30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں گزرا۔
شانزدہم: تنقیح ۸ قابل بحث نہیں،نہ اس کا ثبوت شرع کچھ نافع مدعا علیہ تھا،نہ عدم ثبوتر کچھ مضر،تنقیح ۱۰ وہ قطعًا بحق مدعا علیہ ایسے قطعی ثبوت سے ثابت ہے کہ بکلائے ہل نہیں سکتا تجویز میں اس پر ایك طویل بحث ہے کہ قبضہ مرتہنہ اس کی شہادتوں سے ثابت نہیں مگر یہ بحث محض بیہودہ ودور از کار ہے شہادتوں سے قبضہ مرتہنہ کاثبوت نہ سہی بلکہ یہ فرض کرلیجئے کہ شہادتوں سے راہن کا مرتے دم تك ان مکانوں پر قابض رہنا ثابت ہو جب بھی قبضہ مرتہنہ یقینا ثابت ہے اور ورثۃً راہن کا اس سے انکار مسموع نہیں وہ قبضہ راہن عاریۃً باجازت مرتہنہ سمجھا جائیگا جوہرگز رہن میں مخل نہیں،وجہ یہ کہ گنیشی صراحۃً بیعنامہ میں اقرارکرتا ہے کہ"بدست نوشان بیگم بیع کیا میں نے،اور زر ثمن تمام وکمال بعد صحت عقد بیع ایجاب و قبول طرفین کے مجھ بائع نے مشتریہ مذکورہ سے وصول پاکر قبض و دخل مشتریہ کیا مبیعہ مذکورہ پرکرادیا اور قبضہ ملکیت اپنی سے خارج کرلیا او مشتریہ نے بادائے کل زرثمن مجھ بائع سے قبضہ مالکانہ اپنا مبیعہ مذکورہ پر کرلیا"بعد اس اقرار قطعی کے قبضہ مرتہنہ میں کلام کی گنجائش نہ رہی،نہ اسے کوئی شہادت دینے کی اصلًا حاجت،نہ شہادت سے ثابت نہ ہونا اس ے کچھ مضر،بلکہ قبضہ راہن ثابت ہو تو وہ بھی منجانب مرتہنہ ہے۔جواہر الفتاوٰی امام کرمانی و عقود الدریہ علامہ شامی میں ہے:
|
رھن دارہ واعترف بالقبض الاانہ لم یتصل بہ القبض فاذا تصادقا علی القبض والاقباض یؤخذ باقرارہ[1]۔ |
کسی نے اپنا مکان رہن رکھا اور مرتہن کے قبضہ کا اعتراف کیا لیکن عملًا مرتہن کا قبضہ نہ ہوا تو دونوں نے جب قبضہ لینے اور دینے پر اتفاق کرلیا تو اب راہن کے اقرار کو لیا جائیگا۔(ت) |
نیز ہر دو کتاب مذکور میں ہے:
|
رجل رھن دارہ والراھن متصرف فیہ حتی مات ثم اختلف المرتہن و ورثۃ الراھن انہ کان مقبوضا ام لا فان اقام المرتھن البینۃ علی اقرار الراھن بالرھن و |
ایك شخص نے اپنا مکان رہن رکھا اور خود راہن ہی اپنی موت تك اس میں تصرف کرتا رہا پھر مرتہن او راہن کے ورثاء میں مرتہن کے قبضہ میں ہونے نہ ہونے کا اختلاف ہوا اگر مرتہن نے راہن کے اس اقرار پر کہ اس نے رہن رکھا اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع