30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فحکم بھا فیما تثبت فیہ اداء لحق العبد کذا فی درر البحار وشرح المجمع [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
شفعہ والا نہیں ہے تو جس حصہ میں شفعہ ہے اس میں شفعہ کا حکم کیا جائے گا تاکہ بندے کا حق اداہوسکے۔دررالبحار اور شرح المجمع میں یونہی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۱۴۵:از ریاست رامپور جولوں والی املی مسئولہ سید محمد شاہ صاحب سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر ان اسپ در بریلی غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
علمائے کرام سے سوال ہے کہ جو اقرار نسبت بیع کسی شے کے محکمہ رجسٹری میں رو برو ایسے رجسٹرار کے جو فقیہ متقی اورقاضی شہر بھی ہو بمعہ گواہان حسب قا عدہ کرکے تصدیق کرادے،اس کے خلاف بعد اس کے انتقال کے اس کے ورثہ شرعًا یہ کہنے کےمجاز ہیں کہ وہ اقرار غیر صحیح اور فرضی تھا یا نہیں،اور ان کا یہ قول شرعًا معتبر ہوگا یاکیا؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ان کا قول معتبر نہیں بلکہ مشتری کہ بیع فرضی ہونے کا منکر ہے اس کا قول معتبر ہے،وارثان بائع کو گواہان شرعی عادل ثقہ سے ثبوت دیناہوگا کہ بیع فرضی تھی اگر ثبوت دے دیں فبہا ورنہ مشتری سے حلف چاہیں تو اس سے قسم لی جائے اگر وہ قسم کھالے کہ بیع فرضی نہ تھی تو ورثاء کا دعوٰی فرضیت رد کردیا جائیگا اور بیع ثابت رہے گی،اور اگر مشتری قسم کھانے سے انکار کردے تو بیع فرضی ثابت ہوگی اور مشتری کو مبیع پر دعوٰی نہ رہے گا۔جامع الفصولین و طحطاوی و ردالمحتار میں ہے:
|
اقرومات فقال ورثتہ انہ اقر تلجئۃ حلف المقرلہ باﷲ لقد اقرلك اقرارا صحیحا[2]۔ |
اقر ار کرکے فوت ہوگیا تو اس کے وارثوں نے کہا کہ میت کا یہ اقرار فرضی تھا اس صورت میں مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار ہے سے قاضی حلف لے کہ کیا تیرے حق میں اسکا اقرار صحیح تھا۔(ت) |
پھر ورثاء بائع اگر صرف اس مضمون کی گواہی دیں کہ قبل بیع بائع و مشتری میں قرار داد ہولیا تھا کہ ہم فرضی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع