دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ساتھ دھونے کی خصوصیت ایک عادی امر ہے اس میں مومن وکافر کا بھی فرق نہیں ، اب اگر اس نے تنظیف سے سنّت کی نیت کی تو اس نے اس کو اپنی نیت سے ایک محمود عام کے تحت داخل کیا تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے تعلیم کے لئے وضو کیا۔

اللہ تعالٰی کے فضل وکرم سے اس مقام کی جو تحقیق میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو قُربۃ ہے وہ پانی کو طہوریۃ سے بدلنے والی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ مخصوص فعل جو پانی سے ادا کیا جارہا ہے وہ اوّلا وبالذات شریعت کی نگاہ میں قُربۃ مطلوبہ ہو ، اور اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ قربۃ مطلوبہ ایک ایسا عین ہو جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ اگر اُس کے بغیر وہ قربۃ حاصل ہوجائے تو اُس کے وجود کے کئی موارد ہوں گے کچھ توپانی سے حاصل ہوں گے اور کچھ بغیر پانی کے حاصل ہوں گے تو جو چیز پانی سے اولاً وبالذات حاصل ہو تو وہ بعینہٖ مطلوب نہ ہوگی بلکہ بعینہ مطلوب کو حاصل کرنے والی ہوگی اس کا حاصل یہ ہوگا کہ محض پانی کا اس فعل میں صرف کرنا شرعاً مطلوب بعینہٖ ہو کیونکہ مطلوب بعینہٖ جب اس پر موقوف ہے تویہ بھی مطلوب بعینہٖ ہوجائے گا جیسے کُلّی ، ناک میں پانی ڈالنا وضو میں ، اور تثلیث وضو وغُسل میں اگرچہ میت کے غسل میں ہو ، اور شاید ہمارے قارئین کو یہ خیال گزرے کہ یہ فائدہ تو صاحب بحر اور ان کے بھائی صاحب نہر کے کلام ہی سے معلوم ہوا ہے ، تو میں کہتا ہوں یہ بات نہیں ہے بلکہ تعلیم کیلئے وضو کرنے کا مسئلہ مبتغی اور فتح وغیرہ کتب مذہب میں منصوص ہے اور دُرّ میں تصریح

فی تلك الافادۃ فان التعلیم قربۃ مطلوبۃ قطعا وقد نواہ بھذا التوضی وھو فی ھذا الخصوص ایضا متبع للسنۃ الماضیۃ ان البیان بالفعل اقوی من البیان بالقول ومع ذلك اجمعوا انہ لایصیر مستعملا فکان اجماعا ان لیس کل قربۃ تغیر الماء بل التی لاتقوم الا بالماء اذلا فارق فی التوضی بنیۃ التعلیم وبنیۃ الوضوء علی الوضوء الا ھذا ثم لابدان تکون التی تتوقف علی الماء قربۃ مطلوبۃ بعینہا والا لعاد الفرق ضائعا اذلا شك  ان الوضوء للتعلیم محصل لقربۃ مطلوبۃ شرعا فیکون قربۃوھولایقوم الابالماء لکن الشرع لم یطلبہ عینا انما طلب التعلیم وھو لایتوقف علی انفاق الماء فاستقر عرش التحقیق علی ماافاد البحر وظھر ان الصواب فی فرع القدور والقصاع مع الغنیۃ فلذا عولنا علیہ۔

اقول : (۱)وممایؤیدہ اطلاقھم قاطبۃ مسألۃ التوضی والاغتسال للتبرد(۲)مع ان التبرد ربما یکون لجمع الخاطر للعبادۃ والتقوی علی مطالعۃ کتب العلم وھو لاشك  اذن من القرب فکل مباح فعلہ العبد المؤمن بنیۃ خیر خیر غیرانہ لم یطلب عینا فی الشرع                                                

کی ہے کہ یہ متفق علیہا ہے ، اور اس میں شک نہیں کہ وہ اس فائدہ میں صریح ہے ، کیونکہ تعلیم قطعی طور پر قُربۃ ہے اور اس وضو سے اُس نے اُسی کی نیت کی ہے اور وہ اس خصوص میں گزشتہ سنت کی پیروی کرنے والا ہے کہ فعل کے ذریعہ بیان قول کے ذریعہ بیان سے اقوٰی ہوتا ہے ، باوجود اس کے اُن کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا ، تو یہ اجماع ہوگیا اس امر پر کہ ہر قربۃ پانی کو متغیر نہیں کرتی ہے بلکہ صرف وہ قربت کرتی ہے جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ بہ نیت تعلیم وضو کرنے اور وضو بر وضو کی نیت میں فرق کرنے والی یہی چیز ہے۔ پھر جس قربت کا پانی پر موقوف ہونا لازم ہے وہ بعینہا مطلوب ہو ورنہ فرق ضائع ہوجائے گا کیونکہ تعلیم کیلئے کیا جانے والا وضو شرعی قربت کو حاصل کرنے والا ہے تو یہ قربت ہوگا ، اور وضو صرف پانی سے ہی ہوتا ہے لیکن شریعت میں وہ بعینہٖ مطلوب نہیں ہے وہ تعلیم کیلئے مطلوب ہے اور تعلیم پانی خرچ کرنے پر موقوف نہیں ہے تو تحقیق وہی درست ہے جو بحر میں ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہانڈیاں اور پیالوں کے مسائل متفرقہ میں حق وہ ہے جو غنیہ میں ہے لہٰذا ہم نے اسی پر اعتماد کیا۔ ت

پھر اس کی تائید تمام فقہاء کے اس اطلاق سے ملتی ہے کہ وہ فر ماتے ہیں کہ وضو اور غسل ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے کرنا ، حالانکہ ٹھنڈک حاصل کرنا کبھی اس غرض سے بھی ہوتا ہے کہ انسان عبادت میں پرسکون رہے یا مطالعہ اطمینان سے کرسکے اور بلا شبہ اس صورت میں یہ عبادت ہوگا کیونکہ

وان ساغ ان یصیرو سیلۃ الی مطلوب واعظم(۱)منہ مسألۃ الاغتسال لازالۃ الدرن(۲)فھو مطلوب عینا فی الشرع فانما بنی الدین علی النظافۃ وقد کانت ھذہ حکمۃ الامر بالاغتسال یوم الجمعۃ کما افصحت بہ الاحادیث بیدان ازالۃ الوسخ لایتوقف علی الماء فلم یکن مما طلب فیہ الشرع انفاق الماء عینا بخلاف(۳)غسل الجمعۃ والعیدین وعرفۃ والاحرام فان من اغتسل فیھا بماء ثمراو نبیذ تمر مثلا لم یکن اٰتیا بالسنۃ قطعا اوان ازال بہ الوسخ و(۴)بالدرن وذلك ان الحکم یکون لحکمۃ ولکن العباد مامورون باتباع الحکم دون الحکمۃ کما قدعرف فی موضعہ وھنا لك تم الرد علی مسألۃ القصعۃ والقدر ، وتبین ولله الحمد ان المراد بالقربۃ ھھنا ھی المتعلقۃ بظاھر بدن الانسان مما ادار الشرع فیہ اقامۃ نفس القربۃ المطلوبۃ ولو ندبا علی امساس الماء عینا ولو مسحا بشرۃ بشر ولو میتا فزال الابہام واتضح المرام وظھرت فی الفروع کلھا الاحکام والحمدلله ولی الانعام ، والاٰن عسی ان تقوم تقول اٰل الامر الی ان الماء انما یصیر مستعملا اذا انفق فیما کان انفاقہ فیہ مطلوبا فی الشرع عینا فما الفارق فیہ وفیما اذا انفق فی قربۃ مطلوبۃ شرعا من دون توقف علی الماء خصوصا کیف      

ہر مباح جو انسان خیر کی نیت سے کرے خیر ہے ، البتہ وہ بعینہٖ مطلوب شرع نہیں ، اگرچہ مطلوب کا وسیلہ بن سکتا ہے اس سے بڑی بات غسل کا مسئلہ ہے میل دور کرنے کیلئے یہ بعینہٖ مطلوب شرع ہے دین کی بنیاد ہی نظافت پر ہے اور جمعہ کے دن غسل کے حکم کی حکمت یہی ہے ، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ البتہ میل کا زائل کرنا پانی پر ہی موقوف نہیں ، لہٰذا پانی کا خرچ کرنا بعینہ مطلوب شرع نہ ہوا ، اور جمعہ ، عیدین ، وقوف بعرفہ ، اورا حرام کا غسل شرعاً مطلوب ہے ، ان غسلوں کو اگر کسی نے پھلوں کے عرق یا شیرہ کھجورسے کیا تو قطعی طور پر سنّت کی اتباع نہ ہوگی ، خواہ اس سے میل کچیل زائل ہوجائے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے ، لیکن بندوں پر حکم کی پابندی ہے نہ کہ حکمۃ کی۔ یہ بات اپنے مقام پر مذکور ہے یہاں تک پیالہ اور ہانڈی کے مسئلہ پر ردمکمل ہوا ،

اور الحمدلله یہ بات واضح ہوگئی کہ قربت سے مراد اس مقام پر وہ قربۃ ہے جس کا تعلق ظاہر بدن سے ہو جس میں شریعت نے قربت مطلوب ، خواہ ندبا ہی ہو ، کا دارومدار اس پر کیا ہے کہ انسان ، خواہ مردہ ہی ہو ، کی جلد پر بعینہٖ پانی لگے ، خواہ بطور مسح ہی ہو ، اس سے ہمارا مقصود واضح ہوا اور مسئلہ کے فروع واحکام ظاہر ہوئے الحمدلله ولی الانعام۔

اب اس مقام پر ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستعمل پانی وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے عمل میں خرچ

و انما المغیر تحول نجاسۃ حکمیۃ ومنھا نجاسۃ الاثام وھی تزول کلا او بعضا بکل قربۃ لعموم قولہ تعالٰی اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ- [1]اقول : (۱)نعم ولوجہ الله الحمد ابدا تزول الاٰثام باذن الله بکل قربۃ رحمۃ منہ جلت اٰلاؤہ بھذہ الامۃ المبارکۃ المرحومۃ دنیا واخری بنبیھا الکریم الرؤوف الرحیم المرسل رحمۃ والمبعوث نعمۃ افضل صلوات ربہ واجمل تسلیماتہ وازکی برکاتہ وادوم تحیاتہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وامتہ ابدا ولکن الزوال بقربۃ لایوجب التحول الی اٰلتھا التی اقیمت بھا وما علمنا ذلك الافی اٰلۃ عینھا الشرع کالمال فی الزکوۃ والماء فی الطھر لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی الصدقات انما ھی اوسخ الناس [2]رواہ احمد ومسلم عن عبدالمطلب بن ربیعۃ رضی الله تعالٰی  عنہ ،

وقولہ صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم من توضأ فاحسن الوضوء خرجت خطایاہ من جسدہ حتی تخرج من تحت اظفارہ[3]رواہ الشیخان

ہوا ہو کہ جس میں اس کا خرچ کیا جانا بعینہ مطلوب شرع ہو تو اِس صورت میں اور جب پانی ایسی قربۃ میں خرچ کیا گیا ہو جو شرعاً مطلوب تو ہو مگر پانی پر موقوف نہ ہو کیا فرق ہوگا؟ جبکہ پانی میں تغیر پیدا کرنے والی چیز اس کی طرف نجاست حکمیہ کا آنا ہے اور گناہوں کی نجاست بھی نجاست حکمیہ ہی ہے ، جو کُلَّا یا بعضاً ہر قربت سے دُھل جاتی ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی “  اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-   “ (نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ ذاکرین کیلئے نصیحت ہے(کہ عموم کا تقاضا ہے۔ (ت)

 



[1]     القرآن ۱۱ / ۱۱۴

[2]     صحیح للمسلم تحریم الزکوٰۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴۵)

[3]     صحیح للمسلم  خروج الخطایا مع ماء الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن