30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : یہ تصویر مفروض کے خلاف ہے اور خانیہ میں الفاظ مذکورہ کے بعد تصریح ہے : ثم تعدی الی موضع النجاسۃ [1] (پھر نجاست کی جگہ تك تجاوز کر جائے۔ ت)بقیہ کتب مذکورہ میں ہے : ثم انتھی الی النجاسۃ عـــہ[2] (پھر نجاست تك پہنچ جائے۔ ت)بالجملہ کلمات جمہور کسی طرح اُس آنے والے پانی کا بھی بطن حوض میں جریان درست نہیں آتا۔
وانا اقول : وبالله التوفیق تحقیق(۱)یہی ہے کہ وہ جاری نہیں ورنہ اگر مثلاً نصف لوٹے میں ناپاك پانی ہو جس میں نجاست غیر مرئیہ ہو یا مرئیہ تھی اور نکال دی اُس کے بعد لوٹا بھر دیا اور کناروں سے کچھ نہ نکلا بلالکہ بھرا بھی نہیں کچھ پانی ڈال دیا جو اُس کے ایك کنارے سے دوسرے تك بہہ گیا تو چاہئے کہ سب پانی اور لوٹا پاك ہوجائے کہ جریان ہوگیا اور وہ نجاست غیر مرئیہ کو فنا کر دیتا ہے اور اُس میں کوئی مساحت شرط نہیں اور بعد فنائے نجاست قلت پر استقرار کیا مضر حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں یہ مشائخ کہ خروج اصلا شرط نہیں کرتے اُن کا کلام بھی حوض کبیر میں ہے ولہٰذا منیہ وذخیرہ ونظم زندویسی میں فرمایا اذا کان[3] الحوض کبیرا
عــــــہ : تنبیہ اس مسئلہ کی تحقیق جلیل رسالہ ہبۃ الحبیر میں آتی ہے وہاں سے بتوفیقِ الٰہی یہ توفیق ظاہر ہوگی کہ پانی کے فی نفسہ کثیر ہونے کیلئے عمق درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ زمین کہیں کھلی نہ ہو اور یہ جو اتنا عمق شرط کیا گیا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے اُس حالت میں ہے کہ اُس کے اندر وضو وغسل کریں اس تقدیر پر توجیہ مذکور کی گنجائش ہی نہیں والله تعالٰی اعلم ۲۱ منہ غفرلہ(م)
بزازیہ میں بظاہر حوض کو صفت کثرت سے مطلق رکھ کر فرمایا : ثم دخل ماء کثیر[4] (پھر کثیر پانی داخل ہو۔ ت)غنیہ میں اُن کے حکم کی تعلیل یوں فرمائی :
(قیل لیس بنجس)لکونہ کبیرا[5] الخ کما تقدم کل ذلك ۔
(کہا گیا ہے کہ یہ نجس نہیں ہے)کیونکہ یہ بڑا ہے الخ جیسا کہ یہ سب کچھ پہلے گزر چکا ہے۔ (ت)
تویہ اعتراض بھی اسی قول دوم پر رہا مگر یہ اُن کا کلام مرئیہ باقیہ سے مخصوص کیا جائے۔ اب رہے وجوہ ثلثہ مذکورہ بحث اول اقول وبہ استعین جو ظرف حبس وحفظ آب کیلئے ہو اُس میں پانی کی حرکت عرفاً جریان نہیں کہلاتی مشك کی تہ میں کٹورا بھر پانی ہو اسے دہانہ باندھ کر زیروبالا کیجئے کہ پانی اِدھر سے اُدھر جائے اسے کوئی جاری ہونا نہ کہے گا۔ جب دہانے سے نکل کر بہے گا اب کہیں گے کہ پانی بہا یہاں سے تینوں وجوہ کا جواب ہوگیا کہ بطن ظرف میں متحرك کو عرفاًجاری نہیں کہتے اور مکان اور اس کی دیواریں کوئی ظرفِ آب نہیں اور نہر ظرف ہے مگر نہ ظرف حبس بلکہ محلِ جریان بخلاف تالاب اور حوض کے ، اگرچہ کبیر ہو ، تو بحمداللہ تعالٰی قول جمہور ہی پر عرش تحقیق مستقر ہوا اور کیوں نہ ہو کہ :
العمل علی قول الاکثر ویدالله علی الجماعۃ ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر ، من فیض اللطیف الخبیر ، مع تشتت البال ، وتراکم البلبال ، و ہجوم الحساد ، بانواع الفساد ، والله المستعان ، وعلیہ التکلان ، ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم ، وحسبنا الله ونعم الوکیل ، نعم المولیٰ ونعم النصیر ، عدت العادون وجاروا ورجوت الله عجیراوکفٰی بالله ولیا وکفٰی بالله نصیرا
عمل اکثر کے قول پر ہی ہوتا ہے ، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہی ہوتا ہے ، یہ سب کچھ فقیر کے دل پر اُترا ، مہربان باخبر خدا کے فیض کرم سے ہے ، حالانکہ طبیعت پر اگندہ اور پیہم مصائب میں گرفتار ہوں اور حاسدوں نے الگ کئی قسم کے فساد برپا کر رکھے ہیں اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے اور اسی پر بھروسا کیا جاتا ہے اور طاقت وقوت اللہ ہی سے ملتی ہے جو بلند اور باعظمت ہے ، ہمیں اللہ کافی ہے اور معتبر کارساز ہے ، بہترین آقا اور بہترین مددگار ہے دشمنوں نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ اور میں اللہ کے کرم کی امید کرتا ہوں حالتِ انکساری میں اور اللہ کافی کارساز ہے اور اللہ کافی مددگار ہے
ومما قلت فیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، مستجرا بذیلہ الاکرم ، ؎ رسول الله انت المستجاب فلا اخشی الا عادی کیف جاروا بفضلك ارتجی ان عن قریب تمزَّق کیدھم والقوم باروا
وقلت ؎ رسول الله انت بعثت فینا کریما رحمۃ حصنا حصینا تخوّفنی العدٰی کیدا متینااجرنی یا امان الخائفینا ومما قلت قدیما فی ربیع الاٰخر سنۃ الف وثلثمائۃ فرأیت الاجابۃ فوق العادۃ ، وفوق المطلب والارادۃ ، سریعا فی الساعۃ ولله الحمد ابدا ، وارجو مثلہ سرمدا۔
الحمد للمتوحد بجلالہ المتفرد وصلاتہ دوما علی خیرا لانام محمد والاٰل والاصحاب ھم مأوای عند شدائدی فالی العظیم توسلی بکتا بہ وبا حمد وبمن عـــہ اٰتی بکلامہ وبمن ھدی وبمن ھدی وبطیبۃ وبم جَوَت وبمنیر وبمسجد
میں نے حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شان اقدس میں آپ کے دامن کی پناہ حاصل کرنے کیلئے یہ اشعار کہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے ، تو اب مجھے دشمنوں کا کچھ خوف نہیں کہ وہ کیا ظلم ڈھائیں گے ، مجھے آپ کے فضل سے امید ہے کہ عنقریب ان کا مکر پارہ پارہ ہوجائیگا اور وہ ہلاك ہوجائیں گے۔
اور عرض کیا ہے اے اللہ کے رسول! آپ ہم میں مبعوث کئے گئے رحمت بنا کر اور مضبوط قلعہ بناکر۔ مجھے دشمن اپنی مضبوط چالوں سے ڈراتے دھمکاتے ہیں اے خوفزدہ لوگوں کی پناہ! مجھے پناہ دیجئے۔ اور اس سے پہلے ربیع الآخر ۱۳۰۰ھ میں کہا تھا تو امید سے فزوں ترحیرت انگیز طور پر میری مرادیں پُوری ہوگئیں ولله الحمد ، خدا کرے ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے۔
تمام تعریفیں خدائے یکتا کو سزاوار ہیں جو اپنے جلال میں یکتا ہے ، اور اس کی رحمتیں مدام ، بہترین مخلوق محمد پر نازل ہوں ، اور آل واصحاب پر ، جو سختیوں میں میری پناہ گاہ ہیں ، تو خداوند عظیم کی بارگاہ میں ، میں وسیلہ لاتا ہوں ، اس کی کتاب اور احمد کا۔ اور ان کا جو اللہ کے کلام کو
عـــہ ھو جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ونبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وحملۃ القرآن من اٰلہ وصحبہ وامتہ(صلی الله تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم) منہ غفرلہ(م)
اور وہ جبریل علیہ السلام اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور حاملینِ قرآن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی آل ، اصحاب اور امت میں سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
وبکل من وجد الرضا من عند رب واجد
لاھمّ عـــہ قدھجم العدای من کل شأوٍ ابعد
فی خیلھم ورجالھم مع کل عاد معتد
ھاوین زلۃ مثبتٍ باغین ذلۃ مھتد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع