30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
متعدد ین وقد کان رہن بدین احدھم مشاعا واظہر المرتھن محضرا وفیہ الحکم بصحتہ ولزومہ ھل یختص المرتھن بہ فی وفاء دینہ ام لااجاب المقر عند علماء الحنفیۃ انہ لا اعتبار بمجرد الخط ولا التفات الیہ اذحجج الشرعیۃ ثلثۃ وھی البینۃ و الاقرار والنکول کما صرح بہ فی اقرار الخانیۃ فلا اعتبار بمجرد المحضر المذکور ولا التفات الیہ الا اذا ثبت مضمونہ بالوجہ الشرعی اعنی باحدی الحجج الشرعیۃ المشار الیہا[1] (ملتقطا) |
تھا اس کے متعدد لوگ قرض خو رتھے جبکہ ان میں سے ایك کا قرض غیر منقسم رہن کے بدلے میں تھا تو اس مرتہن نے محضر نامہ دکھایا جس میں رہن کی صحت اور اس کے لزوم کا حکم تھا تو کیا اس مرتہن کو حق ہے کہ رہن کو اپنے قرض کے عوض اپنے لئے مختص کرلے یا اس کو یہ حق نہیں،تو جواب دیا کہ علمائے احناف کے ہاں یہ بات طے شدہ ہے کہ محض خط قابل اعتبار اور قابل التفات نہیں ہے کیونکہ شرعی حجت تین چیزیں ہیں:گواہی،اقرار اور قسم سے انکار جیسا کہ خانیہ میں اقرار کی بحث میں تصریح ہے لہذا مذکور محضر نامہ اعتبار و التفات کے قابل نہیں جب تك اس کے مضمون کو کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ کردیا جائے(ملتقطا)۔(ت) |
ان دونوں صورتوں میں مصاحب جان کا دین مثل باقی دیون کے سمجھا جائے گا اور اس کو استحقاق تقدم شمس النساء پر نہ ہوگا کہ ذریعہ تقدم استحقاق مرتہن ہی تھا اور وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچا،مگر جس طرح شمس النساء پر ترجیح نہیں شمس النساء کو بھی اس پر کوئی تفصیل نہیں کہ آخر جائداد و مہر میں بھی رہن نہ تھی اور مصاحب جان کا دین بھی دین صحت سے ہے اور مہر کو کسی دین صحت پر تقدم نہیں کہ وہ بھی مثل سائردیون کے ایك دین ہے،درمختارکے باب نکاح الرقیق میں ہے:
|
وسادت المرأۃ الغرماء فی مھر مثلھا[2]۔ |
بیوی اپنے مہر مثل کی حد تك دیگر قرضخواہوں کے مساوی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فیہ تصریح بان المھر کسائر |
اس میں یہ تصریح ہے کہ مہر بھی دوسرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع