30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بموجب مسائل شرعی بجواز تخلیہ مکان کا کرایہ دار سے کرائے گی یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عمرو ومستاجر کی بدنیتی اور اس سے وقف کوضرر پہنچنے کا اندیشہ صاف ظاہر ہے یہاں تك کہ اس نے اپنے بیان سے یہ چاہا کہ سرے سے وقف ہی کو معدوم کرے،لاجرم حاکم پر فرض قطعی ہے کہ فورًا فورًا بلا توقف مکان اس سے خالی کراکر متوفی کو سپرد کرے اگرچہ ہنوز مدت اجارہ کتنی ہی باقی ہو کہ ایسی صورت میں فسخ اجارہ لازم ہے۔الاسعاف فی احکام الاوقاف میں ہے:
|
لوتبین ان المستاجر یخاف منہ علی رقبۃ الوقف یفسخ القاضی الاجارۃ ویخرجہ من یدہ [1]۔ |
اگر مستاجر سے یہ خطرہ واضح ہو کہ وہ وقف جائداد کو نقصان پہنچائے گا تو قاضی اس اجارہ کو فسخ کردے اور اس کے قبضہ کو ختم کردے۔(ت) |
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر اجرت مثل زائد ہوجائے اور مستاجر کرایہ بڑھانے سے انکار کرے تو اجارہ فسخ کردیا جائیگا نہ کہ جب اصلًا کرایہ دینا ہی نہ چاہے۔درمختار میں قبیل مایجوز من الاجارۃ ہے:
|
وان کانت لزیادۃ اجر المثل فالمختار قبولھا فیفسخھا المتوفی فان امتنع فالقاضی ثم یؤجرھا ممن یزاد[2]۔ |
اگر زائد کرایہ ملتا ہو تو دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز اور مختار ہے،متولی پہلے اجارہ کو فسخ کردے اگر وہ نہ کرے تو قاضی فسخ کرکے زائد دینے والے کو اجارہ پر دے۔(ت) |
غرض یہاں حکم اس قدر تھا کہ اجارہ فسخ اور تخلیہ لازم،اس سے زائد جو کارروائیاں اس مقدمے میں ہوئیں کہ عمرو کے مجرد بیان پر زینب و کلثوم کو اس دعوٰی کا مدعا علیہ بنوایا گیا ان کا جواب داخل ہوا متولی سے اس کا رد لیا گیا سب محض لغو وفضول و بے معنی ہیں ان کی طرف توجہ اصلا روانہ تھی،نہ ان کے سبب متولی کو ڈگری دینے میں ایك منٹ کی تاخیر حلال تھی،نہ ہے۔مدعا علیہ کا صرف زبانی بیان کہ میں نے فلاں سے اجارہ لیا ہے اصلًا قابل سماعت نہیں ہوتا،نہ اس کے سبب خصومت اس سے چھوڑ کر فلاں کی طرف متعدی ہوسکتی ہے بلکہ وہی مدعا علیہ رہتا ہے اور جب مدعی اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع