30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیع کرینگے تو یہ شہادت کافی نہیں کہ ممکن کہ اس قرار داد کے بعد پھر بیع قطعی پر راضی ہولئے ہوں،تو جب تك بعد بیع فریقین متفق نہ ہوں کہ بیع اسی قرار داد فرضی پر ہوئی صرف ایك فریق کے کہنے سے فرضی نہ مانی جائے گی۔یونہی اگر یہ گواہی دیں کہ بعد بیع بائع نے کہا تھا کہ میں نے بیع فرضی کی تویہ بھی کافی نہیں کہ خود بائع اگر موجود ہوتا اور یہ ادعا کرتا مسموع نہ ہوتا جب کہ مشتری اسے تسلیم نہ کرتا خصوصًا جب کہ پیش ازبیع قرار داد فرضی کا ثبوت نہیں،ہاں اگر بعد بیع مشتری کے اقرار فرضیت کو گواہان ثقہ عادل سے ثابت کریں تو مشتری پر حجت ہوگا۔درمختار میں ہے:
|
لو ادعی احدھما بیع التلجئۃ وانکر الاٰخر فالقول لمدعی الجد بیمینہ ولو برھن احدھما قبل ولو برھن فالتلجئۃ [1]، |
اگر ایك نے فرضی بیع کا دعوٰی کیا اوردوسرے نے فرض ہونے کا انکار کیا تو صحیح بیع کہنے والے کی بات اس سے قسم لے کر تسلیم کی جائے گی،اور اگر دونوں میں سے ایك نے گواہی پیش کی تو قبول ہوگی اور اگر دونوں نے گواہی پیش کی تو پھر فرض کہنے والے کی گواہی معتبر ہوگی۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ لو برھن احدھما الاظہر قول الخانیۃ لو برھن مدعی التلجئۃ قبل لان مدعی الجد لایحتاج الی برھان لان البرھان یثبت خلاف الظاہر[2]۔ |
اس کا قول کہ"اگر ایك گواہی پیش کرے تو قبول ہوگی"کا مطلب بقول خانیہ اظہریہ ہے کہ وہ گواہی والا فرضی بیع کا مدعی ہو تو قبول ہوگی کیونکہ صحیح بیع کے مدعی کو دلیل کی ضرورت نہیں اس لئے کہ دلیل سے خلاف ظاہر کو ثابت کیا جاتا ہے۔ (ت) |
اسی میں ہے:
|
فی المنار فان تواضعاعلی الہزل باصل البیع واتفقا علی بناء العقد علی المواضعۃ یفسد |
منار میں ہے کہ دونوں فریق اصل بیع کے فرضی ہونے پر متفق ہوئے اور دونوں سودے کے وقت بھی اسی فرض ہونے پر متفق رہے تو بیع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع