دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول وھو غیر الاول فھو سلب التقدیر وھذا تفویضہ الٰی رأی المبتلی بہ وبالجملۃ فالاول حکم العدم وھذا عدم الحکم فانقلت انما التفویض فی ظاھر الروایۃ فی الطول والعرض اذبھما الخلوص وعدمہ وفیم یفوض الیہ النظر فی العمق۔

اقول :  اختلفوا فی معیار عدم الخلوص ھل ھو التحریك وھی الروایۃ المتفقۃ عن اصحابنا ام الصبغ وھو قول الامام ابی حفص الکبیر البخاری ام التکدیر وھو قول الامام ابی نصر محمد بن محمد بن سلام ام المساحۃ وھو قول الامام ابی سلیمٰن الجوزجانی الکل فی البدائع ولا شك ان التکدیر یختلف باختلاف العمق فلعل ھذا القائل قائل بھذا القول                                 

میں کہتا ہوں وہ اول کا غیر ہے تو وہ سلب تقدیر ہے ، اور یہ اُسی شخص کی رائے کی طرف سپرد کرنا ہے جو اس میں مبتلا ہو ، اور خلاصہ یہ ہے کہ پہلا حکمِ عدم ہے اور یہ عدم حکم ہے۔ تو اگر تم کہو کہ تفویض ظاہر روایت میں صرف طول و عرض میں ہے کیونکہ انہی دونوں سے خلوص اور عدمِ خلوص کا علم ہوتا ہے تو عمق میں اس کی رائے کی طرف کیونکر سپرد کیا جائے گا۔ (ت(

میں کہتا ہوں عدمِ خلوص کے معیار میں اختلاف ہے کہ آیا وہ تحریك ہے اور یہی متفقہ روایت ہمارے اصحاب کی ہے ، یا صرف رنگنا ہے اور یہی قول امام ابو حفص الکبیر بخاری کا ہے ، یا گدلا کرنا ہے ، اور یہ امام ابو نصر محمد بن محمد بن سلام کا ہے ، یا مساحت ہے اور یہ امام ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے۔ یہ تمام تفصیل بدائع میں ہے ، اور اس میں شك نہیں کہ گدلا کرنا گہرائی کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے ، اور غالباً یہ قائل اسی قول کی طرف۔

ففوضہ الی رای الناظر واللہ تعالٰی اعلم۔

مائل ہے اور اسی لئے انہوں نے اس معاملہ کو دیکھنے والوں کی رائے کی طرف سپرد کیا ہے۔ (ت(

 

ان میں قول سوم عامہ کتب میں ہے اور اوّل ودوم وہفتم وہشتم بدائع وتبیین وفتح میں نقل فرمائے اور چہارم خانیہ وغنیہ پنجم جامع الرموز ششم غنیہ نیز مثل نہم ویاز دہم قہستانی ونہم شرح نقایہ برجندی میں۔

ان میں صرف دو قول مصحح ہیں اوّل وسوم وبس۔

اما ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ جمع الماء فی خندق لہ طول مثلا مائۃ ذراع وعرضہ ذراع اوذراعان فی جنس ھذہ المسألۃ اقوال فی قول یجوز التوضی منہ بغیر فصل وھو الماخوذ وفی قول لووقعت فیہ نجاسۃ یتنجس من طولہ عشرۃ اذرع وفی قول ان کان الماء مقدار مالوجعل فی حوض عرضہ عشرۃ فی عشرۃ ملیئ الحوض وصار عمقہ قدر شبر یجوز التوضی بہ والا فلا وھو الصحیح تیسیرا للامر علی الناس وقیل لایجوز التوضی فیہ وان کان من بخاری الی سمرقند[1] اھ

فاقول :  قولہ ھو الصحیح ناظر الی اعتبار المساحۃ وحدھا من دون اشتراط الامتدادین وبہ یوافق تصحیحہ الاول بقولہ ھو الماخوذ الی اشتراط عمق شبر والدلیل علیہ قول البرجندی ،  قال                          

جواہر الاخلاطی میں ہے کہ کسی شخص نے کسی خندق میں پانی جمع کیا جس کا طول سو ہاتھ اور چوڑائی ایك ہاتھ یا دو ہاتھ ہو ، تو اس مسئلہ میں چند اقوال ہیں ، ایك قول تو یہ ہے کہ اس سے وضو مطلقًا  جائز ہے اور یہی قول ماخوذ ہے ، اور ایك قول یہ ہے کہ اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ لمبائی میں دس ہاتھ ناپاك ہوگا ، اور ایك قول یہ ہے کہ اگر اس میں اتنا پانی ہے کہ اگر اس کو ایك ایسے حوض میں کر لیا جائے جس کی چوڑائی دہ در دہ ہو تو حوض بھر جائے ، اور اس کی گہرائی ایك بالشت ہو ، تب تو اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور یہی صحیح ہے کہ اس میں لوگوں پر آسانی ہے ، اور ایك قول یہ ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ وہ بخارا سے سمرقند تك ہو اھ۔ (ت(

میں کہتا ہوں ان کا قول ھو الصحیح صرف پیمائش کو دیکھتے ہوئے ہے ، دونوں امتدادوں کی اس میں شرط نہیں ، اور اسی کی وجہ سے یہ ان کی پہلی تصحیح کے مطابق ہوجائیگا ، وہ فرماتے ہیں یہی ماخوذ ہے ، اس میں ایك بالشت کی گہرائی کی

الامام ابو بکر الطرخانی اذ الم یکن لہ عرض صالح وکان طولہ من بخارٰی الی سمرقند لایجوز التوضی منہ وقال محمد بن ابرھیم المیدانی ان کان بحال لوجمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشرو صار عمقہ بقدر شبرجاز التوضی بہ الکل فی الفتاوی الظھیریۃ وذکر فی الخلاصۃ ان الفقیہ ابا اللیث اخذ بہ وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وفی الملتقط انکان عرض الغدیر ذراعین وبلغ طولہ فی عرضہ عشرا فی عشر فبال فیہ انسان فالماء طاھر [2] اھ  “  فانما الضمیر فی قول اخذ بہ وقولہ علیہ اعتماد الی اعتبار المساحۃ ولو بالجمع والا لم تکن الحوالۃ رائجۃ لان عبارۃ الخلاصۃ فی جنس فی النھر ھکذا ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرا فی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمان الجوزجانی وبہ اخذا لفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وقال الامام ابوبکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سمرقند [3] اھ                                                                                                                                                    

شرط نہیں اور اس کی دلیل برجندی کا قول ہے

امام ابو بکر طرخانی نے فرمایا جب اس کی چوڑائی مناسب نہ ہو اور اس کی لمبائی خواہ بخاریٰ سے سمرقند تك ہو تو اُس سے وضو جائز نہیں “ ۔ اور محمد بن ابراہیم میدانی نے فرمایا اگر حوض اتنا بڑا ہو کہ اگر اس کا پانی اکٹھا کیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے اور اس کی گہرائی بقدر ایك بالشت ہو تو اس سے وضو جائز ہے ، یہ سب فتاوٰی ظہیریہ سے ماخوذ ہے ، اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے ، اور ملتقط میں ہے کہ اگر تالاب کی چوڑائی دو ہاتھ ہو اور اس کی لمبائی چوڑائی میں دہ در دہ ہو اور اس میں کوئی انسان پیشاب کردے تو پانی پاك ہے اھ

 اور ضمیران کے قول اخذ بہ اور علیہ میں اعتبار مساحت کی طرف راجع ہے اگرچہ جمع کے اعتبار سے ہو ورنہ تو حوالہ رائج نہ ہوتا کیونکہ خلاصہ کی عبارت جنس فی النھر میں اس طرح ہے کہ اگر پانی کیلئے لمبائی گہرائی ہو اور چوڑائی نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں ، ان میں کا پانی اگر جمع کر لیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے تو اُس سے وضو جائز ہے اور یہ ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے اور فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے ، اور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایا جائز نہیں اگرچہ یہاں سے

فلیس فیہ ذکر العمق اصلا فضلا عن تقدیرہ بشبر کیف والامام الجوزجانی اٰخذ فی العمق بالقول الاول وھو نفی التقدیر رأسا قال فی البدائع اما العمق فھل یشترط مع الطول والعرض عن ابی سلیمان الجوزجانی انہ قال ان اصحابنا رضی الله تعالٰی عنہم اعتبروا البسط دون العمق [4] اھ فالمیدانی اخذ بقولہ فی اعتبار المساحۃ دون الامتدادین وزاد من عند نفسہ قدر العمق فنقلاہ فی الجواھر وشرح النقایۃ وذکرا تصحیحہ باعتبار اصلہ مع قطع النظر عن الزیادۃ لان المحل محل الخلافیۃ الاصل لاخلافیۃ العمق والله تعالٰی اعلم۔

سمرقند تك ہو اھ

 



[1]    جواہر الاخلاطی

[2]   نقایۃ برجندی کتاب الطہارت نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳

[3]   خلاصۃ الفتاوٰی جنس فی الانہار نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹

[4]   بدائع الصنائع المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً ایچ۔ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن