دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اسی میں حضرت امام ابو حنیفہ کے بعض مقلدین سے مروی ہے کہ انہوں نے اُن وضو خانوں کے پانی سے وضو کو منع کیا ہے جن میں پانی جاری نہ ہو کیونکہ اُس میں وضو کرنے والوں کے گناہ بہتے ہیں ، اور اُنہوں نے حکم دیا کہ وہ نہروں کنوؤں اور بڑے حوضوں کے پانی سے وضو کریں۔ اور سیدی علی الخواص باوجود شافعی المذہب ہونے کے مساجد کے طہارت خانوں میں اکثر اوقات وضو نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ پانی ہم جیسے لوگوں کے جسموں کو صاف نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ اُن گناہوں سے آلودہ ہے جو اس میں مل گئے ہیں ، اور وہ گناہوں کے دھوون میں

ودخلت معہ مرۃ میضأۃ المدرسۃ الازھریۃ فاراد ان یستنجی من المغطس فنظر ورجع فقلت لم قال رایت فیہ غسالۃ ذنب کبیر غیرتہ فی ھذا الوقت وکنت انارأیت الذی دخل قبل الشیخ وخرج فتبعتہ فاخبرتہ الخبر فقال صدق الشیخ قد وقعت فی زنا ثم جاء الی الشیخ وتاب ھذا امر شاھد تہ من الشیخ [1] اھ کلہ ملتقطا وسقتہ ھھنا لجمیل فائدتہ وجلیل عائدتہ ولیس ماعینتہ انت اٰلۃ لقربۃ فی معنی ماعینہ الشارع فلا یلتحق۔

اقول :  بل الدلیل ناھض علی عدم الالتحاق الاتری ان ارواء الظماٰن قربۃ مطلوبۃ قطعا وقد (۱)ورد فیہ خصوصا انہ محاء للذنوب اخرج الخطیب عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی  عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم اذا کثرت ذنوبك فاسق الماء علی الماء تتناثر کما یتناثر الورق من الشجر فی الریح العاصف [2] اھ فاذا استقیت لہ الماء من بئر اوسکبت من

اناء واعطیتہ ایاہ فقد اقمت بہ قربۃ                            

یہ فرق بھی کرلیتے تھے کہ یہ حرام کا ہے یا مکروہ کا یا خلاف اولٰی کا ، اور ایک دن میں ان کے ساتھ مدرسۃ الازہر کے وضو خانہ میں داخل ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ حوض سے استنجا کریں ، تو اس کو دیکھ کر لوٹ آئے میں نے دریافت کیا کیوں؟ تو فرمایا کہ میں نے اس میں ایک گناہ کبیرہ کا دھوون دیکھا ہے جس نے اس کو متغیر کردیا ہے ، اور میں نے اُس شخص کو بھی دیکھا تھا جو حضرت شیخ سے قبل وضو خانہ میں داخل ہوا تھا ، پھر میں اُس کے پیچھے پیچھے گیا اور اُس کو حضرت شیخ نے جو کہا تھا اس کی خبر دی ، اُس نے تصدیق کی اور کہا کہ مجھ سے زنا واقع ہوا ، اور حضرت شیخ کے ہاتھ پر آکر تائب ہوا۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے اھ یہ سب ماخوذ ہے اس کے عظیم فائدہ کیلئے میں نے اس کو ذکر کیا ہے ، اور جس کو آپ نے قربت کا آلہ قرار دیا ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے جس کو شارع نے معین کیا ہے تو یہ اس کے ساتھ لاحق نہ کیا جائے۔ ت

میں کہتا ہوں بلکہ دلیل عدم التحاق پر قائم ہے کیا یہ نہیں کہ پیاسے کو سیراب کرنا قربۃ مطلوبہ ہے ، اور اس بارے میں بطور خاص وارد ہوا کہ یہ گناہوں کا مٹانے والا ہے۔ خطیب انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی ، رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں تو تُو پانی پر پانی پلا تو تیرے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح تیز ہوا سے پیڑ کے پتّے جھڑ جاتے ہیں اھ تو جب تُونے اس کو

فلو تحولت نجاسۃ الاٰثام الیہ لصار نجسا حراما شربہ عند الامام وقذرابالاجماع مکروہ الشرب فیعود الاحسان اساء ۃ والقربۃ علی نفسھا بالنقض وھو باطل اجماعا فما ذلك الالان الشرع انما طلب منك ان تھیئ لہ مایرویہ ولم یعین لہ الماء بخصوصہ بحیث لا یجزیئ غیرہ بل لوسقیتہ لبنا خالصا او ممزوجا بماء اوماء الورد اوجلابابثلج ولو زوماء الکاذی وامثال ذلك لکان اجدواجود واقمت القربۃ و ازید والله یحب المحسنین وقد(۱)اشتد تشییدا بھذا ارکان مانحونا الیہ فی مسألۃ القدور والقصاع ھذا کلہ ماظھرلی وارجو ان قد زھر الامر و زال القناع والحمدلله رب العلمین۔

تنبیہ : (۲)عامۃ الکتب فی بیان الشق الاول من الماء المستعمل علی التعبیر بماء استعمل فی رفع حدث وعلیہ المتون کالقدوری والہدایۃ والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز والغرر والملتقی واعترضھم المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الحدث لایتجزء ثبوتا [3] اھ علی(۳) القول الصحیح المعتمد فما      

کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا یا کسی برتن سے انڈیلا اور اس کو دیا تو تونے اس کے ساتھ قربت کو قائم کیا ، تو اگر گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوجائے تو وہ نجس ہوگا اور امام کے نزدیک اس کاپینا حرام ہوگا ، اور بالاجماع گندا ہوگا اور اس کا پینا مکروہ ہوگا تو احسان گناہ ہوجائے گا اور قربت اپنے نفس پر نقض ہوگی یہ بالاجماع باطل ہے ، یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ شریعت نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم اُس کے لئے وہ تیار کرو جو اس کو سیراب کردے ، اور اس کیلئے کسی پانی کو مخصوص نہیں کیا ہے کہ اُس کے بغیر کفایت نہ ہو ، بلکہ اگر تم اس کو خالص دودھ ، پانی ملا دودھ ، عرق گلاب یا برف والا شربت خواہ وہ کیوڑے والا ہو تو زیادہ بہتر ہوگا تمہاری قربت ادا ہوگئی اور کچھ زیادہ بھی اور اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے ، اور ہماری اس تقریر سے ہانڈیوں اور پیالوں والے مسئلہ کی مزید تائید ہوئی ہے۔ یہ میرے لئے ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے معاملہ واضح ہوگیا ہے والحمدلله رب العالمین۔ ت

تنبیہ : مستعمل پانی کی پہلی شق کے بیان میں عام کتب میں یہی ہے کہ یہ وہ پانی ہے جو حَدَث دُور کرنے میں مستعمل ہواہو ، متونِ کتب میں یہی ہے ، مثلاً قدوری ، ہدایہ ، وقایہ ، نقایہ ، اصلاح ، کنز ، غُرر اور ملتقی وغیرہ ، اورمحقق علی الاطلاق نے فتح میں اِن پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حَدَث کے ثبوت میں تجزّی نہیں ہوتی ہے اھ یعنی قول صحیح معتمد پر ، تو جب تک بدن کا

بقیت ذرۃ مما لحقہ حکم الحدث بقی الحدث فی کل ماکان لحقہ حتی لوان محدثا اوجنبا تطھر وبقیت لمعۃ خفیفۃ فی رجلہ مثلا لم یحل لہ مس المصحف بیدہ ولا بکمہ ولا للجنب التلاوۃ کل ذلك علی ماھو المختار للفتوی فھذا الماء لم یرفع الحدث ولو لم ینو لم تکن قربۃ ایضامع انہ مستعمل قطعا بفروع کثیرۃ منصوصۃ عن صاحب المذھب رضی الله تعالٰی  عنہ فی ادخال المحدث بعض اعضائہ فی الماء لغیرضرورۃ الاغتراف علی مافصلت فی الفتح والحلیۃ والبحر غیرھا وللتفصی عن ھذا قرر المحقق ان صیر ورۃ الماء مستعملا باحدی ثلث رفع الحدث والتقرب وسقوط الفرض عن العضو قال وعلیہ تجری فروع ادخال الید والرجل الماء القلیل لالحاجۃ ولا تلازم بین سقوط الفرض وار تفاع الحدث فسقوط الفرض عن الید مثلا یقتضی ان لایجب اعادۃ غسلھا مع بقیۃ الاعضاء ویکون ارتفاع الحدث موقوفا علی غسل الباقی وسقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال لما عرف ان اصلہ مال الزکوٰۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض حیث جعل بہ دنسا شرعا علی ماذکرناہ [4] وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ ثم البحر

کوئی ذرہ جس سے حکمِ تطہیر لاحق ہوتا ہے باقی بچا رہے گا حدث بھی اُس حصہ میں باقی رہے گا ، یہاں تک کہ کوئی بے وضو یا ناپاک شخص غسل کرتا ہے اور مثلاً اُس کے پیر میں خشکی کی معمولی سی چمک باقی رہ جاتی ہے تو وہ مصحف کو اپنے ہاتھ سے یا اپنی آستین سے نہیں چھو سکتا ہے اور جُنب ہونے کی صورت میں تلاوت نہیں کرسکتا ہے یہ سب فتوٰی کیلئے مختار ہے ، تو اس پانی نے حدث کو رفع نہیں کیا ، اور اگر اُس نے نیت نہ کی تو قربت بھی نہ ہوگی حالانکہ وہ قطعا مستعمل ہے ، اس میں بہت سی فروع ہیں جو صاحبِ مذہب سے منقول ہیں ، ان کا تعلق اِس امر سے ہے کہ بے وضو اپنے کسی عضو کو بلا ضرورت چُلّو بھرنے کیلئے پانی میں ڈالے ، جیسا کہ فتح ، حلیہ اور بحر میں تفصیل سے ذکر کیا ہے ، اس اعتراض سے رہائی حاصل کرنے کیلئے محقق نے یہ تقریر کی ہے کہ پانی کے مستعمل ہونے کی تین صورتیں ہیں رفعِ حدث ، تقرب اور فرض کا عضو سے ساقط ہونا ، فرمایا کہ اسی پر یہ فروع متفرع ہوں گی کہ ہاتھ یا پیر تھوڑے پانی میں بلا ضرورت ڈالا ، اور سقوط فرض اور ارتفاع حَدَث میں کوئی تلازم نہیں ہے اب ہاتھ سے سقوط فرض مثلاً چاہتا ہے کہ ہاتھ کے دھونے کا بقیہ اعضاء کے ساتھ اعادہ نہ ہو ، اور حَدَث کا مرتفع ہونا باقی اعضاء کے دھونے پر موقوف ہو اور پانی کے استعمال میں سقوط فرض ہی اصل ہے جیسا کہ معلوم ہے کہ اس کی اصل مال زکوٰۃ ہے  اور

فی البحر ثم تلمیذہ العلامۃ الغزی حتی جعلہ متنا واقرہ علیہ المدقق فی الدر و اعتمدہ العارف  بالله سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح ھدیۃ ابن العماد زعم العلامۃ ش ان ھذا السبب الثالث زادہ فی الفتح [5]۔

 



[1]         المیزان الکبری کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۰)

[2]          تاریخ بغداد  عن انس بیروت ۶ / ۴۰۳)

[3]      فتح القدیر  ماء مستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹

[4]        فتح القدیر  ماء مستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹

[5]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن