دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اصل سوم میں گزرا کہ دخول وخروج دونوں اس جریان کے رکن ہیں اُن میں سے جو نہ پایا جائے گا جریان نہ ہوگا اور اصل نہم میں ردالمحتار وضیاء وجامع المضمرات وبزازیہ وخلاصہ وفتاوٰی سے گزرا کہ لوٹے کی دھار جب تك ہاتھ پر نہ پہنچی جاری ہے حالانکہ یہ محض خروج بلا دخول ہے۔

اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اللہ ہی کی توفیق سے میں کہتا ہوں اور اسی کی مدد سے تحقیق کی گہرائی تك پہنچنا ہے۔ ت)اس کی تنقیح وتطبیق ایك اور خلافیہ کی توضیح وتوفیق پر مبنی ہے علما(۱)مختلف ہوئے کہ جاری ہونے کیلئے اوپر سے مدد آنا بھی ضرور ہے یا بلا مدد کسی مائع کا آپ بہنا بھی جریان ہے محقق علی الاطلاق نے اول کو ترجیح دی فتح میں فرمایا :

الحقوا بالجاری حوض الحمام اذا کان الماء ینزل من اعلاہ حتی لوادخلت القصعۃ النجسۃ اوالید النجسۃ فیہ لاینجس وھل یشترط مع ذلك تدارك اغتراف الناس منہ فیہ خلاف ذکرہ فی المنیۃ ثم لابد من کون جریانہ لمدد لہ کما فی العین والنھر ھو المختار[1] اھ ۔ ثم ذکر مسألۃ الاستنجاء بالقمقمۃ ونقل عن التجنیس النظر فیہ بعین مانظر الامام حسام الدین ثم قال قال ای المصنّف فی(۲)التجنیس ونظیرہ ما اوردہ المشائخ فی الکتب ان المسافر اذا کان معہ میزاب واسع(ای یسع لان یتوضأ فیہ)واداوۃ ماء یحتاج الیہ ولا یتیقن وجود الماء لکنہ عـــہ علی طمعہ قبل                            

جاری پانی کے ساتھ حمام کے حوض کو بھی شامل کیا گیا ہے ، جبکہ پانی اس کے اُوپر سے اُتر رہا ہو یہاں تك کہ اگر اس میں ناپاك پیالہ یا ناپاك ہاتھ ڈالا تو ناپاك نہ ہوگا اور آیا اس میں یہ شرط بھی ہے کہ لوگ پے درپے اس میں سے چُلّو بھر کر پانی نکالتے ہوں؟ اس میں اختلاف ہے ، اس کو منیہ میں ذکر کیا ، پھر اس کے جاری رہنے کیلئے اس کو مدد دینے والی چیز ضروری ہے جیسا کہ چشمہ اور نہر میں ہوتا ہے یہی مختار ہے اھ  پھر استنجاء ٹونٹی کے ساتھ کا مسئلہ نقل کیا اور پھر تجنیس سے نقل کیا کہ اس میں نظر ہے یہ وہی نظر ہے جو حسام الدین نے کی تھی ، پھر کہا کہ مصنّف نے تجنیس میں کہا ہے اور اس کی نظیر مشائخ کا یہ قول ہے کہ مسافر کے پاس جب واسع پر نالہ ہو(یعنی اس میں اتنی گنجائش ہو کہ اس میں وضو کیا جاسکے(

عـــہ  اقول :  لعل وجہ التقیید بہ التنصیص علی انہ یجوز ھذا الاحتیال وان کان علی من الماء فعند عدمہ اولی ۱۲ منہ غفرلہ(م)

اس قید کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس بات پر نص کرنا مقصود ہو کہ یہ حیلہ جائز ہے اگرچہ پانی ملنے کی امید ہو تو جب امید نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔ (ت)

ینبغی ان یأمر احدا یصب الماء فی طرف المیزاب وھو یتوضؤ وعند الطرف الاٰخر اناء طاھر یجتمع فیہ الماء فانہ یکون الماء طاھرا وطھورا لانہ جار قال بعضکم ھذا لیس بشیئ لان الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر وما اشبھہ ومما اشبھہ حوضان صغیران یخرج الماء من احدھما ویدخل فی الاٰخر فتوضأ فی خلال ذلك جاز لانہ جار وکذا اذا(۱)قطع الجاری من فوق وقد بقی جری الماء کان جائزا ان یتوضأ بما یجری فی النھر قبل استقرارہ [2] اھ بالتقاط۔                                                 

اور پانی کا برتن ہو جس کی ضرورت ہو اور پانی کا پایا جانا یقینی نہ ہو لیکن ملنے کی امید ہو ، تو ایك قول یہ ہے کہ وہ کسی کو حکم دے کہ وہ پر نالے کے ایك کنارے سے پانی بہائے اور وہ شخص وضو کرے اور پر نالے کی دوسری طرف ایك پاك برتن ہو جس میں پانی جمع ہوتا ہو تو وہ پانی طاہر اور طہور ہوگا کیونکہ وہ جاری ہے بعض علماء نے فرمایا یہ کچھ نہیں کیونکہ جاری پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس میں نیا پانی شامل ہو رہا ہو جیسے چشمہ اور نہر اور اس کے مشابہ چیزیں ، اور اس کے مشابہ دو چھوٹے حوض ہیں جن میں سے ایك میں سے پانی نکل کر دوسرے میں داخل ہورہا ہو تو کسی نے اس کے درمیان کے پانی سے وضو کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ جاری ہے اور اسی طرح اگر اوپر سے جاری پانی کو قطع کیا اور پانی کا جاری رہنا باقی ہو تو یہ جائز ہے کہ جو پانی نہر میں جاری ہو اس سے وضو کرلے اس کے استقرار سے قبل اھ(ت)

اور علامہ حدادی نے سراج وہاج اور علامہ سراج ہندی نے توشیح میں دوم کی تصحیح کی بحر وتنویر ودُر وغیرہا میں اسی پر اعتماد کیا بحر میں بعد نقل ترجیح فتح فرمایا :

وفی السراج الوھاج ولایشترط فی الماء الجاری المدد ھو الصحیح[3]  اھ ثم ذکر فی البحر عن التجنیس والمعراج وغیرھا مسألۃ جواز الوضوء بما یجری فی نھر سد من فوقہ [4]۔

اور سراج الوہاج میں ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہیں اور یہی صحیح ہے اھ پھر بحر میں تجنیس اور معراج وغیرہ سے یہ مسئلہ منقول ہے کہ وہ نہر جو اُوپر سے بند ہو اس میں جاری پانی سے وضو جائز ہے۔ (ت)

اقول ای فیہ اوبہ اذا وقع فیہ نجس کما لایخفی ثم رأیت فی الحلیۃ اخذ بمثلہ علی متنہ اذقال ظاھر عبارتھم فی ھذہ المسألۃ کما فی الذخیرۃ وواقعات الناطفی اذاسد من فوق فتوضاء بما یجری فی النھر جاز اھ ان یکون الوضوء فی النھر فکان علی المصنف ان یذکر فیہ لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیر جار خارجہ اما باغتراف اواخذ منہ باناء فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبا من ذکر مثلہ [5] اھ

اقول :  ای(۱)عتب علی المصنف اذا کانوا ھم المعبرین بالباء دون فی فھذا محل التفسیر لاالاخذ کما فعل الفقیر قال البحر فھذا یشھد لما فی السراج [6]  اھ

اقول :  نعم(۲)لکن لاینبغی عزوہ للتجنیس فانہ لیس جانحا الیہ بل ھو فی عداد ما رد علیہ کما یظھر من عبارۃ الفتح حیث نقل عن التجنیس فی مسئلۃ القمقمۃ                                                

میں کہتا ہوں یعنی اس میں یا اُس سے جبکہ اس میں نجاست گر جائے کما لایخفی ، پھر میں نے حلیہ میں دیکھا کہ متن میں انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ فرماتے ہیں ان کی عبارت کا ظاہر اس مسئلہ میں جیسا کہ ذخیرہ اور واقعات ناطفی میں ہے کہ جب نہر کو اُوپر سے بند کر دیا جائے اور پھر کوئی شخص اس پانی سے وضو کرے جو نہر میں جاری ہے تو جائز ہے ، اور یہ کہ وضو نہر میں ہو ، تو مصنّف پر لازم تھا کہ “ فیہ “ کا ذکر کرتے کیونکہ اس سے وضو کا جواز بہت واضح ہے ، خواہ وہ جاری ہو یا نہ ہو ، وضو کرنے والا نہر سے باہر چلّو کے ذریعے نہر سے پانی لے کر یا کسی برتن کے ذریعے حاصل کرکے وضو کرے بہرصورت بقائے جریان کی قید درست نہیں پھر اُن کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ اس قسم کی چیزیں وہ ذکر کریں اھ(ت)

میں کہتا ہوں جب وہ خود “ باء “ سے تعبیر کرتے ہیں تو مصنّف پر کیا اعتراض ہے ، تو یہ تفسیر کا محل ہے نہ کہ گرفت کرنے کا ، جیسا کہ فقیر نے کیا ہے ، بحر نے فرمایا یہ اس چیز کی شہادت دیتا ہے جو سراج میں ہے اھ(ت)

میں کہتا ہوں ، ہاں ، لیکن اس کو تجنیس کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ، کیونکہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہیں بلالکہ وہ اس پر رد کرتے ہیں ، جیسا کہ فتح کی عبارت سے ظاہر ہے کیونکہ انہوں نے ٹونٹی

 



[1]          فتح القدیر بحث الماء الجاری نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹

[2]   فتح القدیر بحث الماء الجاری نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹

[3]   بحرالرائق  بحث الماء الجاری  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶

[4]   بحرالرائق  بحث الماء الجاری  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶

[5]   حلیہ

[6]   بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن