30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوازدہم: یہ کمی کہ مدعا علیہ کانام تو عبدالغافر خاں ہے اور ان میں دولھا خاں،اسے یوں پورا فرمایا کہ"اکثر شہادتوں سے ثابت کہ مدعا علیہ کا عرف دولھا خاں بھی ہے"شہادتوں کا ردی حال اوپر گزرا،اگر ان کے علاوہ اور شہادتیں مراد ہیں تو انہوں نے یہ شہادت دی کہ عبدالغافر خاں کو دولھا خاں بھی کہتے ہیں یا یہ کہ دولھا خاں جہاں لکھا اس سے یہی عبد الغافر خاں مراد ہیں،اور اگر یہی شہادتیں مراد تو سخت عجب۔شہادتوں پر اعتما دبذریعہ شہادت تحریری یعنی رسیدات مذکورہ ہوا،اب ان رسیدات پر اعتماد ان شہادتوں سے ہوکھلا دَور ہے۔
سیزدہم: منجملہ زر اصل ایك ہزار کا عبدالغافر خاں کو پہنچنا ولی خاں و غفران کی شہادتوں سے(جن کا حال اوپر گزرا)ثابت ماننا اور رسید ورقعہ یقینًا تحریر عبدالغافر خاں جاننا مگر اس بنا پر کہ رقعہ بے رجسٹری ہے لہذا بموجب فلاں دفعہ قانون رجسٹری ریاست ثبوت میں لینے کے قابل نہیں اس کی ڈگری نہ دینا سخت عجب ہے بحکم دفعہ رقعہ ثبوت میں لیا جانا نہ سہی شہادتوں کا ثبوت کدھر گیا اگر شہادتیں قابل قبول نہ تھیں ان سے ثبوت ماننا کیا معنی اور مقبول تھیں تو ان پر عمل نہ کرنا یعنی چہ،یہ شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف ہے،ہاں یوں کہنا تھا کہ شہادتیں ان وجوہ سے(کہ ہم نے فتوٰی میں بیان کیں)باطل ہیں اور کوئی رقعہ بے شہادت نہیں لیا جاسکتا خصوصًا اس میں نقص قانونی بھی ہے لہا ہزار کا پہنچنا اصلًا ابت نہیں تو بات صحیح ہوتی۔
چاردہم: تنقیح ۵ خود فیصلہ نے بحق مدعیان ثابت نہ مانی،تنقیح ۲ کو تین دلیلوں سے ثابت گمان کیا جن میں دو بے علاقہ محض ہیں اور ایك باطل،اول بیع وفا حکم رہن میں ہے اور مرہون کا کرایہ اور دیگر محاصل حق راہن اور قابل مجرائی بزر رہن ہے،حکم شرع یہ ہے کہ مرتہن بے اجازت راہن شخص ثالث کو کرایہ دے تو کرائے کا مالك مرتہن ہے ہر گز وہ ملك راہن نہیں،ہاں اس کے حق میں خبیث ہے تصدق کردے یا راہن کو دے دے اگر حق راہن ہوتا تصدق کا حکم کیونکر ہوسکتا۔فتاوٰی قاضیخان و فتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
|
ان اٰجر المرتہن من اجنبی وکانت الاجارۃ بغیر اذن الراھن یکون الاجر للمرتہن یتصدق بہ[1]۔(ملخصًا) |
رہن لینے والے نے مکان کو رہن رکھنے والے کی اجازت کے بغیر کسی تیسرے شخص کو کرایہ پردے دیا تو اجرت و کرایہ مرتہن(رہن لینے والے)کا ہوگا اور اس کو صدقہ کردے گا (ملخصًا)۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع