30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوکان علی السطح عذرۃ فوقع علیہ المطر فسال المیزاب ان کانت النجاسۃ عند المیزاب وکان الماء کلہ یلاقی العذرۃ اواکثرہ اونصفہ فھو نجس والا فھو طاھر وان کانت العذرۃ علی السطح فی مواضع متفرقۃ ولم تکن علی رأس المیزاب لایکون نجسا وحکمہ حکم الماء الجاری کذا فی السراج الوھاج ، وفی(۱)بعض الفتاوٰی قال مشائخنا المطر مادام یمطر فلہ حکم الجریان حتی لواصاب العذرات علی السطح ثم اصاب ثوبا لایتنجس الا ان(۲)یتغیر المطر اذا اصاب السقف وفی السقف نجاسۃ فوکف واصاب الماء ثوبا فالصحیح انہ اذا کان المطر لم ینقطع بعد فما سال من السقف طاھر ھکذا فی المحیط وفی العتابیۃ اذا لم یکن متغیرا کذا فی التاتارخانیۃ(۳)واما اذا انقطع المطر وسال من السقف شیئ فما سال فھو نجس کذا فی المحیط وفی النوازل قال مشائخنا المتأخرون ھو المختار کذا
اگر چھت پر پاخانہ پڑا ہو اور بارش ہوجائے پھر پرنالہ بہے تو اگر نجاست پرنالہ کے پاس ہو اور کل پانی پاخانہ سے لگ کر آرہا ہو یا اکثر یا نصف تو وہ ناپاك ہے ورنہ پاك ہے اور اگر نجاست چھت پر متفرق جگہوں پر ہو اور پرنالہ کے سر پر نہ ہو تو ناپاك نہ ہوگا اور اس کا حکم جاری پانی کا سا ہے۔ اسی طرح سراج الوہاج میں ہے ، اور بعض فتاوٰی میں ہے کہ ہمارے مشائخ نے فرمایا اگر بارش ہورہی ہو تو جاری پانی کے حکم میں ہے یہاں تك کہ اگر یہ پانی چھت پر پڑے ہوئے پاخانہ سے لگ کر بھی آئے اور پھر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاك نہ ہوں گے ، ہاں اگر بارش متغیر ہوجائے جبکہ چھت پر پہنچے اور چھت پر نجاست ہو اور پھر چھت ٹپکنے لگے اور یہ پانی کسی کپڑے پر لگ جائے تو صحیح یہ ہے کہ اگر بارش ابھی منقطع نہیں ہوئی ہے تو جو پانی چھت سے بہا وہ پاك ہے ھکذا فی المحیط۔ اور عتابیہ میں ہے کہ جبکہ متغیر نہ ہو ، اور اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے اور اگر بارش بند ہونے کے بعد چھت سے پانی ٹپکے تو جو بہا ہے وہ ناپاك ہے کذا فی المحیط ، اور نوازل میں ہے کہ ہمارے متأخر مشائخ نے فرمایا یہی
ی التتارخانیۃ[1] اھ
اقول : سال من السقف ای وکف کما قدم اما السائل من المیزاب فجار قطعا وان وقف المطر کما قدمنا۔ مختار ہے کذا فی التتارخانیہ اھ(ت)
میں کہتا ہوں چھت سے بہنے کا مطلب چھت سے ٹپکنا ہے جیسا کہ گزرا اور جو پرنالے سے بہتا ہے وہ قطعاً جاری ہے خواہ بارش ٹھہری ہوئی ہو۔ (ت)
بالجملہ آنے والے پانی کے بطن حوض میں جاری ہونے سے انکار ظاہر نہیں ، ہاں جب حد مقابل پر پہنچے جہاں جاکر رك جائیگا یا تحریك پہنچی تو آگے نہ بڑھے گا بلالکہ اُوپر چڑھے گا یہ حرکت طبعی نہ ہوگی بلالکہ قسری خلاف طبع تو اُس وقت بیشك جریان جاتا رہے گا۔
بحث دوم : آب نجس کی تطہیر کو آبِ طاہر سے مل کر اُس کا جاری ہونا درکار ہے یا آب طاہر جاری کا اُس پر آنا کافی اول نص محرر المذہب امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالٰی سے منقول ہے ،
فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن التمرتاشی عن محمد المائع کالماء والد بس وغیرھما طہارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ [2]۔
اور ردالمحتار میں جامع الرموز سے تمرتاشی سے محمد سے ہے۔ کہ بہنے والا جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ اس کی طہارت اس کو اسی کی جنس کے ساتھ ملا کر جاری کر دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
اقول : اور اسی کے مؤید ہے اُسے قول دائر وسائر الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا(کہ بعض جاری پانی بعض دوسرے پانی کو پاك کر دیتا ہے۔ ت)کے تحت میں لانا ،
فانھما اذا جریا مختلطین کان بعض الجاری طاھرا وبعضہ نجسا فیطھر الاول الاٰخر بخلاف مااذا لم یجر النجس وقد یمکن ان یستأنس للثانی بما قدمنا فی الاصل الرابع عن الحلیۃ عن المحیط الرضوی ان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا[3] اھ۔ لکنہ ذکرہ
کیونکہ وہ دونوں جب مل کر بہیں تو بعض جاری پاك اور بعض نجس ہوگا تو پہلا دُوسرے کو پاك کر دیگا بخلاف اس صورت کے جبکہ نجس جاری نہ ہو اور دوسرے کیلئے جو ہم نے چوتھی اصل میں حلیہ سے محیط رضوی سے نقل کیا ہے استدلال ہوسکتا ہے کہ جب جاری پانی اس میں مل گیا تو جاری کے حکم میں ہوگا اھ لیکن اس کا تذکرہ انہوں نے وہاں کیا ہے جہاں
فی اشتراط الخروج من الجانب الاٰخر وان قل فالمراد الاتصال فی الجریان ومعلوم ان الجاری بعضہ لاکل مافیہ ویحکم بطھارۃ الکل فلذا قال صارفی الحکم جاریا فافھم۔
دوسری جانب سے نکل جانے کی شرط لگائی ہے خواہ کم ہی ہو تو مراد جاری ہونے میں اتصال ہے اور یہ معلوم ہے کہ جاری بعض ہی ہے کل نہیں ہے۔ اور حکم کل کی طہارت کا لگایا جائیگا اور اسی لئے فرمایا کہ یہ جاری کے حکم میں ہوگیا۔ (ت)
فقیر کے نزدیك منشاء اختلاف یہی ہے اُن بعض نے جبکہ دیکھا کہ نیا آنے والا پانی بہتا ہوا اس آب نجس سے ملا اس کی طہارت کا حکم دیا پھر اگر نجاست غیر مرئیہ ہے یا مرئیہ تھی اور نکال دی گئی جب تو ظاہر ہے کہ ان کے طور پر سب پانی پاك رہنا چاہئے اگرچہ حوض صغیر ہو کہ جاری میں کثیر کی شرط نہیں اور آب جاری جب نجاست غیر مرئیہ پر وارد ہو اُسے فنا کر دیتا ہے کما حققناہ فی الاصل العاشر(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اصل عاشر میں کی ہے۔ ت)تو بعد وقوف اگرچہ محل قلیل میں ٹھہرا نجاست ہی معدوم ہے ہاں نجاست مرئیہ باقیہ میں ضرور کبر محل درکار کہ وقت وقوف بوجہ کثرت عود نجاست نہ ہوسکے اور جمہور نے یہ نظر فرمائی کہ آب داخل اگرچہ جاری ہو مگر آب نجس کو جاری نہ کیا کہ بطنِ حوض میں رُکا ہوا تھا اور اُس کا رُکنا ہی دلیل واضح تھا کہ اُسے آگے بڑھنے کو جگہ نہیں تو آب داخل اُسے آگے نہ بڑھائے گا بلکہ اوپر چڑھائیگا تو اُس کا اجرانہ ہوگا جو اُس کی طہارت کو درکار ہے مگر یہ کہ حوض بھر جائے اُس وقت تك تو سب ناپاك ہے اب جو اُبلے گا پاك ہوجائیگا کہ اب آگے بڑھنے اور منحدر میں اُترنے کو جگہ وسیع ہے اگر کہیے مانا کہ بطن حوض میں آب نجس کا اجرا نہ ہوگا مگر غسل یعنی دھونا تو ہوجائیگا کہ آب جاری بہتا ہوا آکر اُس کے تمام اجزا پر چھا گیا۔
اقول اولاً : پانی کو دھونا شرع سے معہود نہیں مگر وہی طاہر سے ملا کر اُس کا اجرا۔
ثانیاً : غسل ہوگا تو فقط سطح بالائے آب نجس کا اور وہ کوئی جامد(۱)شیئ نہیں کہ ضرورۃً غسل سطح قائم مقام غسل کل ہو ،
وھذہ فائدۃ استنبطھا الفقیر مما فی فتح القدیر فی بیان مذھب الصاحبین ان(۲)کانت الانفحۃ جامدۃ تطھر بالغسل [4] اھ ای اذا اخذت من بطن جدی میت
یہ فائدہ خود فقیر نے جہاں صاحبین کا مذہب فتح القدیر میں بیان ہوا ہے میں نے مستنبط کیا ہے ، اگر دُودھ خشك ہو تو دھونے سے پاك ہوجائیگا اھ یعنی مُردہ بکری کے بچّہ کے پیٹ سے نکالے گئے ہوں کیونکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع