30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفیہا من الباب الخامس رجل رھن دارہ والراھن متصرف فیہ حتی مات ثم اختلاف المرتھن وورثہ الراہن انہ کان مقبوضا ام لافان اقام المرتہن البینۃ علی اقرار الراہن بالرھن والتسلیم یحکم بصحۃ الرھن ودعوی فك الرھن لا تقبل بظاھر ما کان فی یدالراہن لانہ لما ھکم علیہ باقرارہ بالرھن حمل علی ان الید کانت یدالعاریۃ اھ [1]۔ |
اپنی موت تك تصرف کرتا رہا پھر مرتہن اور راہن کے ورثاء میں قبضہ کے متعلق اختلاف ہوکہ مرتہن کا قبضہ تھا یا نہیں، اگر مرتہن نے راہن کے اس اقرار کہ اس نے رہن رکھا اور قبضہ دے دیا پر گواہ پیش کردئے تو اس رہن کی صحت کا حکم کیا جائیگا اور رہن کے قبضہ کی بنا پر فساد رہن کا دعوٰی درست نہ ہوگا کیونکہ جب اس کے اقرار کی بنا پر فیصلہ ہوا ہے تو اس کے قبضہ کو عاریتًا متصور کیا جائیگا اھ(ت) |
پس رہن مرہون میں مصاحب جان کا استحقاق شمس النساء وغیرہا سب قرضخواہوں پر مقدم ہے پہلے اسی کا قرض اس سے ادا کریں گے اگر کچھ بچا مہر وغیرہ دیون کی طرف مصروف ہوگا ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
|
اذا مات الراہن وعلیہ دیون کثیرۃ کان المرتھن احق بالرہن کذافی المحیط[2]۔ |
راہن نے اپنی موت پر اپنے ذمہ کثیر دیون(قرضے)چھوڑے تو مرتہن اس رہن کا حقدار ہوگا جیساکہ محیط میں ہے(ت) |
اسی میں ہے کہ:
|
فلیستوفی منہ دینہ فما فضل یکون لسائر الغرماء والورثۃ[3]۔ |
مرتہن اپنی رقوم وصول کرلے باقی زائد دوسرے حق داروں اور ورثاء کا ہوگا۔(ت) |
اور یہاں مرہون کا مشاع یعنی جزء غیر منقسم ہونا اس حکم کا مانع نہ ہوگا کہ رہن مشاع مذہب صحیح پر فاسد ہے اور رہن میں فاسد و صحیح کا حکم واحدہے۔درمختار میں ہے:
|
لایصح رھن مشاع لعدم کونہ ممیزا |
غیر منقسم چیز کا رہن صحیح نہیں کیونکہ رہن ممتاز نہیں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع