہوتی تو دہ در دہ کی تعیین صحیح نہ ہوئی ، کیونکہ جو دو امتداد خلوص کے مانع ہیں اس بنا پر گہرائیوں کے اختلاف سے مختلف ہونگے تو ان میں سے کسی ایك کی تحدید کیونکر درست ہوگی اور یہ تو نقض کے سبب مقصود کی طرف عود کرنا ہے تو راجح یہی قرار پایا کہ ظاہر روایت ہی درست ہے بلالکہ صرف ایك یہی وجہ ہے ھذا ماعندی الخ(ت(

اس قول کی تصحیح امام زیلعی کے سوا دوسرے سے نظر میں نہیں :

اما ما فی البحر فی البدائع اذا اخذ ای الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ وھو الصحیح [1] اھ

فاقول :  ھذا کما تری کلام التبیین ولیس فی البدائع انما ذکر فیہ عن الجوزجانی ماتقدم ثم قال وعن الفقیہ ابی جعفر                                      

اور جو بحر میں ہے کہ بدائع میں ہے جب پانی زمین کی سطح کو چھپا دے یہ اس کیلئے کافی ہے اور ظاہر الروایۃ میں کوئی تقدیر متعین نہیں ، اور یہی صحیح ہے۔ (ت(

میں کہتا ہوں یہ تبیین کا کلام ہے اور یہ بدائع میں نہیں اس میں تو جو زجانی سے حو منقول ہے وہ بیان ہوچکا ہے پھر فرمایا فقیہ ابو جعفر

الھندوانی ان کان بحال لورفع انسان الماء بکفیہ انحسرا سفلہ ثم اتصل لایتوضؤ [2]بہ ثم ذکر الزیادۃ علی عرض الدرھم والشبر والذراع ولم یصحح شیئا منھا نعم قال قبلہ فی الماء الجاری اختلف المشائخ فی حد الجریان قال بعضھم ھو ان یجری بالتبن والورق وقال بعضھم ان کان بحیث لووضع رجل یدہ فی الماء عرضا لم ینقطع جریانہ فھو جار والا فلا ،  وروی عن ابی یوسف ان کان بحال لواغترف انسان الماء بکفیہ لم ینحسر وجہ الارض بالاغتراف فھو جار والا فلا وقیل مایعدہ الناس جاریا فھو جار وما لا فلا وھو اصح الاقاویل [3] اھ فقد افاد(۱)تصحیح عدم التقدیر بعمق لکنہ فی الجاری وھو کذٰلك فیہ بلاشك والکلام ھھنا فی الراکد الکثیر

اما قول البحر ھو الاوجہ فاقول ھو رحمہ الله تعالٰی مع علو کعبہ الرجیح ،  لیس من ارباب الترجیح ،  کما یعرفہ من رزق حظا من النظر الصحیح ،  وخدمۃ ھذا      

ہندوانی کہتے ہیں کہ اگر پانی ایسا ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کی تہ کھل جائے پھر جُڑ جائے تو اُس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے ، پھر درہم ، بالشت اور ایك ہاتھ سے زائد کی چوڑائی کا ذکر کیا اور ان میں سے کسی کی تصحیح کا ذکر نہیں کیا ہاں اس سے قبل جاری پانی کی بابت کہا کہ مشائخ کا حدِ جریان میں اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ پانی میں چوڑائی میں ڈالے تو پانی کا جاری رہنا ختم نہ ہو تو وہ جاری ہے ورنہ نہیں(بعض نے فرمایا کہ اگر اس پانی میں کوئی تنکا ڈالا جائے یا پتّہ ڈالا جائے تو بہا لے جائے) ، اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ وہ ایسا پانی ہو کہ اگر کوئی شخص اس میں سے چُلّو بھر کر پانی لے تو زمین کھلنے نہ پائے ، ایسا پانی جاری ہے ورنہ نہیں ، ایك قول ہے کہ جس کو لوگ جاری سمجھیں وہ جاری ہے اور جس کو جاری نہ سمجھیں وہ جاری نہیں اور سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے اھ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے گہرائی کا تعین نہیں فرمایا ، لیکن یہ جاری پانی میں ہے اور اس میں شك نہیں ، اور گفتگو یہاں ٹھہرے ہوئے کثیر پانی میں ہے۔ لیکن بحر کا قول معقول تر ہے ، میں کہتا ہوں وہ بلالندی مقام کے باوجود اصحابِ ترجیح سے نہیں ہیں جیسا کہ صاحبِ نظر اور فن کا ماہر جانتا ہے ، ابن عابدین نے اپنی منظوم کی شرح عقود رسم المفتی میں بحر سے نقل کے

الفن یفکر نجیح ،  وقال سیدی محمد بن عابدین رحمہ الله تعالٰی فی شرح منظومۃ عقود رسم المفتی بعد مانقل عن البحر فیما نقلوا عن اصحابنا انہ لایحل لاحدان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کما فی القنیۃ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم نعلم من این قال فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ [4] اھ مانصہ یؤخذ من قول صاحب البحر یجب علینا الافتاء بقول الامام الخ انہ نفسہ لیس من اھل النظر فی الدلیل فاذ اصحح قولا مخالفا لتصحیح غیرہ لایعتبر فضلا عن الاستنباط والتخریج علی القواعد خلافا لما ذکرہ البیری عند قول صاحب البحر فی کتابہ الاشباہ النوع الاول معرفۃ القواعد التی تردُّ الیھا وفرعوا الاحکام علیھا وھی اصول الفقہ فی الحقیقۃ وبھا یرتقی الفقیہ الی درجۃ الاجتھاد ولوفی الفتوٰی واکثر فروعہ ظفرت بہ [5] الخ فقال البیری بعد ان عرف المجتھد فی المذھب بما                                         

بعد جو اصحاب سے نقل کیا وہ یہ کہ کسی شخص کیلئے یہ حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتوٰی دے تاوقتیکہ اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے کہاں سے یہ قول لیا ، اس کے بعد فرمایا یہ اُن کے زمانہ میں تھا ، مگر ہمارے زمانہ میں صرف یاد پر اکتفاء کرنا کافی ہے ، جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے تو امام کے قول پر فتوٰی حلال ہے بلالکہ واجب ہے خواہ یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کہاں سے یہ قول لیا ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم پر قول امام پر فتوٰی دینا واجب ہے خواہ یہ قولِ مشائخ کے خلاف ہو اھ

 



[1]        بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷

[2]   بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳

[3]   بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱ / ۷۱

[4]   شرح المنظومۃ المسماۃ بعقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین  سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۸

[5]              الاشباہ والنظائر بکون ہذا النوع الثانی منہا ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن