30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غلب کذب عنہ او تساویا فلا یقبلھا ای لایصح قبولھا اصلا[1]۔ |
کذب کا ظن ہو یا دونوں پہلو مساوی جانتا ہو تو اس کی شہادت کو قبول نہ کرے یعنی اس کا قبول کرنا ہر گز صحیح نہیں ہے۔(ت) |
لاجرم ظاہر ہوا کہ ورثائے بائع بیع فرضی ثابت نہ کرسکے او را س مقدمہ میں صرف اتنا ہی دیکھنا تھا اس کے علاوہ باقی سب بحثیں زائد و دور از کار ہیں۔
جواب سوال دوم
(۱)ہم اوپر ثابت کرآئے فاطمہ بیگم اس مقدمہ میں اصلًا محتاج گواہان نہیں،نہ اس کے گواہوں سے بحث کی حاجت خلاف قیاس درکنار اگر ان کی گواہیاں بدیہی البطلان ہوتیں مثلًا کہتے سو برس ہوئے یہ بیع ہوگئی یاکل ہوئی تھی جب بھی فاطمہ بیگم کو اس سے نقصان نہ تھا کہ اس کا دعوٰی بیعنامہ مصدقہ مسلمہ فریقین سے آپ ہی ثابت ہے۔
(۲)ذی علم مجوز نے ان کی شہادتیں قابل لحاظ نہ ہونے کی چھ وجہیں ذکر فرمائیں:
(۱)وہ مستور الحال ہیں
(۲)کل زر ثمن ایك مفلس کو قبل تحریر و تصدیق بیعنامہ گھر میں بیٹھ کر دیا گیا۔
(۳)مقر نے دستاویز اپنے نام چھڑائی۔
(۴)وصول ثمن کا اقرار کیا رجسٹرار کے سامنے نہ دیا گیا۔
(۵)فاطمہ بیگم کا قبضہ نہ ہوا۔
(۶)مکان دونی قیمت کو بیچنا لکھا۔
ان میں کوئی وجہ بھی ایسی نہیں جس سے شہادتیں قابل لحاظ نہ ہوں یا حسب بیان فیصلہ بطلان دعوٰی مدعیہ بتائیں وجہ اول تو خود کوئی چیز نہیں،مستو رالحال کی گواہی مطلقًا مردود ہے یا جب خلاف قیاس ہو بر تقدیر اول سعیدہ بیگم وغیرہ کے گواہوں کو بھی فیصلہ میں مستور فرمایا ہے ان کی گواہی کیوں نہ مردود ہوئی،اور بر تقدیر ثانی اس کے لئے وہ وجوہ درکار ہیں جس سے شہادت کاخلاف قیاس ہونا ثابت ہو تو وجوہ آئندہ پر مدار کا ررہا اور وجہ اول نے کچھ فائدہ نہ دیا،ہاں یہ کہ وہ ان کی متمم یعنی عادل کی گواہی اگرچہ خلا ف قیاس ہو مقبول ہے نہ مستور کی تو مدار اسی خلاف قیاس ہونے کے ثبوت پررہا اور وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع