دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اصل ۸ : حوض وغیرہ کے جریان میں اگرچہ خروج لازم تھا مگر ملحق بالجاری یعنی دہ دردہ میں اس کی حاجت نہیں گرمیوں۲ کے خشك تالاب میں جانوروں کے گوبر وغیرہ نجاستیں پڑی ہیں برسات میں پانی آیا اور اُسے بھر دیا اگر تالاب کے جوف میں جہاں سے پانی نے گزر کر اُسے بھرا نجاست ہے جب تو سارا تالاب نجس ہوگیا اگرچہ کتنا ہی بڑا ہو جب تك بھر کر اُبل نہ جائے۔

اقول اس لئے کہ جب بارش یا بہاؤ کا پانی اس کے جوف میں داخل ہوا اب جب تك کہ اُس کے بطن میں متحرك رہے گا جاری نہ کہلائے گا کہ جریان کے لئے خروج شرط ہے اور یہ غیر جاری پانی نجاست سے اُس وقت مِلا کہ ہنوز دہ در دہ نہ تھا کہ جوف میں اس کے مدخل ہی پر نجاستیں تھیں تو نہ جاری ہے نہ کثیر لاجرم ناپاك ہوگیا یوں ہی جتنا پانی آتا گیا ناپاك ہوتا گیا اور نجس پانی کثیر ہوجانے سے پاك نہیں ہوسکتا جب تك جاری نہ ہوجائے اور اگر مدخل آب میں اتنی دُور تك نجاست نہیں کہ وہاں تك آنے والے پانی کے عرض طول کا مسطح سَو ہاتھ تك پہنچ گیا اُس کے بعد نجاست سے مِلا تو اب ناپاك نہ ہوگاکہ کثیر ہو کر ملا اگرچہ جوف سے باہر نہ گیا۔

اقول :  وبما قررنا ظھران المسألۃ مبتنیۃ علی الاصل الثالث لاعلی خلافیۃ مرور نصف الماء اواکثرہ علی نجاسۃ مرئیۃ فان الفتوی فیھا علی الطھارۃ مطلقًا  مالم یتغیر نعم ان(۱)لقی الماء النجاسات فی طریقہ علی شاطیئ الغدیر قبل ان یدخلہ کان علی الخلافیۃ لانہ جار بخلاف المتحرك فی بطن الغدیر کما علمت۔     

اقول : اور جو تقریر ہم نے کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ تیسری اصل پر مبنی ہے ، اس اختلافی مسئلہ پر مبنی نہیں ہے کہ آدھا پانی یا اکثر نجاست مرئیہ پر گزرے ، کیونکہ اس میں فتوٰی مطلقًا  طہارت پر ہے تاوقتیکہ تغیر نہ ہو ، ہاں اگر پانی ملے اپنے راستہ میں ان نجاستوں کے ساتھ جو گڑھے کے کنارے پر ہے قبل اس کے کہ وہ گڑھے میں داخل ہو ، تو یہ اختلافی مسئلہ ہوگا ، کیونکہ وہ جاری ہے بخلاف اس پانی کے جو تالاب کی تہ میں حرکت کر رہا ہو جیسا کہ تو نے جانا۔ (ت)

فتاوی خانیہ وخزانۃ المفتین اور محیط پھر حلیہ نیز خلاصہ وفتح القدیر میں فتاوی اور بحر وہندیہ میں فتح اور غیاثیہ نیز ذخیرہ پھر حلیہ میں فتاواے اہل سمر قند سے ہے :

واللفظ لفقیہ النفس غدیر عظیم یلبس فی الصیف وراثت الدواب فیہ(زاد فی الخلاصۃ والفتح والذخیرۃ والناس)ثم دخل فیہ الماء وامتلأ ینظر ان کانت النجاسۃ فی موضع دخول الماء فالکل نجس وان انجمد ذلك الماء کان نجسا لان کل مادخل فیہ صار نجسا فلا                      

اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں ، ایك عظیم تالاب جو گرمی میں خشك ہوگیا اور اس میں چوپایوں نے لِید کر دی(خلاصہ اور فتح میں اور ذخیرہ میں لوگوں کا بھی اضافہ ہے)پھر اس میں پانی داخل ہوگیا اور وہ گڑھا بھر گیا ، تو دیکھا جائے گا اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ پر ہے تو کل پانی نجس ہے ، اور اگر یہ پانی منجمد ہوگیا تو نجس ہوجائیگا ، کیونکہ اس

یطھر بعد ذلك وان لم تکن النجاسۃ فی موضع دخول الماء واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشرثم تعدی الی موضع النجاسۃ کان الماء طاھرا والمنجمد منہ طاھر مالم یظھر فیہ اثر النجاسۃ(قال فی الذخیرۃ لان الماء صار کثیرا قبل ان یتنجس فلا یتنجس بعد ذلك لاتصال النجاسۃ بہ اھ زاد فی الخانیۃ)(۱)وکذا الغدیر اذا قل ماؤہ فصارا ربعا فی اربع ووقعت نجاسۃ ثم دخل الماء الی ان صار الماء الجدید عشرا فی عشر قبل ان یصل الی النجس کان طاھرا [1] ۔                                    

میں جو بھی داخل ہوگا وہ نجس ہوجائیگا ، اور اس کے بعد پاك نہ ہوگا ، اور اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ نہ ہو اور پانی پاکیزہ جگہ پر جمع ہوجائے ، اور وہ دَہ در دَہ ہو پھر پانی نجاست کی جگہ چلا گیا تو پانی پاك ہوگا اور جو منجمد ہوگیا وہ اس وقت تك پاك رہے گا جب تك نجاست کا اثر اس پر ظاہر نہ ہو(ذخیرہ میں فرمایا اس لئے کہ پانی نجس ہونے سے پہلے کثیر ہوگیا تو اس کے بعد نجس نہ ہوگا نجاست کے پانی کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے اھ ۔ خانیہ میں اضافہ کیا)اور اسی طرح تالاب کا پانی جب کم ہوجائے اور چار در چار ہوجائے اور اس میں نجاست داخل ہوجائے پھر اس میں نیا پانی آجائے یہاں تك کہ نجاست کو پہنچنے سے قبل دہ در دہ ہوجائے تو پاك ہوجائے گا۔ (ت)

ایسا عـــہ ہی جواہر اخلاطی میں ہے۔

اصل ۹ : اقول : وبالله التوفیق ایك فائدہ نفیسہ ہے کہ شاید اس کی تحریر فقیر کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اثر نجاست قبول نہ کرنے کو پانی کا جریان چاہئے سیلان کافی نہیں سائل وجاری میں عموم وخصوص مطلق ہے ہر جاری سائل ہے اور ہر سائل جاری نہیں دیکھو بطن حوض میں جو پانی نل سے داخل ہوا اور دوسرے کنارے تك پہنچا اُس وقت ضرور سائل ہے مگر جاری نہ ٹھہرا جب تك دوسری طرف سے نکل نہ جائے اور اس پر دلیل

عـــہ ونصھا حوض عشر فی عشر قل ماؤہ ثم وقعت النجاسۃ ثم دخل الماء حتی امتلأ الحوض ولم یخرج منہ شیئ لایجوز التوضی بہ لانہ کلما دخل الماء یتنجس اھ منہ غفرلہ(م)

اس کی عبارت یہ ہے کہ ایك حوض دہ در دہ ہو اس کا پانی کم ہوجائے پھر اس میں نجاست پڑ جائے پھر حوض بھر جائے اوراس سے کُچھ نہ نکلے ، تو اس سے وضو جائز نہیں اس لئے کہ جو پانی بھی داخل ہوگا وہ ناپاك ہوجائیگا اھ(ت)

قاطع آب وضو ہے کہ ضرور اعضائے وضو پر سائل ہے فانہ غسل ولا غسل الا بالاسالۃ(پس بیشك وضو دھونا ہے اور دھونا بغیر اسالۃ کے ممکن نہیں ہے۔ ت)مگر جاری نہیں ورنہ مستعمل نہ ہوتا کہ آب جاری استعمال تو استعمال نجاست سے متاثر نہیں ہوتا جب تك متغیر نہ ہو یونہی بدن یا کپڑے کی ناپاکی جس پانی سے دھوئی اس نے بدن یا ثوب پر سیلان ضرور کیا ورنہ استخراج نجاست نہ کرتا مگر جاری نہیں ورنہ ناپاك نہ ہوجاتا حالانکہ تین بار(۱)دھونے میں امام کے نزدیك تینوں پانی ناپاك ہیں اور صاحبین کے نزدیك دو ناپاك ہیں تیسرا جب بدن یا کپڑے سے جدا ہوجائے پاك ہے ، تنویر میں ہے :

ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ[2]۔

پانی جو وارد ہوا نجس پر نجس ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

الورود یشمل مااذا جری علیھا وھی علی ارض اوسطح وما اذا صب فوقھا فی اٰنیۃ بدون جریان[3]۔

ورود کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے جب پانی نجاست پر بہے اور وہ زمین یا سطح پر ہو اور اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی نجاست کے اوپر بہایا جائے کسی برتن میں اور اس میں جریان نہ ہو۔ (ت)

بحرالرائق میں ہے :

القیاس یقتضی تنجس الماء باول الملاقاۃ للنجاسۃ لکن سقط للضرورۃ سواء کان الثوب فی اجانۃ و اورد الماء علیہ اوبالعکس عندنا فھو(۲)طاھر فی المحل نجس اذا انفصل سواء تغیرا ولا وھذا فی الماءین اتفاقا اما الثالث فھو نجس عندہ لان طہارتہ فی المحل ضرورۃ تطہیرہ وقد زالت طاھر عندھما اذا انفصل(۳)والاولی فی غسل الثوب النجس وضعہ فی الاجانۃ                                                                                                                               

قیاس یہ چاہتا ہے کہ پانی پہلی ہی ملاقاۃ میں ناپاك ہوجاتا ہے نجاست کی وجہ سے لیکن ضرورت کی وجہ سے قیاس ساقط ہوگیا خواہ کپڑا ٹب میں ہو اور اس پر پانی وارد ہو یا بالعکس ہو یہ ہمارے نزدیك ہے ، تو یہ اپنے محل میں طاہر ہے اور جب جُدا ہوگا تو نجس ہوگا خواہ متغیر ہو یا نہ ہو ، یہ دو پانیوں میں اتفاقاً ہے ، اور تیسرا تو وہ ان کے نزدیك نجس ہے کیونکہ اس کی طہارت محل میں ضرورت کی وجہ سے ہے ، اور یہ ضرورت محل کی طہارت کی ہے اور وہ ضرورت

من غیرماء ثم صب الماء علیہ لاوضع الماء اولا خروجا من خلاف الامام الشافعی فانہ یقول بنجاسۃ الماء [4]۔

 



[1]       فتاوی قاضی خان  فصل الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴ والمزید من الذخیرۃ وھی لیست بموجودہ

 

[2]             الدرالمختار فصل الانجاس مجتبائی دہلی ۱ / ۵۵

[3]             ردالمحتار فصل الانجاس  مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۸

[4]   ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن