30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ا ب کہ ا ب سَوہاتھ اور ح ع کم ہے کثرت منتہی یہ کہ یہاں بھی دہ در دہ ہو جیسے اسی شکل میں جب کہ سطح ح ع سَو ہاتھ اور سطح ا ب زائد ہو یا شکل سوم مذکور جواب چہارم میں کہ ا ب و ح ع دونوں مساوی ہیں کثرتِ مبدءیہ کہ ناپاك پانی جہاں تك بھرا ہے مثلاً بحالی قابلیت اجرا ھ سے ر تك یا بحال عدمِ قابلیت ی سے م تك وہاں سے مدخل آب تك اتنی جگہ ہے کہ آنے والا پاك پانی وہ دہ در دہ ہو کر ناپاك پانی سے ملے گا مثلاً ا سے جو پانی ح پر آیا اور پہلی صورت میں ہ سے ناپاك پانی تھا تو ہ تك پہنچنے سے پہلے سطح ح ہ میں سَو ہاتھ مساحت ہو اور دوسری صورت میں ی سے نجس پانی تھا تو ی سے اوپر اوپر سطح ح ی میں دہ در دہ کی وسعت ہو قلت مبدء یہ کہ اتنی جگہ نہیں بلکہ دہ در دہ سے کم رہ کر اُس سے ملے بہرحال نجاست مرئیہ پاك پانی داخل ہونے سے پہلے نکال لی گئی تو مخرجہ ہے ورنہ باقیہ راسبہ خواہ طافیہ ظاہر ہے کہ حوض زیر بحث قسم دوم سے ہوگا یا چہارم سے اور چہارم تابع یا مستقل اور دونوں قابل اجرا یا ناقابل یہ پانچ صورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہوگا یا قلیل بروجہ دوم منتہی بھی قلیل ہوگا یا کثیر یہ تین ہو کر پندرہ۱۵ ہوئیں۔ بہرحال نجاست غیر مرئیہ ہوگی یا مرئیہ اور مرئیہ مخرجہ یا باقیہ اور باقیہ راسبہ یا طافیہ یہ چار ہو کر ساٹھ۶۰ ہوئیں بہر صورت حوض بالا بھر کر اُبلا یا نہیں جملہ ایك سو بیس۱۲۰۔ اب ہم بتوفیقہ تعالٰی ان کا ضبط کریں کہ ہر تقسیم اُسی صورت میں آئے جس سے وہاں حکم مختلف ہو۔
فاقول : وبالله ربی استعین اولًا : حوض اگر قسمِ دوم سے ہو یا قسم چہارم سے اور صغیر ناقابل اجرا تابع خواہ مستقل اور بہرحال نہ کثیر المبدء تھا نہ بھر کر اُبلا تو مطلقًا سب ناپاك ہوگیا عام ازیں نجاست کسی قسم کی ہو اور منتہی قلیل ہو یا کثیر کہ جتنا پانی نجاست سے ملتا گیا نجس ہوتا گیا اور نجس کثیر ہو کر طاہر نہیں ہوسکتا یہ تین صورتیں ہوئیں بلکہ ایك ہی کہ ناقابلِ اجرا سب کو شامل ہے اور تفصیلاًبالحاظ کثرت وقلت منتہی واقسام نجاست چوبیس۲۴۔
ثانیاً : انہی صور ثلثہ سے پہلی دو۲ صورتوں یعنی قسم دوم وناجاری تابع میں اگر کثیر المبدء تھا یا بھر کر اُبلا تو مطلقًا سب پاك ہوگیا یہ چار صورتیں ہوئیں بلکہ دو ہی کہ نامستقل دونوں کو شامل اور تفصیلاً بتیس۳۲ کو کثیر المبدء اُبلے یا نہیں اور اُبلنے والے قلیل المبدء میں منتہی قلیل ہو یا کثیر اور ہرایك قسم دوم سے ہو یا ناجاری تابع اور بہرحال نجاست کسی قسم کی۔
ثالثاً : انہی کی صورت سوم ناجاری مستقل میں کثرتِ مبدء یا اُبلالنے سے حوضِ بالا مطلقًا پاك رہے گا کہ اُس کا پانی ناپاك پانی سے کثیر ہو کر ملا(اصل ۸)یا بعد کو بہ گیا(اصل ۱)اور صغیر مطلقًا ناپاك ہونا چاہئے۔ اگرچہ نجاست غیر مرئیہ ہو کر بہا نہیں اور مستقل ہے(جواب۴)تو نجاست موجود اور سبب تطہیر مفقود صورت کثرت مبدء تو واضح ہے اور صورت اجرا میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کا استقلال اس کے اجرا کو اس کا اجرا ہونے سے مانع ہوگا اگر کہیے کہ مانع نہ ہوگا شکل 
ج میں ج ح اور ر ك زمین کے ٹکڑے جنہوں نے حائل ہو کر ہ ط کو ا ء سے ممتاز شکل کر دیا اگر ہٹا دئے جائیں تو شك نہیں کہ ا ب کا اجرا تمام شکل ا ك کا اجرا ہوگا جس میں ہ ط بھی داخل تو اتنے ٹکڑے کم کر لینے سے اثر اجرا کہ ہ ط تك پہنچتا تھا ہ ر پر کیوں ختم ہوجائیگا تو جواب وہی ہے کہ وہ ٹکڑے ہٹ جائیں تو ر ك شکل واحد میں سب پانی ایك ہے بخلاف اس صورت کے کہ اب دو شکلوں میں دو پانی ہیں فلیتأمل یہ دو صورتیں ہوئیں اور تفصیلاً اُسی طرح سولہ۱۶۔
رابعا : صغیر قابلِ اجرا اور نہ ہوگا مگر قسم چہارم سے کہ قسم دوم اصلاً قابلِ اجرا نہیں جب تك سارا حوض بھر کر نہ بہے ظاہر ہے کہ اب جو پانی اُوپر سے آئیگا ضرور اُسے بھر کر بہا دے گا(اصل۵)تو اُس وقت اس کی طہارت میں کلام نہیں(اصل۱)عام ازیں کہ مستقل ہویا تابع کہ اجرا سے طہارت کے لئے کوئی مقدار شرط نہیں(اصل۲)اب اگر نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ ہے تو عود نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ جریان اس نجاست کو فنا کردیتا ہے(اصل۱۰)تو مطلقًا زیرو بالا دونوں حصّے پاك ہیں اگرچہ نہ مبدء کثیر ہو نہ منتہیٰ کہ جریان کیلئے کوئی حد خاص مقدر نہیں(اصل۴)خواہ بھر کر اُبلے یا نہیں کہ طاہر کو اجرا کی حاجت نہیں یہ چار صورتیں ہوئیں کہ قابل اجرا تابع یا مستقل اور نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ بلکہ ایك ہی کہ قابل اجرا اور نجاست غیر مرئیہ کہ بعد اخراج مرئیہ بھی غیر مرئیہ ہے اور تفصیلاً چوبیس۲۴ کہ ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہو یا قلیل اور منتہیٰ کثیر یا وہ بھی قلیل اور ہر صورت پر اُبلے یا نہیں۔
خامسا : اسی صورت قابل اجرا میں نجاست باقیہ ہو تو مبدء یا منتہی کثیر ہونے کی حالت میں اگر نجاست طافیہ ہے مطلقًا دونوں حصے پاك رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل کبیر اُبلے یا نہ اُبلے کہ جریان صغیر نے اُسے پاك کردیا اور وہ اگرچہ مستقل ہو نجاست کہ طافیہ تھی اس میں نہ رہی آبِ بالا کی طرف منتقل ہوگئی اور یہ آب بالا اُسے بہانے والا اُس سے متاثر نہ ہوا اگر کثیر تھا تو ظاہر(اصل۸)اور قلیل تھا جب بھی بحالتِ جریان توپاك تھا ہی(اصل۴)اور یہ جریان منتہی نہ ہوا جب تك اُس فضائے حوض کبیر کو کہ محاذات صغیر میں ہے بھر نہ دیا(اصل۴)کہ عرض میں پھیلنا جریان کا مانع نہیں(اصل۷)اور اس وقت دہ در دہ ہوچکا تھا بہرحال قا بل قبول نجاست نہ ہوا یوں ہی اگر راسبہ ہے اور صغیر تابع کہ اگرچہ وقوف جریان کے وقت نجاست اُس میں موجود تھی مگر آبِ بالا بوجہ کثرت متاثر نہ ہوا اور یہ بوجہ تبیعت اُس کے ساتھ شَے واحد ہے تو پاك ہی رہے گا
اور جریان بالا کی حاجت نہیں جیسے حوض قسم دوم کا اسفل ہے اگرچہ مساحت میں کتنا ہی کم رہ جائے اور اُس میں نجاست موجود ہو جب اوپر کثیر ہے یا اجرا ہوجائے کوئی حصہ ناپاك نہ رہے گا ہاں اس صورت میں اگر صغیر مستقل ہے تو کبیر کہ کثیر ہے پاك رہے گا اور صغیر پھر ناپاك ہونا چاہئے کہ اُس سطح کے بھرتے ہی جریان ٹھہر گیا اور اُس وقت نجاست خود اس میں موجود ہے اور یہ تابع نہیں تو جریان بالا بھی اگر ہوا سے مفید نہیں اور اگر مبدء ومنتہیٰ دونوں قلیل ہیں اور حوض بالا بہا بھی نہیں تو مطلقًا دونوں حصے ناپاك رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل اور نجاست طافیہ ہو یا راسبہ کہ اگرچہ اجرائے صغیر نے اسے پاك کیا اور اُس وقت تك وہ آنے والا پانی بھی پاك تھا مگر جریان ٹھہرا قلت پر تو آب قلیل ساکن میں نجاست موجود ہے خواہ بالا میں اگر طافیہ ہے یا زیریں میں اگر راسبہ تو وہ نجس ہوگیا(اصل۶)اور دوسرا قلیل کہ اوّل میں زیریں اور دوم میں بالا ہے اس آبِ نجس سے متصل ہے تو دونوں نجس ہوگئے اور بعد کو جو پانی بڑھا بطنِ حوض میں متحرك ہوا تو دوبارہ اجرا نہ ہوا(اصل ۳ و ۵)اس بڑھنے میں سیلان سہی مگر وہ جریان کیلئے کافی نہیں(اصل۹)اور اگر حوض بالا بہا اور صغیر تابع ہے تو سب پاك اگرچہ نجاست راسبہ ہو لمامر اٰنفا(جیسے ابھی گزرا۔ ت)اور مستقل ہے تو صغیر بوجہ اتصال نجاست ناپاك ہونا چاہئے اگرچہ طافیہ ہو کہ وقوف جریان کے وقت بالا بسبب قلت ناپاك ہوگیا تھا اور یہ اُس سے متصل پھر جب بالا کا جریان ہوا وہ بوجہ استقلال اس کا جریان نہ ٹھہرنا چاہئے تو یہ نجس ہی رہا اور کبیر بوجہ جریان خود پاك ہوگیا یہ نو صورتیں ہیں کہ کثرت مبدء یا منتہٰی ہر ایك میں تین ہیں طافیہ مطلق اور راسبہ میں صغیر تابع یا مستقل یونہی قلت ہر دو میں تین ہیں عدمِ جریان بالا مطلق اور جریان میں تبعیت واستقلال بلالکہ چھ۶ ہی ہیں کہ دونوں کثرتیں وقوف علی الکثرۃ میں آگئیں اور تفصیلاً چوبیس کہ کثرتِ مبدء یامنتہٰی یا قلتِ ہر دو ہر ایك میں نجاست طافیہ ہے یا راسبہ۔ صغیر تابع ہے یا مستقل بالا بہایا نہیں آٹھ آٹھ ہو کر چوبیس۲۴ ہوئیں مجموع ایك سو بیس اور ضابطہ میں بیس۲۰ ہی بلالکہ صرف بارہ۱۲۔
اقول : ان کان جوف الحوض النجس لایجری بدخول الماء الطاھر فان کثر المبدء اوجری الکبیر طھر الکل لوالصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا والا تنجس الکل وان کان یجری بہ و
میں کہتا ہوں اگر ناپاك حوض کی تہ پاك پانی کے داخل ہونے سے جاری نہیں ہوتی ہے ، تو اگر مبدء زائد ہوگیایا بڑا جاری ہوا ، تو کُل پاك ہے اگر صغیر تابع ہے اور کبیر فقط اگر مستقل ہو ورنہ سب ناپاك ہوگیا ، اور اگر اس کے ساتھ جاری ہو اور
النجاسۃ غیر مرئیۃ طھر الکل وان باقیۃ فان وقف عن الجریان کثیرا وھی طافیۃ اوالصغیر تابع طھر الکل والا فالکبیر وحدہ وان وقف قلیلا ولم یجر الکبیر تنجس الکل وان جری طھر الکل لو الصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع