30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التسلیم یحکم بصحۃ الرھن ودعوی فساد الرھن لاتقبل بظاہر ماکان فی ید الراھن لانہ لما حکم علیہ باقرارہ بالرھن حمل علی ان الید کانت ید العاریۃ [1]۔ |
مرتہن کو سونپ دیا ہے،گواہ پیش کردئے تو رہن کے صحیح ہونے کا فیصلہ دیاجائے گا،اور ظاہرًا راہن کے قبضہ کی بنا ء پر فساد رہن کا حکم نہ ہوگا اس کے ظاہری قبضہ کو عاریۃً قبضہ پر محمول کیاجائیگا(ت) |
غرض تجویز میں ۱۲تنقیحیں ۶ جانب مدعا علیہما میں چار بیکار او ۲ یقینا بحق مدعا علیہما ثابت ہفتم بحق مدعا علیہ و دہم بحق مدعا علیہا۔
ہفدہم: تنقیح ۹ بے معنی ہے وہ قائم کرنے ہی کی نہ تھی جس کے ثبوت یا عدم سے کسی فریق کو کچھ نفع نہ ضرر،خصوصًا مدعا علیہا پر اس کا بار ثبوت رکھنا تو سخت عجیب تر۔بیع مسماۃ کے نام ہوئی اس کے شوہر نے روپیہ اس کی طرف سے دیا۔گنیشی نے زر ثمن تمام و کمال مشتریہ سے وصول پانے کا اقرار لکھا اب اس بحث کا کیا محل رہا کہ روپیہ مسماۃ کی ملك تھا یا نہیں یہ دلیل ملك ہے جو خلاف کا مدعی ہو ثبوت اس کے ذمہ ہے نہ کہ مدعا علیہا پر،ورنہ تمام بیوع و اجارات سخت دقت میں پڑجائیں ہر مشتری اور ہر مستاجر پر یہ ثبوت پیش کرنا لازم ہوکہ روپیہ اس کی ملك تھا اور یہ لازم بھی کیوں ہو،بالفرض روپیہ اس کی ملك نہ تھا دوسرے کے روپے سے باجازت یا بلا اجازت اس نے خریدی تو اس سے شراءاس کا کیوں نہ رہا،قاعدہ شرعیہ ہے کہ:
|
الشراء اذا وجد نفاذاعلی المشتری نفذ[2]،کما فی الدر المختار وغیرہ۔ |
خریداری جب خرید کرنے والے کے حق میں پائی جائے تو اس پر خریداری کا حکم دیا جائے گا،جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت) |
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
لاتثبت الدار للاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذلایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع |
بیٹے کے اس کہنے پر کہ میں نے باپ کے مال سے خریدا ہے باپ کی ملکیت مکان پر ثابت نہ ہوگی کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے پر یہ لازم نہیں آتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع