30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الا فی دعوٰی الغصب فی المنقول واما فی الدور والعقار فلا فرق کما فی الیتیمیۃ [1]۔ |
یہ کہ دعوٰی منقولہ چیز کے غصب کا ہو،لیکن مکانات اور پراپرٹی میں کسی طرح بھی قابل سماعت نہ ہوگا جیسا کہ یتیمیہ میں ہے۔(ت) |
اور جب سرے سے زینب و کلثوم اس دعوٰی کے احاطے میں آہی نہ سکیں تو ان کا جواب ان کی گواہیاں اور جو کچھ کارروائیاں اس پر ہوئیں اس وجہ پر سب محض مہمل و پادر ہوا ہیں کہ دفع دعوٰی صحیحہ پر مرتب ہوتا ہے جب دعوٰی مفقود تودفع مردود،وھذاکلہ ظاھر غیر مستنکر ولا محجود(یہ تمام بیان ظاہر ہے جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔(ت)اس کے بعد ان خللوں پر بحث کی حاجت نہیں جو زینب و کلثوم کے لئے بے حاصل ثبوتوں میں واضح طور پر موجود ہیں اور اگر کچھ نہ ہوتا تو شہادت ملك کا سماعی ہوتا اور محض کاغذ بیع نامہ بے شہادت کافیہ سے استدلال کرنا ہی ان کے رد مزعومات کو بس تھا خصوصًا جبکہ انکے مورث کا اقرا رثابت ہے کہ مکان مذکور پیش از وقف ملك واقف نہ تھا،درمختار میں ہے:
|
لایشھد احدبما لم یعانیہ بالاجماع الافی عشرۃ [2] الخ ولیس ھذامنھا۔ |
بالاجماع بغیر دیکھے کوئی بھی شہادت نہیں دے سکتا ماسوائے دس چیزوں کے الخ۔اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت) |
خانیہ وخیریہ وعقود الدریہ وغیرہ میں ہے:
|
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او الاقرار واما الصك فلایصلح حجۃ[3]۔ |
قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ دے گا اور حجت صرف شہادت،اقرار اور قسم سے انکار ہے لیکن رسید تو وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔(ت) |
[1] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۸۹
[2] درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲
[3] العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۹،فتاوی خیریہ باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۹و۲۳،الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۳۸،فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع