دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

مثلیہ وانما یذکرون مثلا وثلاثا فالثانی لتثلیث الغسل والاول قیاسا علی البئر فان نزح مافیھا لھا تطہیر افادہ فی البدائع اما التثنیۃ فلا وجہ لھا ھذا ،  ثم قال فی الحلیۃ لکن فی الذخیرۃ قبل ھذہ المسألۃ وفی فتاوٰی اھل سمر قند غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب(فذکر ماقدمنا عن الخانیۃ وغیرھا عشرۃ کتب فی الاصل الثامن)قال فعلی قیاس الجواب فی ھذہ المسألۃ یکون الجواب ایضا فی المسألۃ التی ذکرھا المصنف ان کان الماء الذی یدخل اولا یدخل علی ماء نجس اومکان نجس فھو نجس وان کان یدخل علی طاھر ویستقر فیہ حتی یصیر عشرا فی عشر ثم یتصل بالنجس فھو طاھر قال فھذا قول ثالث فی المسألۃ المذکورۃ تخریجا کما یمکن ان یتأتی القولان المذکوران فیھا نصا فی ھذہ المسألۃ التی ذکرناھا نحن عن الذخیرۃ ایضا تخریجا [1] اھ

اقول :  رحم الله المحقق لاتثلیث                                 

تو کثیر پانی کا داخل ہونا حوض کی بڑائی پر دلالت کرے گا ، اور دوسری چیز دگنا ہونے کی زیادتی ، اور دوسرے فقہا ایك گنا اور تین گنا کا ذکر کرتے ہیں ، تو دوسرا دھونے میں تثلیث کے لئے ہے اور پہلا کنویں پر قیاس کرتے ہوئے ہے ، کیونکہ کنویں میں جو کچھ ہے وہ اگر نکال لیا جائے تو کنواں پاك ہوجائیگا ، بدائع میں یہی ہے ، اور دُگنا ہونے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ، ہذا۔ پھر حلیہ میں فرمایا اور لیکن ذخیرہ میں اس مسئلہ سے قبل اور اہل سمرقند کے فتاوٰی میں ہے کہ اگر کوئی بڑا تالاب ایسا ہو جو گرمیوں میں سُوکھ جاتا ہو اور اس میں انسان اور چو پائے بول وبراز کرتے ہوں(تو اس کا حکم وہ بیان کیا جو ہم نے آٹھویں اصل میں خانیہ وغیرہا دس کتب سے نقل کیا)فرمایا اس مسئلہ کے جواب پر قیاس کرتے ہوئے مصنّف نے جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کا بھی جواب ہوگا ، اور وہ یہ کہ اگر داخل ہونے والا پانی پہلے نجس پانی پر داخل ہوتا ہے یا نجس جگہ پر تو وہ نجس ہے اور اگر پاك پر داخل ہوتا ہے اور اس میں ٹھہرتا ہے یہاں تك کہ دہ در دہ ہوجائے پھر نجس سے متصل ہو تو وہ پاك ہے فرمایا یہ مسئلہ مذکورہ بطور تخریج تیسرا قول ہے اور دو مذکور قول اس میں بطور نص ہیں جس کو ہم نے ذخیرہ سے بطور تخریج نقل کیا ہے۔ اھ(ت)

میں کہتا ہوں اللہ محقق پر رحم کرے نہ تو

ولا تخریج(۱)اما الثانی فظاھر فان المسألۃ المذکورۃ مسألۃ المتن حوض کبیر وفیہ نجاسات فامتلأ والتی اوردتموھا عن الذخیرۃ غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب وای فرق بینہما الا فی اللفظ فلا قیاس ولا تخریج بل القولان المذکوران فی المتن منصوص علیھما فی مسألۃ الذخیرۃ والتفصیل المذکور فیھا منصوص علیہ فی مسألۃ المتن ، (۲)واما الاول فلانہ لیس لاحد ان یقول الماء وان کثر فی بطن الحوض قبل وصولہ الی النجس یتنجس حین یصل الیہ وکیف یتنجس وقد فرض کثیرا ھذا خلاف الاجماع فالتفصیل المذکور فی الذخیرۃ ھو المراد قطعا فی القول الاول وانما طووا ذکرہ للعلم بہ کما قلتم ھھنا ان من المعلوم حیث قلنا فی ھذہ المسألۃ اوامثالھا ان الماء طاھر فھو مشروط بکونہ لااثر للنجاسۃ فیہ فترك التقیید بہ فی ذلك للعلم بہ وایاك والذھول عنہ فیذھبن بك الوھم الی تخطئتھم فی ذلك وھم من ذلك [2] براء اھ ، (۳)فھل یسوغ لاحد ان یجعل التقیید بعدم ظھور الاثر قولا رابعا فی المسألۃ وقد اشرنا الیہ بعد ذکر الضابط الثالث فما ثم الا قولان التفصیل المذکور

تثلیث ہے اور نہ تخریج ، دوسرا تو ظاہر ہے کیونکہ مسئلہ مذکورہ متن کا مسئلہ ہے تثلیث کہ ایك بڑا حوض ہو جس میں نجاستیں ہوں اور بھر جائے ، اور جس کو تم نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے یعنی بڑا تالاب جو گرمیوں میں خشك ہوجاتا ہے اور اس میں انسان اور جانور بول وبراز کرتے ہوں ، ان دونوں میں لفظی فرق کے علاوہ اور کیا فرق ہے ، تو نہ قیاس ٹھیك ہے اور نہ تخریج درست ہے بلالکہ دونوں قول جو متن میں مذکور ہیں اور ان کو ذخیرہ میں صراحت سے ذکر کیا ہے اور اس میں جو تفصیل ہے وہ متن میں منصوص ہے ، لیکن پہلا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا جبکہ پانی حوض میں کثیر ہو نجس تك پہنچنے سے پہلے ، تو وہ نجس ہوجائیگا جب وہ نجاست تك پہنچے گا ، اور نجس کیسے ہوگا حالانکہ اس کو کثیر فرض کیا گیا ہے یہ اجماع کے خلاف ہے جو تفصیل ذخیرہ میں ہے وہی قطعاً مراد ہے پہلے قول میں اور اس کو ذکر اس لئے نہیں کیا کہ وہ پہلے ہی معلوم ہے ، جیسا کہ تم نے یہاں کہا ہے کہ یہ بات معلوم ہے جبکہ ہم نے اس مسئلہ میں اور اس جیسے مسائل میں کہا کہ پانی پاك ہے ، مگر اس میں یہ شرط ہے کہ نجاست کا اثر اس میں ظاہر نہ ہو تو اس قید کو معلوم ہونے کی بنا پر چھوڑ دیا گیا ہے ، اس سے آپ غافل نہ ہوں ورنہ آپ ان کو خطاکار قرار دیں گے حالانکہ وہ بے قصور ہیں اھ تو کیا کوئی اثر کے ظاہر نہ ہونے کی قید لگانے کو چوتھا قول قرار دے سکتا ہے ۔

فی الکتب العشرۃ واطلاق الطھارۃ وبالله التوفیق۔

اور ہم نے تیسرے ضابطہ کے بعد اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، تو وہاں صرف دو ہی قول ہیں مذکورہ تفصیل دسوں کتب میں ہے اور طہارت کا اطلاق ہے۔ (ت)

ثم اقول :  وبہ استعین(اللہ سے مدد چاہتے ہوئے میں کہتا ہوں)یہاں دو بحثیں ہیں :

بحث اوّل ہم اوپر بیان کر آئے کہ جریان آب نہیں مگر فضا میں اس کا اپنے میل طبعی سے رواں ہونا اور فضائے غیر محدود غیر مقصود اور محدود بطن حوض میں بھی موجود بارش یا سیل وغیرہ کا پانی کہ اوپر سے بہتا ہوا آیا اور بطنِ حوض میں داخل ہوا وہ قطعاً اب بھی بہ رہا ہے جب تك کنارہ مقابل پر جاکر رك نہ جائے۔

اولاً : جاری کی دونوں تعریفیں اشہر واظہر اس پر صادق ہیں وہ ایك تنکا کیا ایك گھٹا بہالے جائیگا اور بے شك جب تك اُس کا بہاؤ نہ ٹھہرے بہتا ہی کہا جائیگا اہل عرف میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سیلاب حوض کے کنارے تك پہنچتے ہی تھم گیا اب اس میں روانی نہ رہی جب تك بھر کر اُبال نہ دے پہلے کنارے پر تھم جائے تو حوض کو بھرے کون اور اُبالے کیوں کر۔

ثانیاً : نہر جاری میں سیلاب کی دھار آکر گری اب چاہئے کہ وہ نہر جاری نہ رہے جب تك بھر کر اُبل نہ جائے کہ اعتبار وئے آب کا ہے اور اب روئے آب یہ سیلاب ہے جسے جوفِ نہر میں داخل ہوتے ہی ساکن مان لیا گیا۔

ثالثاً : مینہ کاپانی(۱)کہ چھت پر بہتا پر نالوں سے گرتا صحنِ خانہ میں رواں ہو قطعاً آب جاری ہے اگرچہ ابھی مکان کی نالی سے بھی نہ نکلے مکان کو چھت تك لبریز کرکے دیواروں پر سے اُبال دینا تو قیامت ہے ،

بدائع میں ہے :

ان کانت الانجاس متفرقۃ علی السطح ولم تکن عند المیزاب ذکرعیسٰی بن ابان(ای تلمیذ محمد رحمہما الله تعالی)انہ لایصیر نجسا مالم یتغیر وحکمہ حکم الماء الجاری وقال محمد ان کانت النجاسۃ فی جانب من السطح اوجانبین لاینجس الماء ویجوز التوضوء بہ وان کانت فی ثلٰثۃ جوانب ینجس اعتبار                                  

اگر نجاستیں چھت پر پرا گندہ ہوں اور یہ پرنالہ کے پاس نہ ہوں ، تو عیسیٰ بن ابان نے ذکر کیا(یعنی محمد کے شاگرد نے)کہ وہ نجس نہ ہوگا جب تك کہ متغیر نہ ہو اور اس کا حکم جاری پانی کی طرح ہے اور محمد نے فرمایا کہ اگر نجاست چھت کی ایك جانب یا دو جانب ہو تو پانی ناپاك نہ ہوگا اور اس سے وضو جائز ہے اور اگر نجاست تین کناروں پر ہو تو غالب کا اعتبار کرتے ہوئے پانی

 



[1]   حلیہ

[2]     حلیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن