30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بوجہ اپنی بی بی کے ہمارے نام فرضی بیعنامہ کردیا ہے بیچا نہیں ہے یہاں سوال دوم کا جواب تو کھلا ہے کہ ہبہ رہن اجارہ نہیں بلکہ بیعنامہ کیا مگر سوال اول کا جواب اب بھی محض غائب،کچھ نہ کہا کہ مکان کا بیعنامہ کیا ہے یادکان کا یا اسباب یا کا ہے کا،ایسی گول ناصاف،مجمل،مہمل باتیں گواہی میں سن لینا کس شریعت کا حکم ہے حاشا وکلا۔اس کے جواب میں اگر فاطمہ بیگم کہے کہ صغیر ی و عجوبہ سچ کہتی ہیں صادق شاہ نے ایك گھوڑے کا بیعنامہ فرضی میرے نام کردیا تھا بیچانہ تھامیں عورت ذات گھوڑا لے کر کیا کرتی میں نے اس بیعنامہ کا ان سے ذکر کیا تھا،تو یہ گواہ یا انہیں پیش کرنے والے ورثاء یا انہیں قبول فرمانے والے اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔
(۵)اب باقی مردوں کی سنئے ان میں چھٹن میاں علاوہ اور وجوہ کے خود کہتا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے جب سے داڑھی منڈاتا ہوں کبھی کھونٹی بھی آنے ہی نہیں دی تو باقرار خود فاسق معلن بلکہ فسق بالاعلان پر مصر ہے ایسے شخص کی گواہی اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہو مردود ہے پھر اس کا بیان بھی ساختہ ہونے کا شبہہ دلاتا ہے جیساکہ ملاحظہ ظاہر سے واضح ہے۔
(۶)رہ گئے بانکے میان اور سید مجیب شاہ،ان دونوں نے اگرچہ بیعنامہ مکان فرضی ہونے نسبت فاطمہ بیگم کا اقرار بیان کیا مگر اول سے آخر تك سارے اظہار میں کچھ پتہ نہیں کہ کس کا گھر یہاں تك کہ مکان متنازعہ کابھی کہیں لفظ نہیں،ہاں بانکے میاں نے اتنا کہا ہے کہ نشاندہی محلہ پر کرادونگا اور سید مجیب شاہ نے یہ کہ مکان بنادوں گا،دونوں نے بتایا یا نہیں،او ربتایا تو کیا بتایا، کیالفظ کہے،وہ کہاں تك کافی تھے پھر ان دونوں گواہوں کو بھی ذ ی علم مجوز نے مستور لکھا ہے اور وہ فاسق معلن مصر کو بھی مستور لکھتے ہیں معلوم نہیں کہ یہ مستور کس معنی پر ہیں اگر ویسے ہی مستور ہوئے جب تو ظاہر ہے اور اگر حقیقۃً مستور الحال ہوئے تو مستو ر کی گواہی بھی مردود ہے مگر یہ کہ دلائل واضحہ سے اس کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہو اور یہاں انکے صدق پر کوئی دلیل مفید ظن بھی نہیں غلبہ ظن تو بڑی چیز ہے تجویز میں ان پر اعتماد کرنا تھا تو واجب ہوتا کہ ان کے صدق کے غلبہ ظن پر واضح دلائل قائم فرماتے مگر کوئی دلیل نہ دی محض ان کے بیان کا حوالہ دیا کہ ان کی شہادتوں سے فرضی ہونا بخوبی ثابت ہے یہ ہر گز قابل قبول نہیں بلکہ دلائل صدق درکنار ذی علم مجوز نے جو دلائل رد گواہان فاطمہ بیگم کے لئے تحریر فرمائے بعینہا ان گواہوں میں جاری ہیں،جیسا کہ عنقریب واضح ہوگا تو غایت یہ کہ دونوں شقیں محتمل ہوکر صدق وکذب مساوی رہے اور اس صورت میں شہادت مستور ین ہر گز مقبول نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
|
فان لم یغلب علی ظن القاضی صدقہ بان |
اگر قاضی کو اس کی سچائی کا ظن غالب نہ ہو بلکہ اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع