30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ افزوں کاسلسلہ منتظم رہے اور ہر رقم حال پر معاینہ بھی اقرار بھی اور(٭٭)رقم اخیر کے سواسب کی گواہ رسید بہی بھی پھر تحریر رسید بھی پڑھواکر سننا بعید نہیں،جاہل ناخواندہ کو ایساہی چاہئے کہ نوشتہ دائن پر اطمینان ہومگر ہوشیار بنیا کسی اپنے قریب یا نوکر یا دوست ہندو پر اعتماد نہیں کرتا التزام کے ساتھ مسلمان ہی سے پڑھواتا ہے اگرچہ اس سے شناسائی نہ ہو،یہ اسی شہادت علم المسلم کےلئے ہے،پھر یہ حضرات اگرچہ اپنے ذاتی معاملات اگرچہ قریب کے بالکل بھولے ہوئے ہوں ہر بات کا جواب یاد نہیں سے ہو لیکن اس اصول کا معاملہ مدت تك پورا یاد رکھتے ہیں سابق کی رقم الگ،حال کی الگ،مجموعہ کی الگ،وقت الگ،پھر جو کوئی پوچھتا ہے کہ یہ روپیہ کیسا دیا اور بنیا سود بتاتا ہے یہ سوال جواب عبدالغافر خاں کے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے کسی نے اس کے سامنے نہ پوچھایہ اسلئے کہ سامنے اگر عبدالغافر خاں اس کا رد کرتا بات بگڑتی اور اگر قبول کرا یا ساکت رہتا کہ وہ بھی قبول ہے تو اس کا خلاف ہوتا کہ تحفظ شان علم کے لئے اخفا چاہا،اہل انصاف دیکھیں ایسی ہوشیاری کے ساتھ سلسلہ بہ سلسلہ ایك سلك میں منسلك کی ہوئی ترتیب وارگواہیاں کبھی سنی ہیں جن کی لائن چپراسی،مذکوری،فیلبان،گاڑی بان،باجہ فروش کنکیاساز، محصلان سود،بنیوں کی خدمتی،چار چار چھ چھ روپے کے نوکرجاہل ناخواندے مل کر اس خوبصورتی سے بنارہے ہیں،اس سے بڑھ کر تحری صدق اور کیا ہوگی اور اس پر پوری رجسٹری اس نے کردی کہ رقومات میں جو اغلاط مدعیوں سے واقع ہوئے سب گواہ اسی ڈگرپر چلے ہیں غلطی کےلئے کوئی معیار نہیں ہوتامدعیوں سے غلطیاں ہوئی تھیں اور بالفرض سب شاہد بھی کرتے جدا جدا اغلاط ہوتے،کسی نے کہیں غلطی کی کسی نے کہیں،یہاں یہ نہیں بلکہ وہی غلطیاں انہیں مواقع پر ہیں جس کے ظاہر کہ سب ایك سانچے کے ڈھلے ہوئے ہیں،لطف یہ کہ پان ہزار کب کے ادا ہوچکے اس کے بعد بنیاد برسوں نئی رقمیں خوشی خوشی دے رہا ہے یہاں تك کہ(٭٭)تقریبا تین ہزار روپے زیادہ پہنچاتا ہے ستمبر ۱۱ تك ہی پانچہزار سے(٭٭) زیادہ جاچکے تھے زراصل سے ایك حبہ باقی نہ رہا تھا،مگر جنوری ۱۳ میں ایك ہزار منجملہ زراصل بھیجتا ہے مگر اسے معلوم نہ تھا کہ نوشان بیگم کے نام اور مولچند کے کرایہ کی آڑ میں فرضی ہیں میرا اصل معاملہ عبدالغافر خاں سے ہے وہ سود لے رہے ہیں اور سود ناجائز ہے جو دیا جائے رقم اصل میں مجراہونا لازم ہے اب میں کا ہے ہزار بھیجتا ہوں اور ان کا بھی منجملہ کہتا ہوں اور کاہے پر اور رقمیں دئے چلاجاتا ہوں،اگر مدعیوں اور گواہوں کے بیان سچ ہوتے تو ضرور پانچ ہزار پہنچتے ہی بنیا ہاتھ روك لیتا،مدعا علیہ نہ مانتا تو کچہریوں کے دروزے کھلے تھے جو نالش اب ہوئی وہی کرتا اور دستاویزیں واپس لیتا او رایك پیسہ زیادہ نہ دیتا مگر وہ عمر بھر غفلت میں لٹتا رہتا اور بحکم آنکہ پدر اگر نتواند پسرتمام کندیہ تمام تحقیقیں تدقیقیں پچھلی مت میں اپنے بیٹوں کےلئے چھوڑجاتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع