30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی البزدوی الصغیر اذااستیقن انہ خطہ وعلم انہ لم یزد فیہ شیئ بان کان مخبوأعندہ وعلم بدلیل اٰخرانہ لم یزد فیہ لکن لایحفظ ماسمع فعندھما لا یسعہ ان یشھد،وعند ابی یوسف یسعہ وما قالہ ابو یوسف ھو المعمول بہ وقال فی التقویم قولھما ھو الصحیح،جوہرۃ[1]۔ |
بزدوی صغیر میں ہے جب اس کو یقین ہو کہ یہ خط اس کا ہے اور یہ معلوم ہوکہ اس میںکوئی زیادہ نہیں کی گئی اور وہ خط اس کے پاس بند تھا اور دیگر دلائل سے بھی معلوم ہوا کہ اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی لیکن خط کا سنا ہوا مضمون یاد نہیں رہا تو طرفین کے نزدیك اس صورت میں شہادت دینے کی گنجائش نہیں اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ کے ہاں اسے شہادت دینا جائز ہے،اور ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی نے جو فرمایا وہی معمول بہ ہے اور تقویم میں فرمایا کہ طرفین رضی اﷲتعالٰی عنہما کا قول صحیح ہے جوہرہ(ت) |
قول امام ثانی پر اگرچہ فتوٰی دیا گیا مگر وہ اس صورت میں ہے کہ گواہ حاکم کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ اپنا لکھا دیکھ کر گواہی دے رہا ہوں اساظہار کے بعد بالاتفاق اس کی شہادت مقبول نہیں۔بحرالرائق وطحطاوی علی الدرالمختار وعالمگیریہ میں ہے:
|
ثم الشاہد اذااعتمد علی خطہ علی القول المفتی بہ وشھد فللقاضی ان یسألہ ھل تشھدعن علم او عن خط ان قال عن علم قبلہ وان قال عن الخط لا[2]۔ (ملخصًا) |
پھر گواہ کو جب اپنے خط پر اعتماد ہے کہ اسی کا ہے اور گواہی دی تو مفتٰی بہ قول میں جائز ہے،لیکن قاضی اس سے سوال کرے کہ تو اپنے علم کی بناء پررشہادت دے رہا ہے یا خط کی بناء پر اگر وہ یہ کہے کہ اپنے علم کی بناء پر شہادت دے رہا ہوں،تو شہادت کو قبول کرلے،او اگر وہ کہے کہ خط کی بنا پر دے رہا ہوں توع قبول نہ کرے۔(ملخصًا)۔(ت) |
تنبیہ:یہاں جو نقول سادہ اظہار محمدرضاخاں،مظہر حسین آئیں ان میں اظہار محمدر ضا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع