30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۔ آب طاہر کثیر ہو کر نجس تك پہنچے ، یا
۲۔ حوض بھر کر ابل جائے ، یا
۳۔ صغیر کو بہائے اور نجاست غیر مرئیہ رہ گئی ہو ، یا
۴۔ صغیر کو بہا کر دہ در دہ پر ٹھرے۔
اور طہارت زیریں تابع مطلقًا تابع طہارت بالا ہے اور طہارت زیریں مستقل کو تین شرطیں درکار :
اوّل : اس کا جاری ہونا۔
دوم : نجاست کا راسبہ ہونا۔
سوم : یا تو نجاست غیر مرئیہ ہو یا طافیہ ہے تو جریان حد کثرت پر ٹھہرے اُنہی کے اجتماع وافتراق سے زیروبالا کے احکام پیدا ہوں گے طہارت بالا کی اگر کوئی صورت نہ پائی جائے دونوں حصّے مطلقًا نجس ہیں کہ اس مسئلہ میں نجاست بالا وطہارتِ زیریں معقول نہیں اور اگر اُن میں سے کوئی صورت متحقق ہو اور اُس کے ساتھ غیر صغیرمستقل نہ ہو یا ہو تو اُس کی تینوں شرطیں جمع ہوں تو سب پاك ہے اور اگر طہارت بالا کی کوئی صورت پائی گئی اور صغیر مستقل ہے اور اس کی کوئی شرط منتفی ہوئی تو اسفل ناپاك اعلیٰ پاک۔
ضابطہ بروجہ سوم کہ توزیع احکام کرے حکم تین ہیں :
۱۔ سب پاک
۲۔ سب ناپاک
۳۔ صرف حصہ بالا پاک۔ اس ضابطہ میں ہر حکم کی صورتیں جُدا کی جائیں گی۔
فاقول : اگر(۱)آب طاہر آب نجس سے نہ کثیر ہو کر ملا نہ بعد کو اُبلا نہ نجاست غیر مرئیہ میں صغیر کو بہایا نہ باقیہ میں بہا کر دہ در دہ پر ٹھہرا تو ان [1] اٹھائیس۲۸ صورتوں میں دونوں حصّے مطلقًا ناپاك ہیں اور۲ اگر حوض قسم دوم سے ہو یا چہارم میں صغیر تابع قابل اجرا نہ ہو اور دونوں صورتوں میں آب طاہرکثیر ہو کر نجس سے ملا یا۳ بعد کو اُبلا ، یا۴ آب نجس حوض صغیر تابع خواہ مستقل میں قابل اجرا تھا اور نجاست غیر مرئیہ [2] رہ گئی تھی اگرچہ دہ در دہ سے کم پر ٹھہرا ، یا۵ مرئیہ میں وہ صغیر تابع تھا اگرچہ راسبہ ہوا اور اُسے بہا کر[3] کثرت پر ٹھہرایا۶ بعد کو اُبلا ، یا۷ صغیر مستقل تھا اور نجاست طافیہ اور بہا کر کثرت پر ٹھہرا [4] ، ان ستر۷۰ صورتوں میں دونوں حصے مطلقًا پاك رہیں اور اگر صغیر ستقل تھا اور آنے والے پانی نے اُسے نہ بہایا کہ جگہ نہ تھی خواہ نجس پانی اس کی حدود سے باہر تھا یا بہایا تو نجاست راسبہ تھی اور ان دونوں صورتوں میں پانی۸ ، ۹ اُس نجس سے کثیر ہو کر ملا خواہ صورت اخیرہ میں بہا کر کثرت پر ٹھہرا یا ۱۰ ، ۱۱ دونوں صورتوں میں بعد کو اُبلایا۱۲ نجاست طافیہ تھی اور قلت پر ٹھہر کر آخر میں اُبلا ان [5] بائیس صورتوں میں اسفل ناپاك اعلیٰ پاک۔
اقول اولا : یہیں سے ظاہر ہوا کہ کلام علمائے کرام حوض قسم دوم میں ہے ورنہ بانوے۹۲ صورتوں سے نقض وارد ہو جن میں سے ستّر میں طہارت کل یقینی ہے اور بائیس میں طہارت اعلیٰ۔ تردّد ہے تو نجاست اسفل میں اور حوض قسم دوم میں بیشك حکم یہی ہے کہ اعلیٰ اسفل سب ناپاك صرف دو استثنا ہیں جن میں سب پاك ہوگا ایك یہ کہ بھر کر اُبل جائے یہ صراحۃً اُن کے کلماتِ عالیہ میں مذکور حلیہ وبدائع وفتح سے گزرا امتلأ ولم یخرج منہ شیئ(وہ بھر گیا اور اس سے کوئی چیز خارج نہ ہوئی۔ ت)دوسرے یہ کہ آنے والا پانی کثیر ہو کہ اُس نجس سے ملے یہ بجائے خود معلوم ومعہود کہ کثیر بے تغیر نجاست قبول نہیں کرتا تو اطلاق علمائے کرام صحیح وبے غبار ہے اور تحقیق بازغ وتنقیح بالغ یہ ہے جو بتوفیقہ عزّوجل قلبِ فقیر پر القا ہوئی۔
ثانیا : نیز یہ بھی واضح(۱)ہوا کہ قول دوم بھی بے وجہ نہیں بلالکہ وہ اُن ستّر صور پر محمول جن میں سب پانی پاك رہتا ہے وباللہ التوفیق۔
ثالثا : یہ بھی لائح ہوا کہ یہ محل(۲)ایك قول کی تصحیح دوسرے کی تضعیف کا نہیں بلالکہ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ،
ولله الحمد کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی ، وصلی الله تعالٰی وبارك وسلّم علی المصطفٰی الارضی ، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ما علت سماء ارضا ، والحمدلله ربّ العٰلمین والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اللہ ہی کیلئے بہت پاکیزہ حمد ہے اس میں برکت ہو جتنی ہمارے رب کو پسند ہے اور اتنے درود وسلام ہوں محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر آپ کی آل ، اصحاب ، اولاد ، گروہ سب پر جب تك آسمان زمین سے بلند رہے ، والحمدلله رب العالمین والله سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
تنبیہ جلیل
وتشیید التفریع والتاصیل ، وعلی الله ثم علی رسولہ التعویل ، جل وعلا
تنبیہ جلیل
اور اصل بیان کرنے اور فروعی مسائل کا استنباط کرنے کی بنیاد ، اور بھروسا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ہے پھر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) یہ چار ہوئیں اور بہر تقدیر نجاست کی ہر قسم۔ حاصل ۱۶ اور صغیر۱۰ مستقل جاری میں مبد وکثیر ہو یا منتہی بہرحال اُبلے یا نہیں اور نجاست خاص راسبہ۔ یہ چار ہوئیں اور۱۱ اگر دونوں قلیل ہیں اور اُبلا تو نجاست راسبہ ہو خواہ۱۲ طافیہ یہ دو مل کر چھ۶ہوئیں ، حاصل$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع