30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحدود بحضرۃ امینی القاضی فاذا وقفا علیہا فقا لا ھذہ حدود دار شہدنا بہ لہذا المدعی یرجعون الی القاضی ویشھد الامینان انھما وقفا وشھدا باسماء الحدود فحینئذ یقضی بالدار وکذاالقریۃ والحانوت وجمیع الضیاعات[1]۔ |
قاضی کے امینوں کی موجودگی میں گھر کی حدوں کی شناخت کرائیں جب وہ گواہ گھر کی حدوں پر واقف ہوئے اور کہا کہ یہی حدیں ہیں اس گھر کی جس کی گواہی ہم نے اس مدعی کےلئے دی ہے، اب یہ قاضی کے پاس لوٹ آئیں گے اور دونوں امین اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان گواہوں نے گھر اور اس کی حدوں پر ہم کو واقف کیا ہے تو قاضی اس گھر کا فیصلہ مدعی کے حق میں کردے گا اور یہی حکم ہے گاؤں، دکانوں اور تمام غیر منقول جائدادوں کا۔(ت) |
جامع الرموز میں ہے:
|
فیہ رمز الٰی انہ یحدولو مشہورا وھذا عندہ خلافا لھما فلو لم یحد وقضی بصحۃ ذٰلك نفذ[2]۔ |
اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مدعی کی جانب سے حدودکو بیان کیا جائے گا اگرچہ (حدود ) مشہور ہو، یہ امام ابو حنیفہ کے نزدیك ہے بخلاف صاحبین کے، چنانچہ اگر بیان حدود کے بغیر قاضی نے صحت دعوٰی کا فیصلہ دے دیا تو (صاحبین کے نزدیك ) نافذ ہوجائے گا۔(ت) |
مگر صرف جامع الفصولین میں اپنی رائے یہ تحریر فرمائی کہ اگر شاہدین ملك متنازع فیہ کی شہادت دیں اور مدعی ومدعاعلیہ کا اتفاق ہو کہ جس دار کی انہوں نے شہادت دی ہے وہی متنازع فیہ ہے تو اصل دار میں شہادت قبول ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے اولا برمزف ش فتاوٰی امام رشید الدین سے نقل کیا شہادتھم بالملك بلا ذکر الحدود لاتقبل[3] (حدود کو بیان کئے بغیر ملکیت پر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ت) پھر اپنی بحث ذکرکی کہ:
|
اقول: الغرض ھو التمیز عند القاضی، فینبغی ان یصح حکمہ بحسب ماتمیز |
میں کہتا ہوں غرض تویہ ہے کہ وہ (دار) قاضی کے نزدیك ممتاز ہوجائے لہذا اس کا فیصلہ ممتاز شے کی حد تك صحیح ہونا چاہئے، چنانچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع