30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مکان متنازعہ زید سے خریدا ہے زید فوت ہوگیا ہے ورثاء زید مکان پر قابض ہیں،دخل دلایاجائے،مدعا علیہم کو بیعنامہ مکان مذکور کا تصدیق کرادینا تسلیم ہے مگر کہتے ہیں کہ بیع فرضی ہوئی تھی،زید نے سعید النساء اپنی زوجہ کے دین مہر اور نان نفقہ کے خوف سے بیعنامہ فرضی کردیا تھا زر ثمن کا دادوستد نہیں ہوا نہ مدعیہ کا قبضہ مکان متنازعہ پر ہوا،مدعیہ کی جانب سے پانچ مرد اور چار عورتوں نے قطعیت بیع اور زر ثمن ادا کرنے کی بابت شہادت دی ہے،مگر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ صرف دو گواہ مدعیہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں ان کی شہادت خلاف قیاس ہے اور مستور ہونے کے سبب ناقابل التفات خلاف قیاس ہونے کی اور بھی وجوہ لکھی ہیں جو نقل فیصلہ میں مذکور ہیں یہ نقل فیصلہ ملاحظہ کے لئے پیش کیاجاتا ہے اب سوال یہ ہے:
(۱)بیع فرضی ہونے کے لئے شرعًا کچھ شرائط ہیں،محض اس قدر شہادت دلوادینے سے کہ عاقدین نے بیع کے بعد اقرار فرضی ہونے کا کیا تھا بیع فرضی ثابت ہوجائیگی،جن جن گواہوں نے یہ شہادت دی ہے ان کو عدالت نے خود مستور الحال لکھا ہے لیکن بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو اپنی سزا یابی سابقہ اور بالفعل اپنی داڑھی منڈوانا تسلیم ہے۔
(۲)جو وجوہ شہادت مدعیہ کی نسبت عدالت نے خلاف قیاس ہونے کے لکھے ہیں کیا وہ شرعًا ایسے ہیں جن سے شہادت ناقابل تسلیم ہوجائے۔
(۳)کیا قاضی کا یہ فعل اس کے فیصلہ پر مؤثر ہوگا کہ بجائے چھ مرد اور چار عورتوں کے صرف دو کا پیش ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کرے حالانکہ مسل میں سب کے بیان موجود ہیں۔
(۴)کیا ایسا فیصلہ حاکم مرافعہ کی عدالت میں شرعًا قابل بحالی ہوسکتا ہے؟
نقل فیصلہ اور نقول بیانات گواہان فریقین عدالت سے باقاعدہ حاصل کرکے پیش کئے جاتے ہیں جواب مرحمت ہو۔والاجر عند اﷲ۔
الجواب:
جواب سوا ل اول
فیصلہ واظہارات فریقین تمام وکمال ملاحظہ ہوئے تنقیحات فقہیہ کے اعتبا ر سے تو یہاں بہت کہنا ہے مگر بتوفیقہ تعالٰی چند مختصر افادات پر اقتصار کریں کہ بعونہ تعالٰی اظہار صواب وایضاح جواب کےلئے اسی قدر بس ہے۔
(۱)اس مقدمہ میں فریقین کو اتفاق ہے کہ زید یعنی سید صادق شاہ نے مکان متنازع فیہ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع