30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : ای ان وقعت الحقیقیۃ اوالحکمیۃ ان توضأ فیہ بغمس الاعضاء فلا ینبغی علی نجاسۃ المستعمل ثم ھذہ مثل مسألۃ الحوضین بل ھی بعبارۃ ابسط وقد ذکرھا صاحب المنیۃ عن المحیط وفی الذخیرۃ عن القاضی الامام علی السغدی وفی الخانیۃ و غیرھا وقال فی الحلیۃ المصنّف نقل عن المحیط تقیید الجواز بما اذا کان بین المکانین مسافۃ وان کانت قلیلۃ یوافقہ ما فی الخانیۃ تاویلہ اذا کان بین المکانین قلیل مسافۃ وفی مسألۃ الحفرتین(ای یخرج من احدھما الماء و
کے مسئلہ میں تجنیس سے نقل کیا ہے “ یہ کچھ نہیں “ پھر فرمایا اور اس کی نظیر اس کے بعد انہوں نے پر نالہ کا مسئلہ ذکر کیا ، پھر فرمایا وما اشبھہ اور اس میں دو حوضوں کے مسئلہ کو شامل کیا اور اس مسئلہ کو بھی ، پھر فرمایا بحر میں “ اور ذکر کیا سراج ہندی نے امام زاہدسے کہ اگر کسی شخص نے چھوٹے حوض سے ایك نہر نکالی اور نہر میں پانی چھوڑ دیا ، اور جب پانی جاری ہوگیا تو اُس سے وضو کیا ، پھر وہ پانی ایك جگہ جمع ہوگیا تو پھر کسی دوسرے شخص نے اس جگہ سے نہر نکالی اور اس میں پانی چھوڑ دیا اور اس پانی سے وضو کیا اس حال میں کہ پانی جاری تھا پھر وہ پانی کسی دوسری جگہ جمع ہوگیا پھر کسی تیسرے شخص نے بھی یہی عمل کیا تو سب کا وضو جائز ہے کیونکہ ہر ایك نے جاری پانی سے وضو کیا ہے اور جاری اس وقت ناپاك نہیں ہوتا ہے جب تك اس میں تغیر پیدا نہ ہو اھ(ت)۔ میں کہتا ہوں یعنی اس صورت میں جبکہ نجاست حقیقیہ یا حکمیہ اس میں گر گئی ہو ، اگر اس نے اس میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا تو اس کی بناء مستعمل کی نجاست پر نہ ہوگی یہ دو حوضوں کے مسئلہ کی طرح ہے بلالکہ مختصر عبارت کے ساتھ یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے اس کو صاحبِ مُنیہ نے محیط سے نقل کیا ہے اور ذخیرہ میں قاضی علی السغدی سے اور خانیہ وغیرہ میں ، اور حلیہ میں کہا کہ مصنّف نے محیط سے جواز کی قید کو اس صورت میں نقل کیا ہے جبکہ دونوں جگہوں میں مسافت ہو خواہ کم ہی کیوں نہ ہو ، خانیہ میں بھی اس کی موافق عبارت موجود ہے ، اس کی تاویل یہ ہے کہ جبکہ دونوں جگہوں
یدخل فی الاخری وھی مسألۃ الفتح)لوکان بینھما قلیل مسافۃ کان الماء الثانی(ای المجتمع فی الحفرۃ الاخری)طاھرا کذا قالہ خلف بن ایوب ونصیر بن یحیی وھذا لانہ اذا کان بین المکانین مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول یرد علیہ ماء جار قبل اجتماعہ فی المکان الثانی فلا یظھر حکم الاستعمال(ای لایثبت) اما اذا لم تکن بینہما مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول قبل ان یرد علیہ ماء جار یجتمع فی(۱)المکان الثانی فیصیر مستعملا فلا یطھر بعد ذلك انتھی وھذا کلہ بناء علی نجاسۃ المستعمل [1] اھ
اقول : حوض یکری منہ نھر فیجری فیہ ماء فیجتمع فی مکان اٰخر کیف یتصور ھذا من دون مسافۃ بینہما نعم یمکن فی الحفرتین ان تکونا متجاورتین یکون خروج الماء من احدھما دخولہ فی الاخری۔
فان قلت : المراد مسافۃ فوق مایغمس فیھا المتوضیئ اعضائہ لیتحرك
کے درمیان کم درجہ کی مسافت موجود ہو ، اور دو گڑھوں کے مسئلہ میں(یعنی ایك گڑھے سے پانی نکلے اور دوسرے میں داخل ہو اور یہ فتح کا مسئلہ ہے)اگر دونوں کے درمیان کم مسافۃ ہے تو دوسرا پانی(یعنی جو دوسرے گڑھے میں اکٹھا ہے)پاك ہوگا ، خلف بن ایوب اور نصیر بن یحیی نے ایسا ہی کہا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب دونوں جگہوں میں مسافت ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا ہو اس پر دوسرا جاری پانی وارد ہوگا قبل اس کے کہ وہ دوسری جگہ جمع ہو ، تو استعمال کا حکم ظاہر نہ ہوگا(یعنی ثابت نہ ہوگا ، اور جب اُن دونوں کے درمیان مسافت نہ ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا دوسرے جاری پانی کے وارد ہونے سے پہلے وہ دوسری جگہ اکٹھا ہوجائیگا تو مستعمل ہوجائیگا اور اب طاہر نہیں ہوسکتا ہے انتہیٰ ، اور یہ تمام اُس صورت میں ہے جب مستعمل پانی کو ناپاك قرار دیا جائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں ایك ایسا حوض جس سے نہر نکالی جائے اور اس میں پانی چھوڑ دیا جائے ، پھر وہ پانی دوسری جگہ جمع ہوجائے ، یہ عمل دونوں میں مسافت کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ ہاں دونوں گڑھوں میں اس امر کا امکان ہے کہ قریب قریب ہوں ، کہ ایك سے پانی نکلتے ہی دوسرے میں داخل ہوتا ہو۔ (ت)اگر یہ کہا جائے کہ مسافت سے مراد ایسی مسافت ہے کہ جو وضو کرنے والے کے اعضاء کے ڈوبنے
علی الارض بعد انفصالہ من اعضائہ فیأتی علیہ ماء اٰخر قبل دخولہ فی المکان الثانی۔
اقول : اذھو جار فلا یتاثر ولا یفتاق الی ان یجریہ جار اٰخر فلو اجتمع من فورہ فی المکان الثانی لکان طھورا فالوجہ(۱)ان لا یجعل ھذا تقییدا(۲)ولا تاویلا بل بیانا لفائدۃ التصویر بکری النھر ویوجہ بانہ لولا ذلك لانقطع جریانہ بدخولہ فی بطن الثانی کما قدمنا تحقیقہ ان الحرکۃ فی البطن سیلان لاجریان فیقع الوضوءفی الراکد فیفسد ثم(۳)البناء علی مسألۃ فرق الملاقی کما فعلنا فلا حاجۃ الی البناء علی مھجور لکن صاحب الحلیۃ مال الی التسویۃ ثم ذکر السراج مسألۃ المیزاب وعزاھا للشیخ الزاھد ابی الحسن الرستغفنی وقال فیھا وھو یتوضؤ فیہ [2] اھ
اقول : ای بالغمس وبہ یتضح مااجملہ فی الفتح قال لان استعمالہ حصل حال جریانہ والماء الجاری لایصیر مستعملا باستعمالہ ثم قال السراج ومن
سے زائد ہوتا کہ پانی اس کے اعضاء سے جُدا ہونے کے بعد حرکت کرے ، اور اس کے دوسری جگہ داخل ہونے سے پہلے دوسرا پانی اس پر آجائے۔ (ت)
میں کہتا ہوں چونکہ وہ جاری ہے اس لئے متاثر نہ ہوگا اور نہ محتاج ہوگا اس بات کا کہ اس کو کوئی دوسرا جاری پانی جاری کرے اب اگر وہ فوراً ہی دُوسری جگہ جمع ہوجائے تو طہور ہوگا تو وجہ یہ ہے کہ اس کو قید نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کو تاویل قرار دیا جائے بلالکہ وہ نہر کھودنے کے فائدے کا بیان ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا جاری ہونا دوسرے بطن میں داخل ہونے کے سبب منقطع ہوجاتا ، جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے کہ حرکت بطن میں سیلان کہلاتی ہے نہ کہ جریان ، اور اس طرح وضو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوگا اور پانی فاسد ہوجائیگا ، پھر ملاقی کے فرق کے مسئلہ پر اس کی بنا ہے جیسا کہ ہم نے کیا ہے ، تو کسی مہجور ومتروك چیز پر بنا کی حاجت نہیں ، لیکن صاحبِ حلیہ کا میلان برابری کی طرف ہے ، پھر سراج نے پرنالہ کا مسئلہ بیان کیا اور اس کو شیخ زاہد ابو الحسن الرستغفنی کی طرف منسوب کیا اور اس میں کہا “ اور حالانکہ وہ اس میں وضو کررہا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یعنی وہ اعضاء کو ڈبو کر وضو کر رہا ہے اور اسی سے وہ چیز واضح ہوتی ہے جس کا انہوں نے فتح میں اجمال کیا ہے۔ فرمایا کہ اس کا استعمال پانی کے جاری رہنے کی صورت میں ہوا ہے اور جاری پانی
المشائخ من انکر ھذا القول وقال الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر قال والصحیح القول الاول بدلیل مسألۃ واقعات الناطفی فذکر مسألۃ سد النھر ممن فوق قال فان ھناك لم یبق للماء مدد ومع ھذا یجوز التوضؤ بہ [3] اھ
کسی کے استعمال سے مستعمل نہیں ہوتا ہے ، پھر سراج نے فرمایا : اور بعض مشائخ نے اس قول کا انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کا سوتا ہو جیسے چشمہ یا نہر ، فرمایا اور صحیح پہلا قول ہے ، اس پر دلیل واقعات الناطفی کی عبارت ہے ، پھر انہوں نے نہر کو بند کرنے کا مسئلہ ذکر کیا کہ اس صورت میں پانی کی مدد باقی نہ رہی لیکن اس کے باوجود اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
اقول : ولا تنس ماقدمناہ(ہم نے جو پہلے ذکر کیا ہے اُسے نہ بُھولیے۔ ت)علامہ نے ردالمحتار میں اور مسائل سے اس قول دوم کی تائید کی فقال ویؤیدہ ایضا مامر من انہ لوسال(۱)دم رجلہ مع العصیر لاینجس خلافا لمحمد[4] (فرمایا اور اس کی تائید یہ عبارت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کا خون پھلوں کے رس کے ساتھ جاری ہوا تو نجس نہ ہوگا ، اس میں محمد کا خلاف ہے اھ۔ ت(
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع