30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الناس والحاجۃ تندفع بالحکم بالطھارۃ عند ورود الماء علی النجاسۃ فبقی ما وراء ذلك علی القیاس فعلی ھذہ لایفرق بین البدن والثوب ووجہ الفرق لہ علی روایۃ ان فی الثوب ضرورۃ اذکل من تنجس ثوبہ لایجد من یصب ولا یمکنہ الصب بنفسہ ، وجہ قولھما ان القیاس متروك فی الفصلین لتحقق الضرورۃ فی المحلین اذلیس کل من اصابت النجاسۃ بدنہ یجد ماء جاریا او من یصب وقد لایتمکن من الصب بنفسہ مع ان ماذکرہ من القیاس غیر صحیح لان الماء لاینجس اصلا مادام علی المحل النجس [1] اھ مختصرا فقد افاد مرتین ان القضیتین فی غیر الجاری ای وما فی حکمہ من الکثیر ، والعجب ان المدقق العلائی حمل الکلام علی الجاری فقال فی شرحہ(ورد)ای جری(نجس)اذا ورد کلہ اواکثرہ ولو اقلہ لاکجیفۃ فی نھر اونجاسۃ علی سطح لکن قدمنا ان العبرۃ للاثر(کعکسہ)ای اذا وردت النجاسۃ علی الماء تنجس الماء اجماعا [2] اھ۔
دو روایتیں ہیں ، ابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دھونے سے طہارت بالکل نہ ہو کیونکہ پانی جب نجاست سے ملاقی ہوگا تو ناپاك ہوجائیگا خواہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر وارد ہو ، مگر ہم نے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے طہارت کا حکم دیا۔ اور حاجت پانی کے نجاست پر وارد ہونے کی صورت میں پاکی کے حکم کے ساتھ رفع ہوجاتی ہے تو اُس کے علاوہ قیاس کے مطابق رہے گا ، اس بنا پر بدن اور کپڑے میں فرق نہیں کیا جائیگا ، اور ان کے نزدیك وجہ فرق ایك روایت پر یہ ہے کہ کپڑے میں ضرورت ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کا کپڑا ناپاك ہوجائے اس کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے کپڑے پر اُوپر سے پانی بہائے اور خود بھی وہ نہیں بہا سکتا ہے ،
اور طرفین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس دونوں صورتوں میں متروك ہے کیونکہ دونوں جگہ ضرورت متحقق ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کو نجاست لگ جائے نہ تو بہتا ہوا پانی پاتا ہے اور نہ ہی کسی بہانے والے کو پاتا ہے ، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خود بھی نہیں بہا سکتا ہے ، اور اس کے علاوہ جو قیاس اُنہوں نے ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ پانی جب تك نجس جگہ پر رہے ناپاك نہیں ہوتا ہے اھ مختصر ، تو دو مرتبہ انہوں نے بتایا کہ دونوں قضیے غیر جاری پانی میں ہیں یعنی اُس پانی میں جو جاری پانی کے حکم میں ہو ، مثلاً کثیر پانی ، تعجب ہے کہ مدقق علائی نے کلام کو جاری پانی پر محمول کیا ہے ، اور اپنی شرح میں فرمایا ہے(ورد)یعنی جاری ہوا(ناپاک)جب وارد ہوا اس کا کل یا اکثر ، اگر کم جاری ہوا تو یہ حکم نہیں ہوگا جیسا کہ نہر میں مردار یا چھت پر نجاست ، لیکن ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اعتبار اثر کا ہے(جیسا کہ اس کا عکس)یعنی جب کہ نجاست پانی پر وارد ہو تو پانی اجماعاً ناپاك ہوجائیگا اھ(ت)
اقول : (۱)بل لا یتنجس اجماعا اذا کان جاریا مالم یتغیر بھا فالمراد الراکد القلیل قطعا(۲)ولو حمل علیہ لم یحتج فی الاولی الی تقییدھا ولا الاستدراك علیھا والعجب ان السادات الثلثۃ ح وط و ش کلھم حملوہ علی مایعم الراکد والجاری فاعترض الاولان علی الشارح قائلین علی قولہ جری ھذا خاص بما اذا جری علی ارض اوسطح ولا یشمل ما اذا صب علی نجاسۃ لان الصب لایقال لہ جریان مع ان الحکم عام فالاولی ابقاء المصنف علی عمومہ [3] اھ۔
اقول : (۳)اترون ماء جاریا اوکثیرا ورد علی نجس اوبالعکس ھل یتنجس بالورود فاین العموم واشار الثالث الی جوابین فقال فسرالورود بہ لیتأتی لہ التفصیل والخلاف اللذان ذکرھما والا فالورود اعم وایضا فالجریان
میں کہتا ہوں بلالکہ ناپاك نہ ہوگا اجماعاً جبکہ جاری ہو ، جب تك متغیر نہ ہو ، تو مراد تھوڑا سا ٹھہرا ہوا پانی ہے قطعاً ، اور اگر اس پر محمول کیا جائے تو پہلی میں اس کی تقیید کی حاجت نہ ہوگی اور نہ ہی استدراك کی ضرورت ہوگی اور تعجب یہ ہے کہ سادات ثلثہ ح ، ط اور ش نے اس کو ٹھہرے اور جاری پانی دونوں میں عام کر رکھا ہے تو پہلے دو نے شارح پر اعتراض کیا ، اور کہا ہے کہ ان کا قول جری یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ وہ پانی زمین یا سطح پر جاری ہو اور اس صورت کو شامل نہیں ہے جبکہ کسی نجاست پر بہایا جائے کیونکہ بہانے کو جاری ہونا نہیں کہا جاتا ہے حالانکہ حکم عام ہے ، تو اولیٰ وہی ہے کہ مصنّف نے اس کو اس کے عموم پر باقی رکھا ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جاری پانی یا کثیر پانی جو کسی نجاست پر وارد ہو یا بالعکس ، صرف وارد ہونے سے نجس ہوجائے گا؟ تو عموم کہاں ہوا؟ اور تیسرے نے دو جوابوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ورود کی تفسیر اس کے ساتھ اس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی تفصیل کر سکیں اور اس کے خلاف کا بھی ذکر کریں
ابلغ من الصب فصرح بہ مع علم حکم الصب منہ بالاولی رفعا لتوھم عدم ارادتہ [4] اھ
اقول : (۱)لاعموم وعلی(۲)فرضہ کیف یصح تفسیرہ بخاص لیتأتی لہ تقییدہ وجعلہ خلافیۃ بل کان علیہ ان یبقیہ علی عمومہ ویقول وان کان جاریا اذا ورد کلہ ۔ ۔ ۔ الخ
جن کا انہوں نے ذکر کیا ، ورنہ ورود اعم ہے اور نیز جاری ہونا ابلغ ہے بہانے سے ، تو اس کی تصریح کردی حالانکہ بہانے کا حکم اس سے معلوم ہوگیا تھا بطریقِ اولیٰ ، تاکہ ارادہ نہ کرنے کا وہم دفع ہوجائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں کوئی عموم نہیں ہے ، اگر فرض کیا جائے تو اُس کی تفسیر خاص سے کیسے صحیح ہوسکتی ہے تاکہ وہ اس کو مقید کرسکیں اور اس کو اختلافی بنا سکیں ، بلالکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اس کو اس کے عموم پر باقی رکھیں ، اور کہیں کہ اگرچہ جاری ہو جبکہ اس کا کُل وارد ہو الخ(ت)
یہ جواہر زواہر بحمدہ تعالٰی عطیہ سرکار رسالت علیہ افضل الصّلوٰۃ والتحیۃ ہیں والحمدلله علی تواتر اٰلائہ ، وافضل الصلاۃ والسلام علی سید انبیائہ ، وعلیھم وعلیٰ اٰلہ وصحبہ واولیائہ ، باقیین دائمین بدوامہ وبقائہ ، اٰمین والحمدلله رب العٰلمین۔
جب یہ اصول عشرہ ممہد ہو لیے اب تفریعات کی طرف چلئے۔
فاقول : وبالله التوفیق اس مسئلہ میں ۱۲۰ صورتیں ہیں ، جواب چہارم میں حوض کی قسمیں مذکور ہوئیں۔ قسم دوم وہ کہ اسفل اُسی کا جُز ہو شکل واحاطہ میں متمیز نہ ہو جیسے نصف دائرہ۔ قسم چہارم وہ کہ اسفل شکل جداگانہ ہو۔ صغیر تابع وہ کہ پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہو مستقل وہ کہ پچیس ہاتھ یا زائد ہو مگر سَو سے کم ہو ، حوضِ زیریں ناقابل اجرا ایك وہ کہ پانی اُس کی حدود سے باہر تك حوض بالا کے بطن میں بھرا ہو کہ باہر سے جو پانی آئیگا اُس کا بہاؤ اُس حوضِ صغیر میں داخل ہو کر نکلنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس کا اجرا ہو بلکہ حوض بالا ہی کے بطن میں متحرك سمجھا جائے گا کہ جریان نہیں(اصل ۳ و ۵)ظاہر ہے کہ اگر دیگ میں ایك کٹورا رکھا اور نصف دیگ میں ناپاك پانی بھرا ہے لبالب بھر دینے سے بھی کٹورے کا پانی پاك نہ ہوگا نہ دیگ کا کہ اُن میں کسی کا اجرا نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صرف کٹورے میں پانی ہو اور اُس پر پاك پانی ڈالیں یہاں تك کہ بھر کر اُبلے ضرور کٹورا اور اُس کا پانی پاك ہوجائیگا کہ اُس کا اجرا ہوگیا اگرچہ جوفِ دیگ میں(اصل ۲)دوسرا وہ کہ آگے اُبل کر بہنے کو جگہ نہ ہو جیسے اس صورت میں
کہ اگرچہ پانی صرف
ح ع تك ہو آگے منتہی تك بلالندی ہے۔ قابل اجرا وہ کہ پانی اُسی کے اندر اور آگے بہنے کو جگہ ہو قلت منتہی یہ کہ حوضِ بالا کی فضا کہ اس حوضِ زیریں کی محاذات میں ہے مع فضائے حوضِ زیریں دہ در دہ سے کم ہو جیسے اس شکل میں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع