دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

میں کہتا ہوں ہاں یہ درست ہے گناہ ہر عبادت سے اللہ کی رحمت سے زائل ہوجاتے ہیں ....... مگر گناہوں کا کسی قربت کی وجہ سے زائل ہونا اس امر کا متقاضی نہیں کہ وہ آلہ تطہیر کی طرف منتقل ہوجائیں ، یہ بات صرف اُسی آلہ میں ہے جس کو شریعت نے متعین کیا ہو جیسے زکوٰۃ میں مال اور طہارت میں پانی ، کیونکہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے کہ زکوٰۃ لوگوں کا میل کچیل ہے ، اس کو احمد ومسلم نے عبدالمطلب بن ربیعہ سے روایت کیا۔ اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا تو گناہ اُس کے جسم سے نکلیں گے یہاں تک کہ اُس کے ناخنوں کے نیچے سے نکلیں گے ، اس کو شیخین نے امیر المؤمنین عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ، اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا جب مسلم یا مومن بندہ وضو میں اپنا چہرہ دھوتا تو اُس کے چہرہ سے ہر گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں

عن امیر المومنین عثمان رضی الله تعالٰی  عنہ ،

وقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأ العبد المسلم اوالمؤمن فغسل وجہہ خرج من وجہ کل خطیئۃ نظر الیہا بعینیہ مع الماء اومع اٰخر قطر الماء فاذا غسل یدیہ خرج من یدیہ کل خطیئۃ کان بطشتھا یداہ مع الماء اومع اٰخر قطرالماء فاذا غسل رجلیہ خرج کل خطیئۃ مشتھارجلاہ مع الماء اومع اٰخر قطرالماء حتی یخرج نقیامن الذنوب [1]رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ ، والاحادیث کثیر شھیر فی ھذا المعنی و(۱) اصحاب المشاھدۃ الحقۃ اعاد الله علینا من برکاتھم فی الدنیا والاٰخرۃ یشاھدون ماء الوضوء یخرج من اعضاء الناس متلوثا بالاٰثام متلونا بالوانھا البشعۃ وعن ھذا حکم امام اھل الشھود ابو حنیفۃ رضی الله تعالٰی  عنہ ان الماء المستعمل نجاسۃ مغلظۃ لانہ کان یراہ متلطخا بتلك القاذورات فما کان یسعہ الا الحکم بھذاوکیف یردالانسان امرا یراہ بالعیان قالا الامام العارف بالله سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی وکان من کبار العلماء الشافعیۃ فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رضی الله تعالٰی  عنہ(وکان ایضا شافعیا کما سیأتی)(۲) یقول مدارك الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی  عنہ دقیقۃ لایکاد یطلع علیھا الا

آنکھوں سے دیکھا ہو پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ ، جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو جو گناہ اس نے اپنے ہاتھوں سے کئے وہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو اُس کے پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ اس کو مسلم نے ابو ھریرہ سے روایت کیا۔

اور اس مفہوم کی احادیث بکثرت مشہور ومعروف ہیں ، اور اصحاب مشاہدہ اپنی آنکھوں سے وضو کے پانی سے لوگوں کے گناہوں کو دھلتا ہوا دیکھتے ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ اہل شہود کے امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مستعمل پانی نجاست مغلظہ ہے کیونکہ وہ اس پانی کو گندگیوں میں ملوّث دیکھتے تھے ، تو ظاہر ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے ، اس کے علاوہ اور کیا حکم لگا سکتے تھے۔

امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص(جو بڑے شافعی عالم تھے(کو فرماتے سُنا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مشاہدات اتنے دقیق ہیں جن پر بڑے بڑے صاحبانِ کشف اولیاءاللہ ہی مطلع ہوسکتے ہیں ، فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ جب وضو میں استعمال شدہ پانی دیکھتے تو اس میں جتنے صغائر وکبائر مکروہات ہوتے ان کو پہچان لیتے تھے ، اس لئے جس پانی کو مکلّف نے استعمال کیا ہو اس کے تین درجات آپ نے مقرر فرمائے :

اوّل : وہ نجاست مغلظہ ہے کیونکہ اس امر کا احتمال ہے کہ مکلّف نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔

اھل الکشف من اکابر الاولیاء قال وکان الامام ابو حنیفۃ اذ رأی ماء المیضأۃ یعرف سائر الذنوب

دوم : نجاست متوسطہ اس لئے کہ احتمال ہے کہ مکلف نے صغیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔

التی خرت فیہ من کبائر وصغائر ومکروہات فلہذا جعل ماء الطہارۃ اذا تطھر بہ المکلف لہ ثلثۃ احوال احدھا انہ کالنجاسۃ المغلظۃ لاحتمال ان یکون المکلف ارتکب کبیرۃ الثانی کالنجاسۃ المتوسطۃ لاحتمال ان یکون ارتکب صغیرۃ الثالث طاھر غیر مطھر لاحتمال ان یکون ارتکب مکروھا[2] وفھم جماعۃ من مقلدیہ ان ھذہ الثلثۃ اقوال فی حال واحد والحال انھا فی احوال بحسب حصر الذنوب فی ثلٰثۃ اقسام کما ذکرنا اھ وفیہ ایضا رضی الله عن الامام ابی حنیفۃ ورحم اصحابہ حیث قسموا النجاسۃ الی مغلظۃ ومخففۃ لان المعاصی لا تخرج عن کونھا کبائر اوصغائر [3] وسمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالٰی لوکشف للعبد لرأی الماء الذی یتطھر منہ الناس فی غایۃ القذارۃ والنتن فکانت نفسہ لاتطیب باستعمالہ کمالا تطیب باستعمال ماء قلیل مات فیہ کلب اوھرۃ قلت لہ فاذن(۱)کان الامام ابو حنیفۃ وابو یوسف من اھل الکشف حیث قالا بنجاسۃ الماء المستعمل قال نعم کان ابو حنیفۃ وصاحبہ                     

سوم : طاہر غیر مطَہِّر ، کیونکہ احتمال ہے کہ اس نے مکروہ کا ارتکاب کیا ہو ، ان کے بعض مقلدین سمجھ بیٹھے کہ یہ ابو حنیفہ کے تین اقوال ہیں ایک ہی حالت میں ، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تین اقوال گناہوں کی اقسام کے اعتبار سے ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور اسی کتاب میں ہے کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب نے نجاست کو مغلظہ اور مخففہ میں تقسیم کیا ہے ، کیونکہ معاصی ، کبائر ہوں گے یا صغائر۔ اور میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا کہ اگر انسان پر کشف ہو جائے وہ طہارت میں استعمال کئے جانے والے پانی کو انتہائی گندہ اور بدبودار دیکھے گا اور وہ اس پانی کو اسی طرح استعمال نہ کرسکے گا جیسے اُس پانی کو استعمال نہیں کرتا ہے جس میں کتّا بلّی مرگئی ہو میں نے اُن سے کہا اس سے معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف اہل کشف سے تھے کیونکہ یہ مستعمل کی نجاست کے قائل تھے ، تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ ابو حنیفہ او ر ان کے صاحب بڑے اہل کشف تھے ، جب وہ اُس پانی کو دیکھتے جس کو لوگوں نے وضو میں استعمال کیا ہوتا تو وہ پا نی میں گرتے ہوئے گناہوں کو پہچان لیتے تھے اور کبائر کے دھوون کو صغائر کے دھوون سے الگ

من اعظم اھل الکشف فکان اذا رأی الماء الذی یتوضأ منہ الناس یعرف اعیان تلك الخطایا التی خرت فی الماء ویمیز غسالۃ الکبائر عن الصغائر والصغائرعن المکروھات والمکروھات عن خلاف الاولی کالامور المجسدۃ حسا علی حد سواء قال وقد بلغنا انہ دخل مطھرۃ جامع الکوفۃ فرأی شابا یتوضأ فنظر فی الماء المتقاطر منہ فقال یاولدی تب عن عقوق الوالدین فقال تبت الی الله عن ذلك ورأی غسالۃ شخص اخر فقال لہ یااخی تب من الزنا فقال تبت ورأی غسالۃ اخر فقال تب من شرب الخمر وسماع اٰلات اللھو فقال تبت [4] اھ  وفیہ ایضا رحمہ الله تعالٰی  مقلدی الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی  عنہ حیث منعوا الطھارۃ من ماء المطاھر التی لم تستجر لما یخر فیھا من خطایا المتوضئین وامروا اتباعھم بالوضوء من الانھاراوالاٰبار او البرك الکبیرۃ وکان سیدی علی الخواص رحمہ الله تعالٰی  مع کونہ شافعیا لایتؤضا من مطاھر المساجد فی اکثر اوقاتہ ویقول ان ماء ھذہ المطاھر لاینعش جسدامثالنا لتقذرھا بالخطایا التی خرت فیھا وکان یمیز بین غسالات الذنوب ویعرف غسالۃ الحرام من المکروہ من خلاف الاولی       

ممتاز کرسکتے تھے ، اور صغائر کے دھوون کو مکروہات سے اور مکروہات کے دھوون کو خلافِ اولیٰ سے ممتاز کرسکتے تھے اسی طرح جیسے محسوس اشیاء ایک دوسرے سے الگ ممتاز ہوا کرتی ہیں ، فرمایا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ آپ جامع کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے ، تو دیکھا کہ ایک جوان وضو کررہا ہے ، اور پانی کے قطرات اُس سے ٹپک رہے ہیں تو فرمایا اے میر ے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر۔ اس نے فوراً کہا میں نے توبہ کی۔ ایک دوسرے شخص کے پانی کے قطرات دیکھے تو فرمایا اے میرے بھائی! زنا سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی۔ ایک اور شخص کے وضو کا پانی گرتا ہوا دیکھا تواُس سے فرمایا شراب نوشی اور فحش گانے بجانے سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی اھ

 



[1]          صحیح للمسلم خروج الخطاء مع ماء الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۵

[2]  المیزان الکبرٰی کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۹

[3]         المیزان الکبری کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۸

[4]      المیزان الکبری الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن