دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ان علا الماء من ثقب الجمد وانبسط علی وجہ الجمد وکان عشرا فی عشر فان کان بحیث لوغرف منہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد لم عـــہ یفسد بوقوع المفسد وان کان ینحسر اوکان دون عشر فی عشر یفسد[1] بہ۔

جب پانی برف کے سوراخ سے اوپر چڑھے اور پھیل جائے برف کی سطح پر اور پانی دہ در دہ ہو اس طور پر کہ اگر کسی نے چُلّو بھر کر اس سے پانی لیا اور اس کے نیچے برف نہ کھلی تو مفسد کے گرنے سے فاسد نہ ہوگا اور اگر نیچے والی برف کھل گئی یا وہ پانی دہ در دہ نہ تھا تو وہ پانی فاسد ہوجائیگا۔ (ت)

عـــہ ولفظ الاولین جاز فیہ الوضوء والافلا اھ فلیتنبہ فستأتیك فائدتہ فی الرسالۃ الاٰتیۃ ان شاء الله تعالی  منہ غفرلہ۔ (م)

پہلی دو کتابوں کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں وضو جائز ہے ورنہ نہیں اھ خبردار اس کا فائدہ آئندہ رسالہ میں آئے گا ان شاء الله تعالٰی۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)

تحفۃ الفقہاء وبدائع میں امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی اور تبیین الحقائق میں دربارہ آب جاری امام ابو یوسف سے اور عبدالحلیم علی الدرر وجامع الرموز میں تصریح کی کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے یعنی لپ بھر کر لینے میں نہ کھُلے اور قہستانی سے مفہوم کہ اُس کا اندازہ ، پانچ انگل دَل ہے۔

حیث قال(ان کان)وجہ الماء(عشرا فی عشر لاینحسر ارضہ بالغرفۃ)ای یرفع الماء بالکفین وھذا قول بعض المشائخ فی تقدیر العمق وعلیہ الفتوی کما فی الخلاصۃ وھو علی مااختارہ من المقدارین والعمق الذی ھو خمس اصابع تقریبا [2]الخ                                                

قہستانی نے کہا کہ اگر پانی کا بالائی حصہ ایسا دہ در دہ ہو کہ چُلّو بھرنے سے پانی کی زمین نہ کھلے یعنی دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھانے سے۔ اور عمق کی مقدار میں یہ بعض مشائخ کا قول ہے اور اسی پر فتوٰی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے ، اور یہ وہ ہے جس کو مقداروں میں سے اختیار کیا ہے ، اور عمق تقریباً پانچ انگل ہے الخ(ت)

اقول :  وھو تقریب قریب مشھودلہ بالتجربۃ (یہ اچھی تقریب ہے تجربہ اس پر گواہ ہے۔ ت)تو آبِ کثیر ہونے کو یہ چاہئے کہ سو ہاتھ مساحت میں تقریباً پانچ انگل دَل کا پانی پھیلا ہوا ہو کہیں اس سے کم دل نہ ہو تالاب یا حوض کہ بارش کے بہاؤ یا چرخ وغیرہ سے بھرتے ہیں ان کی دھار کبھی اتنی نہیں ہوتی کہ تالاب یا حوض میں گر کر تمام سطح مطلوب پر اُس کنارے تك معاً پانچ اُنگل پانی چڑھادے پانی بالطبع طالب مرکز ہے اُس کے اجزاء زیروبالا اُسی وقت تك رہ سکتے ہیں کہ اوپر کے اجزاء ڈھلکنے کی جگہ نہ پائیں جب محل پائیں گے فوراً اتر کر پھیل جائیں گے پرنالے سے جتنے دَل کی دھار اُتر رہی ہے زمین پر آکر ہرگز اُتنے دل پر نہ رہے گی معاً پھیلے گی یہی سبب ہے کہ مثلاً حوض میں ایك پورے کنارے سے پانی جس حجم کا اتارے باآنکہ مدد برابر جاری اور حوض کے سارے عرض میں معاً ساری ہے تو چاہئے تھا کہ یہی حجم آخر تك محفوظ رہتا اور دوسرے کنارے پر معاً اُتنے دَل کا پانی ہوجاتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ اُس کنارے پر بتدریج بڑھتا ہے اور اوپر گزرا کہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر یہ جریان ٹھہر جاتا ہے تو مساحت کی کثرت کیا نفع دے گی جبکہ معاً پانچ انگل دَل نہ ہو بتدریج ہوا تو ہر وقت آب قلیل ہے اتنا ناپاك ہوگیا اور آیا وہ بھی یونہی کم تھا یونہی ناپاك ہوا یہاں تك کہ حوضِ کبیر بھر گیا اور ناپاك ہی رہا۔ ہاں عظیم سیلابوں میں اتنے اور اس سے زیادہ حجم کا پانی اُس کنارے پر معاً چڑھتا ہے مگر وہ دم کے دم میں تالاب کو بھر کر اُبال دیں گے تو اس صورتِ نزاع میں رہے گا ہی نہیں اور بالفرض اگر کبھی ایسی صورت ہو کہ اُتنے عظیم بہاؤ کا پانی آئے اور کنارے ہی پر رك رہے تو یہ بغایت نادر ہے اور احکامِ فقہیہ میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ ہے اُس حکم دائر سائر کا منشا اور یہ ہے اُس تعلیل کا مفاد کہ کل مادخل صار نجسا یہ ہے وہ غایت عذر کہ تالاب میں باہر سے آنے والے پانی کو جاری مان کر بھی بحال نجاست مرئیہ باقیہ تمام تالاب کو ناپاك ٹھہرائے کتنا ہی کبیر ہو اگرچہ مسئلہ حوضین ومسئلہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ مخرجہ کا اب بھی جواب نہ ہوا۔

اقول : مگر اس تقریر پر وہ صورت وارد ہے کہ اگر پانی تالاب میں داخل ہوکر پہلے دہ در دہ ہو لیا پھر نجاست سے ملا تو ناپاك نہ ہوگا کہ وہ دہ در دہ سہی پانچ اُنگل دَل بھی تو درکار۔ اگر کہیے ملنے سے پہلے اُس پُوری مساحت میں اُتنا دَل پیدا ہونا بعید نہیں کہ پھیلنا تو بہتے میں ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ ملنے سے پہلے کہیں ٹھہر کر دَل پیدا کرلے پھر ملے۔ یہی سِرہے کہ صورتِ مذکورہ خانیہ میں ان لفظوں سے ارشاد ہوئی :

واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشر [3]۔

اور پانی پاك جگہ اکٹھا ہوگیا اور وہ دہ در دہ ہے۔ (ت)

خلاصہ میں :

ان کان الماء الذی یدخل فی الغدیر یستقر فی مکان طاھر حتیٰ صار عشرا فی عشر[4]۔

اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہورہا ہے پاك جگہ ٹھہر گیا یہاں تك کہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت)

فتح القدیر وبحرالرائق میں :

انکان دخل فی مکان طاھر واستقر فیہ حتی صار عشرا فی عشر[5]۔

اور اگر پاك جگہ پانی داخل ہو کر ٹھہر گیا یہاں تك کہ وہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت)

ذخیرہ وحلیہ میں :

انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولا

اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہوتا ہے داخل ہوتے ہی پاک

انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولایستقر فی مکان طاھر حتی یصیر عشرا فی عشر[6]۔

جگہ نہیں ٹھہرتا ہے یہاں تك کہ دہ در دہ ہوجائے۔ (ت)

 



[1]       غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث عشر فی عشر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۰

[2]    جامع الرموز بحث عشر فی عشر مطبہ کریمیہ قزان ، ایران ۱ / ۴۸

[3]   فتاوٰی قاضی خان فصل الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴

[4]   خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الحیاض  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵

[5]   فتح القدیر الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱

[6]   حلیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن