30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلو شھد ا بملك المتنازع فیہ والخصمان تصادقا علی ان المشھود بہ ھو المتنازع فیہ، ینبغی ان تقبل الشہادۃ فی اصل الدار وان لم یذکرا الحدود لعدم الجہالۃ المفضیۃ الی النزاع فی اصل الدار فلو وقع النزاع فی حدودہ بعد الحکم باصلہ فذلك الامر اٰخر تسمع فیہ الخصومۃ براسہ کما ان الجارین لوتنازعا فی حدود داریہما لافی اصلیھما یسلم لکل منھما اصل دارہ وتسمع الخصومۃ فی الحد، واﷲ تعالٰی اعلم۔[1] |
اگر دو گواہوں نے متنازع فیہ گھر کے بارے میں کسی کی ملکیت کی گواہی دی اور مدعی اور مدعاعلیہ دونوں نے تصدیق کردی کہ متنازع فیہ گھر وہی ہے جس کے بارے میں شہادت دی گئی تو اصل گھر کے بارے میں ان کی گواہی مقبول ہونی چاہئے اگرچہ حدود کو انہوں نے بیان نہ کیا ہو کیونکہ یہاں ایسی جہالت معدوم ہے جو اصل گھر میں جھگڑ ے کا باعث بنے، اگر اصل گھرکے فیصلہ کے بعد اس کی حدوں میں نزاع واقع ہوتو یہ الگ معاملہ ہے جس میں نئے سرے سے خصومت مسموع ہوگی جیسا کہ دو پڑوسیوں میں ان کے گھروں کی حدود کے بارے میں نزاع واقع ہوا نہ کہ اصل گھروں کے بارے میں، تو ہر ایك کا اصل گھر اس کے حوالے کیا جائے گا اور اس کی حدوں کے بارے میں خصومت مسموع ہوگی، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
ظاہر ہے کہ اعتبار منقول فی المذہب کا ہے نہ کہ بحث کا، حتی کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ منقول کے مقابل امام ابن ہمام کی ابحاث بھی مقبول نہیں حالانکہ وہ بالغ درجہ اجتہاد مانے جاتے ہیں۔ ردالمحتارکتاب الحج میں ہے:
|
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر فافھم[2]۔ |
ابن ھمام کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ ان کی جو ابحاث خلاف مذہب ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا، پس غور کرو۔ (ت) |
طحطاوی کتاب الطلاق فصل ثبوت النسب میں ہے:
|
النص ھوا لمتبع فلایعول علی |
اتباع تو نص کی ہی کی جائے گی اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع