30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار میں ہے:
|
اقر بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذا المال رباعلیہ فان اقام علی ذٰلك بینۃ تقبل،وان کان متناقضالانانعلم انہ مضطر الی ھذا الاقرار شرح وھبانیۃ و حرر شارحھا الشرنبلالی انہ لایفتی بھذا الفرع لانہ لا عذر لمن اقر،غایتہ ان یقال بانہ یحلف المقر لہ علی قول ابی یوسف المختار للفتوی فی ھذہ ونحوھا [1]اھ قلت وبہ جزم المصنف۔ |
ایك شخص نے رسیدمیں درج مال کا اقرار کیا اور اس پرگواہی پائی گئی پھر اقرار کرنیوالے نے دعوٰی کردیا کہ اس میں سے کچھ مال مجھ پر سود ہے اگر اس نے اس دعوٰی پر گواہ پیش کردئے تو یہ شہادت قبول کی جائیگی اگرچہ یہ دعوٰی اس کے اقرار سے مناقض ہے کیونکہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ اس کواس اقرار کے بغیر چارہ نہیں تھا شرح وہبانیہ میں جس کو اس کے شارح شرنبلالی نے تحریر کیا ہے کہ اس پر فتوٰی نہ دیا جائے کیونکہ اقرا رکرنے والے کوکوئی عذر نہیں،زیادہ سے زیادہ یہ کہ جس کے حق میں اس نے اقرار کیا ہے اس سے قسم لی جائے امام ابویوسف کے قول پر جوکہ اس جیسے مسئلہ میں فتوٰی کے لئے مختار ہے۔میں کہتا ہوں اسی پر مصنف نے جزم فرمایا ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں نورالعین سے ہے:
|
فی دعوٰی التلجئۃ یدعی الوارث علی المقرلہ فعلالہ وھو تواضعہ مع المقر فی السر فلذایحلف[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
فرضی بیع کے دعوٰی میں مقرلہ کے خلاف وارثوں کا دعوٰی ہوجاتا ہے کہ اس نے اقرار کرنیوالے سے خفیہ سمجھو تہ کیا ہے اس لئے اس سے قسم لی جائیگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۴۶ تا ۱۴۹: ازریاست رامپور مرسلہ سید صاحب موصوف غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
استفتاء بخدمت فضائل منزلت اعلٰیحضرت مولانا المولوی حافظ حاجی احمد رضاخاں صاحب عم فیضہم !
ہندہ نے بنام سعید النساء وغیرہ پانچ کس ورثاء زیددخلیابی مکان کویوں دعوٰی کیا کہ ہندہ نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع