دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

نہ کہ دو امتدادوں میں اور اپنی طرف سے انہوں نے گہرائی کی مقدار کا اضافہ کیا ، تو ان دونوں نے اس کو جواہر اور شرح نقایہ میں ذکر کیا اور ان دونوں نے اس کی تصحیح اصل کے اعتبار سے کی ہے اور زیادتی سے قطع نظر کیا ہے ، کیونکہ یہ محل ہے جس کے اصل میں اختلاف ہے نہ کہ جس کے عمق میں اختلاف ہے والله اعلم۔ (ت(

قول اول کی تصحیح امام زیلعی نے فرمائی :

قال فی التبیین والصحیح اذا اخذ الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ [1]۔

تبیین میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ جب زمین کی سطح پر پانی پھیل جائے تو وہ کافی ہے ظاہر الروایۃ میں کسی مقدار کا ذکر نہیں۔ (ت(

بحرالرائق میں ہے :

ھو الاوجہ لما عرف من اصل ابی حنیفۃ [2]۔

یہی اوجہ ہے جیسا کہ ابو حنیفہ کی اصل سے معلوم ہوا۔ (ت(

محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تصحیح کی تضعیف کی فقال قیل والصحیح اذا اخذ

الماء الخ [3]

وہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کہا صحیح یہ ہے کہ جب پانی لے الخ۔ ( ت(

اقول : یہاں دو نظریں ہیں ایك بظاہر قوی اس قول کی تزییف میں دوسری کمال ضعیف اس کی تایید میں اور شاید اسی لئے امام ابن الہمام نے اس تصحیح کو ضعیف کیا مگر نظر دقیق اس کی قوت پر حاکم وبالله التوفیق

اما التائید فلعل زاعما یزعم ان الکثیر قدالحق بالجاری فی کل حکم کما حققہ فی الفتح والجاری لاتقدیر فیہ للعمق کما دلت علیہ فروع کثیرۃ منھا مسألۃ المطر النازل علی سطح فیہ نجاسات فکذا ھھنا۔

اقول :  ھب ان الکثیر ملحق بالجاری فی جمیع الاحکام لکن الکلام انہ متی یکون کثیرا فلا یمکن الالحاق قبل اثبات ان الکثرۃ لاتحتاج الی العمق الا تری ان الجاری لاتقدیر فیہ بشیئ من الطول ولا العرض کما دلت علیہ فروع جمۃ ذکرناھا فی رحب الساحۃ منھا الماء النازل من الابریق علی ید المستنجی قبل وصولہ الیھا ولا یلزم منہ عدم التقدیر بھما ھھنا ایضا فکذا العمق والله تعالی اعلم۔ واما التزییف ففی الراکد الکثیر قولان معتمدان الاول ظاھر الروایۃ وھو اعتبار عدم الخلوص ظنا وتفویضہ الی رأی المبتلی بہ من دون تقدیر بشیئ ومعرّف ذلك التحریك عند ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی                                        

اور جہاں تك تائید کا تعلق ہے شاید کوئی گمان کرنے والا گمان کرے کہ کثیر کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے تمام احکام میں ، جیسا کہ اس کی تحقیق فتح میں ہے اور جاری کی گہرائی میں کوئی مقدار نہیں ہے ، اور اس پر فروع کثیرہ دلالت کرتی ہیں ایك فرع ان میں سے یہ ہے کہ بارش چھت پر ہو اور وہاں مختلف نجاستیں ہوں تو یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت(

میں کہتاہوں مان لیا کہ کثیر تمام احکام میں جاری کے ساتھ ملحق ہے لیکن اصل گفتگو تو اس میں ہے کہ وہ کب کثیر ہوگا تو اس کو اس کے ساتھ ملحق کرنا اس وقت تك درست نہ ہوگا جب تك یہ ثابت نہ کیا جائے کہ کثرت گہرائی کی محتاج نہیں ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جاری میں طول وعرض کا کوئی اندازہ نہیں ، اس پر بہت سی فروع دلالت کرتی ہیں جن کا ذکر ہم نے رحب الساحۃ میں کیا ، ایك فرع یہ ہے کہ لوٹے سے پانی استنجاء کرنے والے کے ہاتھ پر گرے اس تك پہنچنے سے قبل اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کا اندازہ نہ ہو یہاں بھی ، تو عمق کا بھی یہی حال ہے والله تعالٰی اعلم۔ اور تزییف کا بیان یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں دو۲ معتمد قول ہیں پہلا ظاہر الروایۃ ہے اور وہ بطور گمان عدم خلوص کا اعتبار ہے اور اس میں کوئی مقدار نہیں بلالکہ جو اس

عنھم وھو بالتوضی علی الاصح والثانی معتمد عامۃ المتأخرین وعلیہ الفتوی وھو التقدیر بعشر فی عشراعنی مساحۃ مائۃ علی الصحیح فعدم التقدیر الموافقُ لاصل الامام رضی الله تعالی عنہ انما ھو علی الروایۃ الاولی اما الاٰن فالکلام علی تقدیر التقدیر فکیف یلاحظ فیہ اصل عدم التقدیر کما فعل البحرام کیف یراعی فیہ ظاھر الروایۃ کما فعل الامام الفخر ونفس العشر فی عشر لیست فی ظاھر الروایۃ۔

اقول : (۱)والتحقیق عندی ان التقدیر بعشر فی عشر لیس حکما منحازا برأسہ(۲)فیحتاج الی ابداء اصل لہ کما تجشمہ الامام صدر الشریعۃ(۳)ویطعن فیہ بانہ لایرجع الی اصل فی الشرع کما قالہ فی البحر وتبعہ فی الدر ویرد بمخالفتہ لقول الامام المصحح من کثیرین اعلام کما یتوھم بل ھو تقدیر منھم رحمنا الله تعالی بھم لما فی ظاھر الروایۃ من عدم الخلوص وجدوا ھذا القدر لایخلص فحکموا بہ

 قال فی البدائع ذکر ابوداؤد لایکاد یصح لواحد من الفریقین حدیث عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی تقدیر الماء ولہذا رجع اصحابنا فی التقدیر الی الدلائل                                                

میں مبتلی ہے اس کی رائے پر چھوڑا گیا ہے اور اس کی پہچان ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیك حرکت دینا ہے اور یہ حرکت اصح قول کے مطابق وضو سے ہوگی ، اور دوسرا قول عام متأخرین کا مختار ہے اور اسی پر فتوٰی ہے ، اور اس سے مراد دہ در دہ کی مقدار ہے ، یعنی سو ہاتھ کی پیمائش صحیح قول پر ہے ، اور اندازہ نہ ہونا جو امام کی اصل کے مطابق ہے وہ پہلی روایت کے مطابق ہے ، اور اب گفتگو مقدار کی تقدیر پر ہے تو اس میں عدم تقدیر کی اصل کا لحاظ کیسے ہوگا جیسا کہ بحر نے کیا ہے یا اس میں ظاہر الروایۃ کی رعایت کیسے ہوگی؟ جیسا کہ امام فخر نے کیا ہے جبکہ دَہ در دہ ظاہر روایۃ میں کوئی قول نہیں۔ (ت)

میں کہتاہوں میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ دہ در دہ کا اندازہ مستقل حکم نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی اصل تلاش کرنا ہو ، جیسا کہ صدر الشریعۃ نے اس کی کوشش کی ہے ، اور  اس پر یہ اعتراض کہ یہ چیز شریعت کی کسی اصل پر متفرع نہیں ، جیسا کہ بحر میں فرمایا اور دُر نے اس کی متابعت کی اور اس کو اس بنا پر رد کر دیا جائے کہ یہ قول اکثر علماء کے مطابق امام کے صحیح قول کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے جیسا کہ وہم ہوتا ہے بلالکہ یہ اُن کی طرف سے اندازہ ہے ، کیونکہ ظاہر روا یۃ میں عدم خلوص ہے اور اس مقدار میں انہوں نے خلوص نہ پایا تو انہوں نے اس پر یہ حکم لگایا۔

بدائع میں فرمایا ابو داؤد نے فرمایا کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی حدیث جو پانی کے اندازہ سے متعلق ہے فریقین میں سے کسی کیلئے کوئی حدیث

الحسیۃ دون السمعیۃ ثم اختلفوا فی تفسیر الخلوص فاتفقت الروایات عن اصحابنا انہ یعتبر بالتحریك وابو حفص الکبیر اعتبر الخلوص بالصبغ وابو نصر بالتکدیر والجوزجانی بالمساحۃ فقال ان کان عشرا فی عشر فھو مما لایخلص وان کان دونہ فھو مما یخلص [4] اھ ۔ فقد جعل ھذا تفسیر الما فی المذھب وقال فی الغنیۃ تحت قولہ الحوض اذا کان عشرا فی عشر المقصود من ھذا التقدیر حصول غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃ [5] اھ۔  فاذا کان ھذا تفسیر مافی ظاھر



[1]   تبیین الحقائق بحث عشر فی عشر ببولاق مصر ۱ / ۲۲

[2]              بحرالرائق بحث عشر فی عشر  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷

[3]      فتح القدیر بحث عشر فی عشر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱

[4]   بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی

[5]   غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن