30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو یہ ظاہر کرہرہے ہیں کہ ان کا باپ احمق تھا عقل ان کو ہے،یہ ہے دعوٰی اور یہ ہیں گواہیاں۔
تجویز و فیصلہ
اس کی نسبت کچہ کہنے کی حاجت نہیں اولًا: سر ے سے دعوٰی ہی صحیح نہیں اور جب دعوٰی صحیح نہ ہو تو مدعا علیہ سے جواب بھی نہیں لیا جاتا،نہ کوئی کارروائی چلے،شہادتیں گزریں اور غیر صحیح دعوٰی کی ڈگری ہو یہ سراسرباطل ہے۔درمختا رمیں ہے:
|
یسأل القاضی لامدعی علیہ عن الدعوی بعد صحتہا والاتصدر صحیحۃ لایسأل [1]۔ |
صحت دعوٰی کے بعد قاضی مدعا علیہ سے پوچھے اور اگر دعوٰی صحیح نہیں تو مدعا علیہ سے کچھ نہ پوچھے۔(ت) |
ثانیًا:گواہیاں باطل ہیں اور مدعا علیہ کا اقرار یا نکول نہ ہونا بدیہی تو قضا کی رہا مسدود اور حکم باطل ہیں۔فتاوٰی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر میں ہے:
|
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول[2]۔ |
قاضی صرف حجت و دلیل کی بناء پر فیصہ دے سکتا ہے اور حجت تین چیزیں ہیں:گواہی،اقرار اور قسم سے انکار۔(ت) |
باینہمہ اجمالًا دو ایك حرف اس کے متعلق بھی لکھنا مناسب کہ تفصیل ایك مستقل رسالہ ہوگی،دو۲ وجہیں یہ ہوئی۔
سوم: تنقیح نمبر۱ کو بربنائے شہادت موتی شاہ و وزیر خاں بحق مدعیان ثابت ماننا صراحۃً باطل ہے،ردشہادات میں اس کابیان مفصل گزرا۔
چہارم: تنقیح نمبر۲ونمبر۳ کی نسبت رجویز کو خود اقرار ہے کہ شہادت سے اس کاثبوت ناممکن ہے پھر محض اس بنا پر کہ مدعا علیہ مسلمان معزز ذی علم ہے ان کو بحق مدعیان مان لینا سراسر خلاف انصاف ہے یوں تو اہل علم و معززین پر کفار وفجار کے دعوٰی سود ہمیشہ بے شاہدت مسموع ہوجائیں گے زید کو ہزاروں روپے دے دین اور خالد مسلمان ذی علم پر دعوٰی کردیں کہ زید اس کا علاقہ ار ہے اصل میں سودخالد نے لیا اور مسلم و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع