30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آدمی اپنی عورتوں سے ناراض ہوتے ہیں کیا اس سے ان کے تمام انتقالات فرضی ٹھہرجاتے ہیں۔یہ پانچوں فیصلہ میں اصلًا قابل ذکر بھی نہ تھیں ہاں مذکور ہوتیں تو اس طرح کہ فلان فلاں اظہار محض مہمل و بیکار ہیں۔
(۳)شاہنواز خاں نے بیعنامہ فرضی ہونے کی گواہی دی مگر اس طرح کہ مظہر سے صادق شاہ نے خود اقرار فرضی ہونے کا کیا تھا،اس سے ہر گز فرضی ہونا ثابت نہیں ہوتا،یہ تواقرار بائع کا گواہ ہے،اگر خود صادق شاہ بعد تحریر و تصدیق بیعنامہ دعوی کرتا کہ میں نے تو محض فرضی بیع نامہ کردیا ہے کیا قابل سماعت ہوتا،ورنہ ہر شخص بیع کرکے پھر جائے ا ور اس کے فرضی کہہ دینے سے بیع فرضی ٹھہر جائے یہاں اقرار مشتری کا درکار تھا بائع کا اقرار اقرار نہیں بلکہ دعوٰی ہے کہ بے گواہان ہر گز مقبول نہیں بلکہ اکثر صورتوں میں اس کے گواہ بھی مسموع نہیں کہ بیع کرکے فرضیت کا ادعا تناقض ہے اور تناقض والے کا دعوٰی سنا نہیں جاتا۔در مختار میں ہے:لاعذر لمن اقر[1] (اقرار کرنے والے کا عذر معتبر نہیں۔ت)اشباہ وغیرہ میں ہے:
|
من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ[2]۔ |
جو شخص ایسی کا رروائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے جو اس کی طرف سے تام ہوئی ہے تو اس کی یہ کوشش مردود ہوگی۔(ت) |
لہذا یہ شہادت بھی ساقط محض ہے۔
(۴)اب رہے تین مرد اور دو عورتیں جن کے بیان میں فاطمہ بیگم کی طرف سے فرضی کا لفظ آیا ہے اگرچہ محض بے علاقہ اس کا حال یہ ہے کہ ا ن میں عورتوں کی گواہی توصرف ہوا پر ہے جسے انہوں نے محل تنازع سے اصلًا متعلق نہ کیا،پہلے اتنا تو کہا کہ یہ مکان صادق شاہ کا ہے اس کا حال اوپر سن چکے کہ یہ شہادت باطلہ بلکہ کاذبہ ہے اور قرینہ کی ہوتی جب بھی نامسموع تھی،آگے چل کر انہوں نے میاں بی بی اور ساس داماد کا جھگڑا بیان کرکے صرف اتنا کہا کہ صادق شاہ نے آکر فرضی کاغذاپنی بھاوج فاطمہ بیگم کے نام کردیا،کس چیز کاکاغذ کردیا،کیا کاغذ کردیا،مکان یا دکان یا کچھ اسباب،یا کیا،فرضی بیع کردیا یا ہبہ یا رہن یا اجارہ یا کیا،اس کا کچھ پتا نہیں،پھر کہتی ہیں ہم نے فاطمہ بیگم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع