دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

نجس فالماء اینما ذھب لایلاقی الا نجسا تأمل ولا حاجۃ فان الفتوی علی اعتبار الاثر مطلقًا  فی الجاری والکثیر(۱)معانعم ظاھر کلام سیدی وتقریر الشامی ھھنا ان الکثیر الملحق بالجاری لایلحق بہ فی التطھیر بزوال التغیر لقولہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس وان زال تغیرہ بنفسہ                          

خزانہ میں مراد ہے ، اس لئے کہ ہندیہ میں محیط سے ہے کہ جب مردار پانی کے نیچے نظر آئے اس کی کمی کے باعث نہ کہ پانی کی صفائی کے باعث تو جو اُس مردار سے متصل ہو جائے وہ زیادہ ہوگا ، جبکہ نہر کی چوڑائی کو بند کردے ، اور اگر مردار نظر نہ آئے یا آدھے سے کم راستے کو بند کرے تو جو اُس سے ملاقات کرتا ہے وہ پانی اکثر نہیں ہوگا اھ اور خزانہ کے کلام کو اُس کے ظاہر پر محمول نہ کرنا چاہئے اور اگر نہر کی تَہ نجاستِ غیر مرئیہ سے ناپاك ہوگئی اس تو ہم پر کہ نہر کی تہہ جس وقت ناپاك ہو اور وہ نظر آتی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کل پانی نجاستِ مرئیہ پر جاری ہوگیا ، اگرچہ وہ نظر نہ آتی ہو پانی کی کثرت کے باعث ، نہ کہ اس کے گدلے پن کے باعث ، کیونکہ وہ پانی نجاستِ غیر مرئیہ پر جاری ہوا ہے تو وہ تغیر سے متاثر نہ ہوگا ، کیونکہ اعتبار نجاست کا ہوگا نہ کہ ناپاك ہونے والی شَے کا ، جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ، لیکن کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ علۃغیر مرئیہ میں یہ ہے کہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نجاست کو پانی بہا لے گیا ہے جیسا کہ بحر وغیرہا میں ہے ، اور یہاں نہر کا پیٹ تمام کا تمام ناپاك ہے تو پانی جہاں بھی جائیگا نجس سے ملاقات کرے گا تأمل ، اور کوئی ضرورت بھی نہیں ، کیونکہ جاری اور کثیر پانی میں فتوی مطلقًا  اثر کے اعتبار پر ہے ، ہاں سیدی عبدالغنی

فلیحرر ولینظر وجہہ فان الذی فی المنیۃ من فصل الحیاض فی مسألۃ حوض الحمام مانصہ الا تری ان الحوض الکبیر الحق بالماء الجاری علی کل حال لاجل الضرورۃ [1] قال فی الحلیۃ الجملۃ من الذخیرۃ [2] اھ والله تعالٰی اعلم۔  

اور شامی کی تقریر کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کثیر جو جاری کے ساتھ ملحق ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاك ہونے میں اس کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائیگا پاك ہونے میں تغیر کے ختم ہوجانے کے باعث کیونکہ وہ فرماتے ہیں اور اگر وہ بڑے حوض میں ٹھہر جائے تو ناپاك ہے اگرچہ اس کا تغیر از خود زائل ہوجائے ، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی وجہ پر غور کرنا چاہئے کیونکہ منیہ میں حوضوں کی فصل میں حمام کے حوض کے بیان میں ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے “ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ بڑا حوض جاری پانی سے ملحق ہے اور یہ علیٰ کل حال ہے اور اس کی وجہ ضرورت ہے ، حلیہ میں فرمایا یہ تمام ذخیرہ سے ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

اصل ۷ : فتوٰی۱  اس پر ہے کہ پانی کا عرض میں پھیلنا اس کے جریان کو نہیں روکتا جبکہ پانی آگے نکل جاتا ہو ، مثلاً نہ۹ در نہ۹ حوض ہے اُس میں پانی ایك طرف سے آیا دوسری طرف سے نکل گیا جاری ہوگیا اگرچہ عرض میں نو ہاتھ پھیلنے کے لئے ضرور وقفہ درکار ہوگا اور اُتنی جلد پانی اُس سے نہ نکل سکے گا جس قدر جلد تین چار ہاتھ کے عرض سے نکل جاتا ہندیہ میں ہے :

اذا کان الحوض صغیرا یدخل فیہ الماء من جانب ویخرج من جانب یجوز الوضوء من جمیع جوانبہ وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل بین ان یکون اربعا فی اربع اواقل فیجوز اواکثر فلا یجوز کذا فی شرح الوقایۃ وھکذا فی الزاھدی ومعراج الدرایۃ [3]۔                                                                       

جب حوض چھوٹا ہو اور اس میں پانی ایك طرف سے دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو اس کے تمام اطراف سے وضو جائز ہے ، اور اسی پر فتوٰی ہے ، اس میں یہ تفصیل بھی نہیں کہ وہ چار در چار ہو یا کم ہو تو جائز ہوگا اور اگر زائد ہو تو جائز نہ ہوگا کذا فی الشرح الوقایہ والزاہدی ومعراج الدرایہ۔ (ت)

بحر میں ہے :

فی معراج الدرایۃ یفتی بالجواز مطلقًا

معراج الدرایہ میں ہے جواز کا مطلقًا  فتوی دیا جائیگا

واعتمدہ فی فتاوی قاضی خان[4]۔

اور قاضی خان میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ (ت)

فتاوٰی ذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری پھر حلیہ میں ہے :

علیہ الفتوی لان ھذا ماء جار [5]۔

اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ یہ جاری پانی ہے۔ (ت)

بلالکہ پانی کا گھومنا ایک(۱)دائرہ پر چکر کھانا جس طرح بھنور میں ہوتا ہے یہ بھی مانع جریان نہیں کہ بھنور پانی کو روك نہیں رکھتا چکر دے کر نکال دیتا ہے اوپر سے دوسرا پانی آتا اب اسے گُھما کر چھوڑ دیتا ہے یہ سلسلہ قائم رہنے کے باعث گمان ہوتا ہے کہ ایك ہی پانی گھوم رہا ہے یہ بات غیر آب کے ڈالنے سے متمیز ہوسکتی ہے مثلا اوپر سے لکڑی ڈالی جائے بھنور پر پہنچ کر چکر کھا کر اُس طرف نکل جائے گی اور اگر بھنور قوی ہوا اسے گھمانے میں دبا کر دو۲ ٹکڑے کر دے گا اور چکّر دے کر نکال دے گا ، فسبحن من خلق ماشاء کیف شاء ولا یجری فی ملکہ الا مایشاء(پاك وہ ذات جس نے پیدا کیا جو چاہا جیسے چاہا اور نہیں چلتی کوئی شے اس کے ملك میں مگر جسے وہ چاہے۔ (ت)منیہ مسئلہ حوض چار درچار میں ہے :

الظاھر ان الماء لایستقر فی مثلہ بل یدور حولہ ثم یخرج فیکون کالجاری [6]۔

ظاہر یہ ہے کہ پانی ایسی جگہ میں نہیں ٹھہرتا ب لکہ اس کے اردگرد چکر کھاتا ہے پھر نکل جاتا ہے تو یہ جاری پانی کی طرح ہے۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

کذا فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری حکایۃً عن الشیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی[7]۔

جیسے ذخیرۃ اور تتمۃ الفتاوی الصغری میں شیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی سے حکایت ہے(ت)

 



[1]   منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۷۳

[2]   حلیۃ

[3]   ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوز نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷

[4]   بحرالرائق  عشر فی عشر  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۷۸

[5]   حلیہ

[6]   منیۃ المصلی فصل فی الحیض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲

[7]   حلیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن