30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(اور جو اپنے زمانہ والوں کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ت)لہذا تصریحًا بالقصد یہ قیود ذکر کردیں اور اس فتوی کی تصدیق وتصحیح پسند نہ کی۔ مشہود بہ جب عقار مثلًا ارض یادار ہو تو شہادت میں کم از کم تین حدوں کاذکر واجب ہے اس کے بغیر شہادت ہر گز قبول نہیں مگر یہ کہ شہود دار کے پاس حاضر ہوکر بمواجہ مدعی ومدعاعلیہ خود قاضی یااس کے دو۲ امینوں کے سامنے اشارہ سے تعیین حدود کی حاجت نہیں فان تعیین الحاضر بالاشارۃ(کیونکہ حاضر شے کی تعیین اشارہ سے ہوتی ہے۔ت) یا اگر دار ایسی معروف ومشہور ہے کہ اس کا نام لینا ہی علم کو بس ہے تو صاحبین کے نزدیك تحدید ضرور نہیں امام اب بھی مانتے ہیں اور یہی صحیح ہے مگر اگر قاضی کہ خاص مذہب امام یا مذہب مصحح پرقضا کے ساتھ مقید نہ کیا گیا ہو بلکہ اسے قاضی کرنے والے نے اختیار دیا ہو وہ اگر ایسی مشہور دار میں بے تحدید قبول شہادت کرکے قضا کردے گا نافذ ہوجائے گی لوقوعہ فی مجتہدفیہ (بسبب واقع ہونے اس کے مجتہد فیہ میں۔ت) ورنہ باطل ہوگی لکونہ معزولافیہ کما فی البحر والاشباہ والدر وغیرھا (کیونکہ اس میں وہ معزول ہے جیسا کہ بحر، اشباہ اور دروغیرہ میں ہے۔ت) درمختار میں ہے:
|
یشترط التحدید فی دعوی العقار کما یشترط فی الشھادۃ علیہ ولو کان العقار مشہورا خلافا لھما الا اذ عرف الشہود الدار بعینھا فلایحتاج الی ذکر حدودھا۔[1] |
عقار (غیر منقول جائدا د) کے دعوٰی میں حدود کو بیان کرناشرط ہے جیسا کہ اس پر گواہی میں بیان شرط ہے اگرچہ وہ عقار مشہو رہو بخلاف صاحبین کے مگرگواہان جب دار کو خصوصی طور پر پہچانتے ہوں تو بیان حدود کی حاجت نہیں۔ (ت) |
جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وعقودالدریہ وغیرہامیں ہے:
|
شھدابداروقالانعرف حدودہ اذامشینا الیہ لکن لانعرف اسماء الحدود فان القاضی یقبل ذٰلك منھما اذاعدلاویبعثھمامع المدعی والمدعی علیہ وامینین لہ لیقف الشھود علی |
دو گواہوں نے کسی کے لئے دار کی گواہی دی اور کہا کہ ہم اگر گھر کی طرف جائیں تو اس کی حدوں کو پہچانتے ہیں مگر اس کی حدوں کے نام نہیں جانتے تو قاضی ان کی گواہی کو قبول کرے گابشرطیکہ ان دونوں گواہوں کی تعدیل ہوگئی۔ قاضی دونوں گواہوں کو مدعی، مدعا علیہ اور اپنے دو امینوں کے ساتھ بھیجے گا تاکہ وہ گواہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع