30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البحث معہ[1]۔ |
ہوتے ہوئے بحث پر اعتماد نہیں کیاجائیگا۔(ت) |
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)ظاہرًا ان کی نظر اس طرف گئی کہ ذکر حدود کی حاجت تمیز ذات مشہود بہ کے لئے ولہذا فرمایا کہ بعد تصادق خصمین اصل دار میں شہادت مقبول ہوجانی چاہئے حدود میں تنازع پڑے تو اس کا مقدمہ جدا ہولے گا حالانکہ ذکر حدود کی ضرورت علم مقدار مشہود بہ کے لئے ہے،درروغرروغیر ہا کتب معتمدہ میں ہے:
|
ان قدرھا لایصیر معلومًا الا بالتحدید[2]۔ |
گھر کی مقدار کا تعین اس کی حدوں کو بیان کئے بغیر معلوم نہیں ہوسکتا۔(ت) |
تواصل دار بلا تعیین مقدار کیا چیز ہے جس کا قاضی حکم کرے یہ تو ایسا ہے کہ زید عمرو پر ہزار روپے کا دعوٰی کرے شہود شہادت دیں کہ اس کا اس پر کچھ آتا ہے کیایہ گواہی اصل دین کے اثبات میں مقبول ہوجائے گی ہر گز نہیں،
|
ولم یقل بہ احد وبہ ظہر الجواب عن قیاسہ علی مسالۃ الجارین فان ثمہ لم یختلفا فی اصل داریھما فالتسلیم لعدم النزاع علی جہۃ القضاء وانما یحتاج القاضی الی علم المقدار فیما یدعی بہ عندہ فیرید القضاء بہ علی المنکر۔ |
اس کا قائل کوئی بھی نہیں اور اسی سے مسئلہ جارین پر اس کے قیاس کا جواب ظاہر ہوگیا کیونکہ وہاں دونوں پڑوسیوں میں ان کے اصل گھروں کے بارے میں اختلاف واقع نہیں ہوا چنانچہ وہاں قضاء کی جہت سے نزاع معدوم ہونے کی وجہ سے تسلیم متحقق ہوئی،بیشك قاضی اس بات کا محتاج ہے کہ اس گھر کی مقدار اسے معلوم ہو جس کا دعوٰی اس کے پاس کیاگیا ہے اور وہ منکر کے خلاف اس کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔(ت) |
اگر ایسی شہادت مقبول ہوتو لازم کہ دعوٰی بھی بلا تعیین حدودقبول ہوجائے وہی وجہ وہاں بھی جاری ہے کہ اصل دین اس وقت حکم چاہتا ہے حدود میں نزاع پڑے تو یہ مقدمہ جداہولے گا حالانکہ یہ جملہ کتب مذہب کے خلاف ہے،خود جامع الفصولین میں ہے:
|
لوادعی عقارا فلا بد من ذکر بلدۃ |
اگر عقار(غیر منقو ل)کا کہا تو اس شہر کا ذکر ضروری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع