30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اذا کان یصب الماء فیہ من جانب ویغترف من جانب اٰخر انہ لاینجس بادخال الید النجسۃ فیہ [1] اھ وکذلك فی الفتح الی قولہ کحوض الحمام [2] اھ فاکد ذلك ماذکرتہ من المحمل۔
اقول : وعند ھذا فھو فرع جید مقبول(۱)ولا وجہ لردہ کما یعطیہ کلام الحلیۃ تبعا للبدائع انہ کان القیاس فی البئر ان لاتتنجس اصلا کما نقل عن محمد اولا تطھرا بدا کما قالہ بشر المریسی الا ان اصحابنا ترکوا القیاسین بالاٰثار ھذا حاصل مافیھا حملا منھما ایاہ علی الاطلاق ولیس الاولی بنا ان نرد ما جاء عن الائمۃ مع وجود محمل لہ صحیح فقد(۲)تظافرت کلماتھم علی قبول ھذا المعنی فی الحوض الصغیر فلم لایقبل فی البئر ولا تخالفہ الا فی حیأۃ ولامدخل لھا فی الحکم فکل صغیر سواء او ان الماء یدخل فیہ من اعلاہ وفیھا من اسفلھا ولا یختلف بہ الحکم فقد قال فی(۳)الفتح لوتنجست بئرفاجری ماؤھا بان حفرلھا منفذ فصار الماء یخرج
جیسے حمام کا حوض کہ اس میں ایك جانب سے پانی ڈالا جائے اور دوسری جانب سے چُلّو کے ذریعہ نکالا جائے تو ناپاك ہاتھ کے ڈالے جانے سے نجس نہ ہوگا اھ اور اسی طرح فتح میں “ کحوض الحمام “ تك ہے اھ تو اِس نے تاکید کردی اُس محمل کی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور اس وقت یہ اچھی فرع ہے مقبول ہے ، اور اس کے رد کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ حلیہ میں بدائع کی تبعیت میں ہے کہ کنویں میں قیاس یہ تھا کہ کبھی ناپاك نہ ہو جیسا کہ محمد سے منقول ہے یا یہ کبھی پاك نہ ہو جیسا کہ بشر مریسی سے منقول ہے ، مگر ہمارے اصحاب نے دونوں قیاسوں کو آثار کی وجہ سے ترك کردیا ، یہ اُن دونوں کتابوں کا حاصل ہے کہ انہوں نے اس کو اطلاق پر محمول کیا ہے ، اور جو چیز ائمہ سے منقول ہے اور اس کا مناسب محمل بھی موجود ہو تو اس کو رَد کر دینا مناسب نہیں ، کیونکہ چھوٹے حوض میں وہ اس حکم کو قبول کرتے ہیں تو پھر اس کو کنویں میں کیوں نہ قبول کیا جائے حالانکہ کنواں چھوٹے حوض سے صرف صورت میں مختلف ہے یا صورت کا حکم میں کیا دخل ہے؟ ہر چھوٹا برابر ہے ، اور یہ کہ حوض میں پانی اوپر سے آتا ہے اور اس میں نیچے سے آتا ہے ، تو اس سے حکم مختلف نہ ہوگا ، چنانچہ
منہ حتی خرج بعضہ طھرت لوجود سبب الطھارۃ وھو جریان الماء وصار کالحوض اذا تنجس فاجری فیہ الماء حتی خرج بعضہ [3] اھ واغترف منہ فی البحر واقرہ وفی الدر یکفی نزح ماوجد وان قل وجریان بعضہ [4] اھ قال ش بان حفرلھا منفذ یخرج منہ بعض الماء کما فی الفتح [5] اھ وقدمنا فی الاصل الثالث عن البحر فی مسألۃ جریان الحوض الصغیر بدخول ماء اٰخر فیہ وخروج البعض منہ حال دخولہ قال السراج الھندی وکذا البئر [6] اھ ومثلہ فی البزازیۃ وقدمناہ عن الخلاصۃ فلولا انھم اعتبروا نبع الماء من اسفلہ لم یکن لہ معنی فان الجریان دافع لارافع فالنجس لایطھر بہ ابدا مالم یجرمع الطاھر(۱)ھذا وبالجملۃ کل ماالحق بالجاری علی ھذا المنوال اعنی اقامۃ الاخراج مقام الخروج فقد زید فیہ قید اٰخرو ھو توالی الاخراج واستمرار تحرکہ بہ حتی لوسکن لم یلتحق وذلك لان لازم الجریان شیاٰن تعاقب الاجزاء
فتح میں فرمایا کہ اگر کنواں ناپاك ہوجائے اور اس کا پانی جاری کیا جائے مثلاً اس میں کوئی سوراخ کر دیا جس سے کنویں کا کچھ پانی نکل گیا تو کنواں پاك ہوگیا ، کیونکہ سببِ طہارت پایا گیا اور وہ پانی کا جاری ہونا ہے اور یہ حوض کی طرح ہوا کہ ناپاك ہوجائے اور اس میں پانی جاری کیا جائے یہاں تك کہ کچھ پانی نکل جائے ا ھ اس کو بحر میں ذکر کیا اور برقرار رکھا اور دُر میں ہے کہ جو پانی اس میں ہے اس کا نکال دینا کافی ہے خواہ کم ہی ہو اور جاری ہونا بعض کا اھ “ ش “ نے کہا کہ مثلاً کنویں میں کوئی سوراخ کردیا جس سے کچھ پانی نکال دیا جیسا کہ فتح میں ہے اھ اور ہم نے تیسری اصل میں بحر سے چھوٹے حوض کے جاری ہونے کے مسئلہ میں بیان کیا کہ اس میں نیا پانی داخل ہو اور اس کے داخل ہوتے وقت کچھ اس سے خارج ہو ، سراج ہندی نے کہا کہ اس طرح کنویں کا حال ہے اھ اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے اور ہم نے اس کو پہلے خلاصہ سے نقل کردیا ہے تو اگر وہ پانی کے نیچے سے پُھوٹنے کا اعتبار نہ کرتے تو یہ بے معنی بات ہوتی کیونکہ جاری ہونا دافع ہے رافع نہیں تو جب تك وہ نجس طاہر کے ساتھ جاری نہ ہو کبھی بھی پاك ہونے کا نہیں ، اس کو اچھی طرح سمجھئے۔ خلاصہ
یزول منہ جزء فیخلفہ اٰخر وعدم الاستقرار بدوام التحرك فاذا دخل الماء فی الحوض والبئر من جانب واخرج من اٰخر بالغرف والاستقاء وجد الاول واذا استمر ذلك حصل الثانی فتم الشبہ فساغ الالتحاق ولذا اعتبروا تدارك الغرفات بان لایسکن وجہ الماء بین الغرفتین لا الموالاۃ الحقیقیۃ اذ بھذا القدر یحصل دوام التحرك المحصل للشبہ ھذا ما عندی والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
یہ کہ ہر وہ پانی جس کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے اور اس میں اخراج کو خروج گردانا گیا ہے تو اس میں ایك اور قید کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ تسلسل کے ساتھ اخراج کی قید ہے اور اس کی وجہ سے اس کا مسلسل متحرك رہنا ، اور اگر وہ ٹھہر گیا تو جاری کے حکم میں نہ ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری ہونے کو دو چیزیں لازم ہیں ایك تو اجزاء کا تعاقب کہ ایك جزء زائل ہو اور دوسرا جُزء اس کے پیچھے آئے ، اور مسلسل حرکت کی وجہ سے ایك جگہ نہ ٹھہرتا ، تو جب حوض اور کُنویں میں پانی ایك طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے چُلّوؤں اور ڈولوں یا نالیوں کے ذریعہ نکالا جائے تو پہلی چیز حاصل ہوگی اور یہ سلسلہ جاری رہے تو دوسری چیز حاصل ہوگی اور مشابہت مکمل ہوجائیگی اور اس کا لاحق کیا جانا جائز ہوگا اور اس کیلئے چُلّوؤں کا پے درپے ہونا معتبر ہوگا ، اور پے درپے کا مطلب ہے کہ دو چُلّوؤں کے درمیان پانی میں ٹھہراؤ نہ آئے حقیقی موالات مراد نہیں ہیں کیونکہ اس مقدار سے تحرك کا دوام حاصل ہوجاتا ہے جس سے مشابہت پوری ہوتی ہے ھذا ماعندی والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
اس ۱تقریر سے واضح ہوا کہ ندی۱ کا پانی جس کا مینڈھا اوپر سے باندھ دیا ہو اور۲ گلا ہوا برف کہ زمین پر بہ رہا ہو اور۳ مینہ کا پانی کہ بارش تھمنے پر ہنوز رواں ہو اور۴ دو پانیوں کی دھار جو ہوا میں مل کر اُتر رہی ہے یا۵ زمین پر ایك ہو کر بہ رہی ہے اور۶ انگور کا شیرہ کہ ابھی رواں ہے اگرچہ ان کی مدد منقطع ہوگئی ہو جب تك کسی ایسی شے تك نہ پہنچیں جو آگے مرور کو مانع ہو سب جاری ہیں تو لوٹے کی دھار کہ ابھی ہاتھ تك نہ پہنچی بدرجہ اولیٰ اور دخول وخروج دونوں کی شرط اُس مائع میں ہے جو کسی جوف میں رُکا ہوا ہے اور پانی ایك طرف سے آنا اور دوسری طرف سے جلد جلد کھینچا جانا کہ جنبش تھمنے نہ پائے یہ ملحق بہ آب جاری میں ہے والحمدلله علی توالی اٰلائہ ، وافضل صلوٰتہ واکمل تسلیمات علی افضل انبیائہ ، وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہ وابنہ واحبائہ ، والحمدلله رب العٰلمین والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
[1] بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
[2] فتح القدیر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۶
[3] فتح القدیر آخر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۹۳
[4] الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
[5] ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۰
[6] بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع